میرا ناقابل ترجمہ نام
یہ ایک قدیم اور منفرد نام ہے جس کا نہ تو آسانی سے تلفظ کیا جاسکتا ہے اور نہ ترجمہ، بج میرے والدین کے لیے ایک علامت تھا، فرق کی، شناخت کی اور مزاحمت کی
یہ ایک قدیم اور منفرد نام ہے جس کا نہ تو آسانی سے تلفظ کیا جاسکتا ہے اور نہ ترجمہ، بج میرے والدین کے لیے ایک علامت تھا، فرق کی، شناخت کی اور مزاحمت کی
برتھا صرف ایک سواری نہیں تھی، وہ ہمارے خاندان کا متحرک کمانڈ سینٹر اور پناہ گاہ تھی، جس میں ہم روزمرہ کی مصروفیات اور حبس سے بچ نکلتے
اس کے بڑے سینگوں میں ٹہنیاں اور پتے اٹکے ہوئے تھے، وہ میرے والد سے بھی اونچا اور گھوڑے سے بڑا تھا، اس کی ٹانگیں میرے جسم سے دوگنی لمبی تھیں
وائزمین ایسے فلم ساز تھے جنھوں نے مشاہدے کو فن کی معراج تک پہنچایا، ان کی فلمیں انسانی زندگی کے پیچیدہ مناظر کھول دیتی تھیں
بیٹیاں بارہ سال کی عمر کو پہنچتی ہیں تو وہ انھیں تہہ خانے میں لے جاکر اس خفیہ علم کی تربیت دیتی ہے
جیلر رات کے وقت قیدیوں کو آزادی کا موقع دے کر جنگل میں بھاگنے دیتا ہے اور پھر بندوق سے ان کا شکار کرتا ہے
فلم کے بارے میں مختلف لوگ مختلف باتیں کرتے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ مکمل ہوگئی تھی، کچھ کہتے ہیں کہ یہ ادھوری رہ گئی، اور کچھ کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا
ایران میں انقلاب آیا اور ہم نے سب کچھ کھودیا، گھر، کاروبار، جڑیں، اور وہ شناخت جس پر ہمیں فخر تھا
وہ محض تفریح کا مرکز نہیں بلکہ ایک سماجی علامت تھی، ایسا مقام جہاں موسیقی، رقص، کھیل اور ملاقاتیں سب اکٹھے ہوتے تھے
جو شخص برسوں تک چار فٹ سے کم رہا، وہ چند سال میں اوسط قد والوں سے لمبا ہوگیا
یہ لوگ ظاہری طور پر مسلمان زندگی گزارتے ہیں لیکن اندرونی طور پر ان کے اپنے خفیہ عقائد اور رسومات ہیں
جنگ کا نواں دن ہے۔ سیاہ دھوئیں کے ستون افق کو تاریک کررہے ہیں۔ میں اس خوف سے جلدی جلدی لکھ رہا ہوں کہ کسی بھی لمحے مارا جاسکتا ہوں
حالات حاضرہ
دوائیں، طبی آلات اور بنیادی سہولتوں کی شدید کمی نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا ہے جہاں عام بیماریاں بھی جان لیوا بن رہی ہیں
حالات حاضرہ
تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر زرعی پیداوار پر پڑتا ہے کیونکہ جدید زراعت مکمل طور پر توانائی پر انحصار کرتی ہے
حالات حاضرہ
جنگ کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہورہے ہیں، سیاحت متاثر ہورہی ہے اور بعض بڑے منصوبے سست یا منسوخ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں
حالات حاضرہ
نئے منظرنامے میں اصل طاقت ایک محدود لیکن انتہائی بااثر حلقے کے پاس ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر جرنیل شامل ہیں۔ یوں ایران میں طاقت کا مرکز مذہبی اداروں سے ہٹ کر عسکری اداروں کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دیتا ہے