فٹبال ورلڈکپ اور ریاضی کا دلچسپ مسئلہ

میدان کی مکمل نگرانی کے لیے کم از کم کتنے کیمرے درکار ہوتے ہیں اور انھیں کہاں نصب کیا جانا چاہیے، اس سوال کا بالکل درست جواب دینا کمپیوٹر کے لیے بھی ممکن نہیں

فٹبال ورلڈکپ اور ریاضی کا دلچسپ مسئلہ

مینن بشوف

میں تصور کرسکتا ہوں کہ فٹبال ورلڈکپ کے دوران اسٹیڈیموں اور گھروں میں کتنی آوازیں گونجیں گی، یہ ریفری کا غلط فیصلہ تھا!، یہ فاؤل نہیں تھا!، دوسری ٹیم کو پنالٹی ملنی چاہیے تھی۔

خوش قسمتی سے اب ویڈیو ری پلے کی سہولت موجود ہے جس کی مدد سے ریفری کے فیصلوں کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ البتہ یہ ٹیکنالوجی خود بھی شائقین کے درمیان بحث و مباحثے کو جنم دیتی ہے۔ لیکن میری دلچسپی ایک اور پہلو میں ہے۔ وہ کیا کیلکولیشن ہے، جو ویڈیو شواہد اور ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کے پیچھے کام کرتی ہے۔

حال میں ایک ساتھی نے مجھ سے بظاہر سادہ سوال پوچھا، فٹبال کے میدان کی مکمل اور درست نگرانی کے لیے کم از کم کتنے کیمرے درکار ہوتے ہیں اور انھیں کہاں نصب کیا جانا چاہیے تاکہ کھیل کا ہر لمحہ ریکارڈ ہوسکے؟

پہلی نظر میں یہ سوال آسان لگتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کا جواب حیرت انگیز طور پر پیچیدہ ہے۔

ریاضی میں اس قسم کے مسئلے کو "آرٹ گیلری مسئلہ" کہا جاتا ہے۔ 1973 میں ریاضی دان واسلاو خواتال نے اپنے ساتھی وکٹر کلی سے جیومیٹری کا کوئی مسئلہ پوچھا تو اس نے جواب دیا، یہ معلوم کرو کہ کسی آرٹ گیلری کی نگرانی کے لیے کم از کم کتنے محافظ درکار ہوں گے۔

یہ ایک کلاسیکی مسئلہ ہے جس کا جواب گیلری کی شکل پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر کمرا مستطیل ہو اور درمیان میں کوئی ستون یا رکاوٹ موجود نہ ہو تو نظریاتی طور پر ایک محافظ کافی ہوسکتا ہے۔ وہ کمرے کے ایک کونے میں کھڑا ہوکر پورے ہال پر نظر رکھ سکتا ہے۔

لیکن جیسے ہی جگہ کی ساخت پیچیدہ ہوجائے، مسئلہ بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ 1975 میں خواتال نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں ثابت کیا گیا کہ اگر کسی کمرے کے n کونے ہوں تو اس کی نگرانی کے لیے زیادہ سے زیادہ n/3 محافظ کافی ہوتے ہیں، بشرطیکہ جواب کو ضرورت پڑنے پر نیچے کی طرف مکمل عدد میں تبدیل کیا جائے۔

اس تصور کو سمجھنے کے لیے فرض کریں کہ پورے کمرے کو چھوٹی چھوٹی مثلثوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ ہر مثلث کے سرے کمرے کے کونوں سے ملتے ہیں۔ اب اگر ان کونوں کو تین مختلف رنگوں، مثلاً سرخ، نیلے اور سبز سے اس طرح رنگا جائے کہ ساتھ والے دو کونے ایک ہی رنگ کے نہ ہوں، تو صرف ایک رنگ کے تمام کونوں پر محافظ تعینات کرکے مکمل نگرانی کی جاسکتی ہے۔

اگرچہ یہ طریقہ ایک قابلِ عمل حل فراہم کرتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ یہی بہترین حل ہو۔ دراصل کسی بھی پیچیدہ شکل والے کمرے کے لیے محافظوں کی کم سے کم تعداد اور ان کی درست جگہوں کا تعین کمپیوٹر سائنس کے مشکل ترین مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ ماہرین اسے NP-Complete مسئلہ کہتے ہیں، یعنی ایسا مسئلہ جسے حل کرنا غیر معمولی طور پر دشوار ہے۔

اب فٹبال کے میدان کی طرف واپس آتے ہیں۔ میدان کی شکل نسبتاً سادہ ہوتی ہے یعنی مستطیل۔ نظریاتی طور پر اگر کسی کونے میں ایسا کیمرا لگا دیا جائے جس کا زاویۂ نظر کم از کم 90 درجے ہو تو وہ پورا میدان دیکھ سکتا ہے۔

