اطالوی افسانہ، ایک کچھوے سے مکالمہ
جب بھی دونوں کی ملاقات ہوتی، کچھوا پالومار صاحب کے دماغ میں داخل ہوجاتا اور اپنی سست رفتار لیکن مستقل مزاجی سے چلتا رہتا، اور یوں پرانے خیالات اپنی سابقہ صورت میں باقی نہ رہتے
جب بھی دونوں کی ملاقات ہوتی، کچھوا پالومار صاحب کے دماغ میں داخل ہوجاتا اور اپنی سست رفتار لیکن مستقل مزاجی سے چلتا رہتا، اور یوں پرانے خیالات اپنی سابقہ صورت میں باقی نہ رہتے
فکشن
وہ عمارت دو زندگیاں جیتی تھی، شام تک ریسٹورنٹ اور رات بھر اسٹرپ کلب، میری ماں کھانے کا انتظام سنبھالتی تھی اور گلوریا کلب چلاتی تھی
فکشن
میں نے گھر کا دروازہ اچھی طرح بند کیا اور چابی گٹر میں پھینک دی، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی غریب آدمی چوری کا سوچ کر اس گھر میں گھس جائے
فکشن
قصبے کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر کونسل نے وہیں ایک یادگار تعمیر کروائی، جو ہمارے قصبے کا جیتا جاگتا نمونہ تھی، یعنی ایسا قصبہ، جو نقل بمطابق اصل تھا
فکشن
وہ ٹرالی پوری رات شیلفوں کے درمیان راہداریوں میں گھومتی رہتی تھی، ایک ستارے کی طرح خاموش اور دھیمی، کبھی کسی چیز سے ٹکراتی نہیں تھی، اور کبھی رُکتی نہیں تھی
فکشن
ایک یتیم لڑکے نے، جو نو یا دس برس کا تھا، شرارتاََ سیڑھیوں پر کھڑے ہوکر تازہ رنگی ہوئی ریلنگ کے اوپر ایک پروں والا تکیہ پھاڑ دیا، پر ہوا میں تیرتے ہوئے نیچے آئے اور تازہ رنگ سے چپک گئے
فکشن
اس کا نام پروانہ ہے اور وہ کتابیں لکھتی ہے، اس کا نام بینظیر ہے اور لوگ اسے بینی کہتے ہیں، اس کا نام یسریٰ ہے، وہ شام سے، ترکی سے، یونان سے، فرانس گئی، اس کا نام نورجان ہے اور وہ ایک نظم بن گئی
فکشن
گاؤں پہنچنے پر اس نے ایک بھینس کو کھیت کے کنارے گھاس چرتے دیکھا تو چیخ کر کہا، ستاسی روپے، چار آنے، اور دلال کے دس پیسے
فکشن
شیاوہو رات بھر روتا رہا، وہ تب خاموش ہوا جب صبح کا اجالا پھیلا، میرے بہنوئی نے کہا، شاید والد تمھارے ساتھ یہاں آگئے تھے، رات بھر وہ شیاوہو کے ساتھ کھیلتے رہے ہوں گے
فکشن
اسے یقین نہیں آرہا تھا، رابرٹ اتنا بے حس ہوسکتا ہے کہ اسی صبح، لاش ٹھنڈی ہونے سے پہلے ہی، اس کا سامان سمیٹنا شروع کردے
فکشن
باپ چار سال تک سوتا رہا، ماں تاریخی سفر سے واپس نہیں آئی تھی، ملک دشمنوں سے حالت جنگ میں تھا، بچوں نے امید ظاہر کی کہ جنگ ختم ہوگی تو انھیں کچھ کھانے کو مل سکے گا
فکشن
میں اسم واحد تھا، ایک لڑکا، کیونکہ میں اپنی نسل کے ایک نمونے کا اظہار تھا، لیکن اب گرامر کے لحاظ سے میری حیثیت وہ نہیں رہی، میں تجریدی اسم بن چکا ہوں
کچھ لکھیں...