لیکن خالی میدان کی فلم بندی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب 22 کھلاڑی میدان میں حرکت کررہے ہوں، دوڑ رہے ہوں اور ایک دوسرے کے سامنے آکر منظر کو چھپا رہے ہوں۔ یہی چیز مسئلے کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنادیتی ہے۔

فرض کریں کہ ابتدا میں تمام 22 کھلاڑی اپنی جگہ ساکت کھڑے ہیں۔ ریاضی کی زبان میں یہ ایسے ہی ہے جیسے آرٹ گیلری میں 22 ایسے مقامات موجود ہوں جن کے پیچھے محافظ یا کیمرا نہیں دیکھ سکتا۔ ریاضی دان ہیمنشو کول اور ینگ جو نے 2009 میں ثابت کیا کہ اس صورت میں دس محافظ یا دس کیمرے کافی ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے اس کے لیے ایک پیچیدہ ریاضیاتی طریقہ استعمال کیا جس میں پورے علاقے کو مختلف کثیرالاضلاع شکلوں میں تقسیم کیا گیا اور پھر ان کے درمیان روابط کا تجزیہ کیا گیا۔ البتہ ان کا حل بھی صرف ایک ممکنہ حل تھا۔ یہ ضروری نہیں کہ یہی سب سے کم تعداد ہو۔ ممکن ہے اس سے بھی کم کیمرے کافی ہوں۔

حقیقی دنیا میں مسئلہ اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے کیونکہ کھلاڑی مسلسل حرکت کررہے ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ فٹبال ٹو ڈائیمنشنل کھیل نہیں۔ گیند اکثر ہوا میں بلند ہوتی ہے اور کھلاڑی بھی اچھلتے کودتے ہیں، اس لیے منظر تھری ڈائیمنشنل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ریاضیاتی ماڈل میں فرض کیا جاسکتا ہے کہ محافظ ہر سمت دیکھ سکتا ہے، لیکن حقیقی کیمروں کی اپنی حدود ہوتی ہیں۔ ان کا زاویۂ نظر محدود ہوتا ہے اور وہ 360 درجے میں ہر چیز نہیں دیکھ سکتے۔

ان تمام عوامل کی وجہ سے مسئلہ اتنا پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے عموماً کمپیوٹر پر مبنی تجزیوں اور سمیولیشنز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان طریقوں سے مخصوص حالات کے لیے اچھے اندازے تو لگائے جاسکتے ہیں، لیکن کوئی ایسا عمومی فارمولا موجود نہیں جو بتاسکے کہ کامل نگرانی کے لیے کتنے کیمرے اور کس جگہ درکار ہوں گے۔

عملی طور پر منتظمین تجربے اور سابقہ میچوں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر انحصار کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے فٹبال میچوں کی کوریج کی جارہی ہے، اور اسی تجربے نے یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ کیمروں کو کہاں لگانا چاہیے۔

قطر میں ہونے والے گزشتہ ورلڈ کپ میں میدان پر موجود 22 کھلاڑیوں کی نگرانی کے لیے مجموعی طور پر 42 کیمرے استعمال کیے گئے تھے۔ ان میں آٹھ سپر سلو موشن اور چار الٹرا سلو موشن کیمرے بھی شامل تھے۔

فیفا نے کبھی تفصیل سے یہ نہیں بتایا کہ اتنے زیادہ کیمروں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے، لیکن غالباً مقصد یہ ہوتا ہے کہ میدان کے ہر حصے کو زیادہ سے زیادہ مؤثر انداز میں کور کیا جاسکے۔ چونکہ فیفا کے پاس وسائل کی کمی نہیں، اس لیے اسے کیمروں کی تعداد کم رکھنے کی فکر نہیں ہوتی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر کیمرے گول پوسٹوں کے قریب اور میدان کے وسط میں نصب کیے جاتے ہیں، کیونکہ کھیل کے اہم اور سنسنی خیز لمحات عموماً وہیں رونما ہوتے ہیں۔

البتہ چھوٹے کلبوں اور مقامی تنظیموں کے لیے مسئلہ صرف کیمروں کی تعداد کا نہیں ہوتا۔ ان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ کیمرے درست طریقے سے نصب، ترتیب اور کیلی بریٹ کیے جائیں تاکہ ویڈیو شواہد قابلِ اعتماد رہیں۔ یہ کام ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔

اس لیے اگر آپ ورلڈکپ کے دوران کسی پرستار کو ویڈیو ریویو سسٹم پر غصہ کرتے ہوئے سنیں تو شاید آپ اسے یہ بتا کر مطمئن کرسکیں کہ اس کے پیچھے صرف ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ بھی موجود ہے۔


مینن بشوف کا انگریزی مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

Scientific American: World Cup camera coverage poses a moving math puzzle