اسپیس ایکس کے عوامی شئیرز کا تاریخ ساز اجرا، مسک پہلے ٹریلینر
کمپنی کے حصص کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ عام لوگوں کے لیے مختص کیا گیا، انفرادی سرمایہ کاروں نے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے آرڈرز دیے
ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس کے عوامی شئیر کا تاریخ ساز اجرا ہوا ہے جس کے بعد امکان ہے کہ ایلون مسک دنیا کے پہلے ٹریلینر بن جائیں گے۔ کمپنی نے آئی پی او یعنی ابتدائی عوامی پیشکش میں 75 ارب ڈالر حاصل کرکے سب سے زیادہ سرمایہ جمع کرنے کا نیا ریکارڈ بنادیا ہے۔
اسپیس ایکس نے اپنے 55 کروڑ 56 لاکھ شیئرز 135 ڈالر فی حصص قیمت پر فروخت کیے۔ یہ صرف 4 فیصد شئیرز تھے، جس کے نتیجے میں کمپنی کی مجموعی مالیت تقریباً 1770 ارب ڈالر تک جاپہنچی۔ یہ مالیت کئی بڑی کمپنیوں کے برابر یا ان سے بھی زیادہ سمجھی جارہی ہے۔ ان شئیرز کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ سرمایہ کاروں نے دستیاب حصص سے تین گنا زیادہ آرڈرز دیے۔
اسپیس ایکس کی کامیابی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ کمپنی نے خلائی راکٹوں، سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو یکجا کرکے ایک ایسا کاروباری ماڈل تشکیل دیا ہے جسے سرمایہ کار مستقبل کی معیشت کا اہم ستون سمجھ رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق کمپنی اس سرمائے کو نئے سیٹلائٹ نیٹ ورکس، مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور دوسرے بڑے منصوبوں پر خرچ کرنا چاہتی ہے۔
اس آئی پی او کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ تھی کہ ایلون مسک نے روایتی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ عام لوگوں کو بھی نمایاں حصہ دینے کی کوشش کی۔ رپورٹس کے مطابق انفرادی سرمایہ کاروں نے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے آرڈرز دیے اور فروخت ہونے والے حصص کا 20 سے 25 فیصد حصہ ان کے لیے مختص کیا گیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسپیس ایکس کا اسٹاک SPCX کے نام سے نیسڈیک میں ٹریڈ ہونا شروع ہوا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدائی دنوں میں اس کے حصص میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں عام سرمایہ کار اس میں شریک ہیں۔ بینکوں اور انڈر رائٹرز نے قیمت کو مستحکم رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔
اسپیس ایکس نے روایتی طریقہ کار کے برعکس حصص کے لیے قیمت کا کوئی ابتدائی رینج دینے کے بجائے آغاز ہی سے 135 ڈالر فی شیئر کی حتمی قیمت مقرر کی۔ اس حکمت عملی کا مقصد قیمت کے بارے میں قیاس آرائیوں اور غیر ضروری ڈرامائی صورت حال سے بچنا تھا۔ لیکن بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کمپنی نے مارکیٹ کو قیمت کے تعین میں روایتی کردار ادا کرنے کا موقع نہیں دیا۔
اسپیس ایکس کی فہرست بندی کا ایک اور اہم پہلو اس کا مصنوعی ذہانت سے تعلق ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق کمپنی مستقبل میں خلا میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں پر غور کررہی ہے۔ ایلون مسک کا مؤقف ہے کہ زمین پر توانائی کی محدود دستیابی کے مقابلے میں خلا میں قائم انفرااسٹرکچر زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ ابھی ابتدائی تصور کی سطح پر ہے، لیکن اس نے سرمایہ کاروں کو متاثر کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسپیس ایکس کے آئی پی او کی کامیابی صرف ایک کمپنی کی کامیابی نہیں بلکہ پورے ٹیکنالوجی سیکٹر کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ مصنوعی ذہانت کی دو بڑی کمپنیاں، انتھروپک اور اوپن اے آئی، بھی عوامی شیئر فروخت کرنے کی تیاری کررہی ہیں۔ سرمایہ کار اب اسپیس ایکس کی کارکردگی کو اس پیمانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کی بنیاد پر آنے والے مہینوں میں ان کمپنیوں کے آئی پی اوز کا اندازہ لگایا جائے گا۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ اسپیس ایکس کی موجودہ مالیت اس کی حقیقی مالی کارکردگی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ کمپنی نے گزشتہ سال تقریباً 18.7 ارب ڈالر آمدنی حاصل کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ تھی، لیکن اسی دوران اسے تقریباً 4.9 ارب ڈالر کا خسارہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا مستقبل کے وعدے اور امکانات واقعی اتنی بلند مالیت کو جواز فراہم کرتے ہیں؟
اس بحث کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایلون مسک نے ایک مرتبہ پھر سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ اگر اسپیس ایکس کے حصص ابتدائی دنوں میں نمایاں اضافہ دکھاتے ہیں تو ایلون مسک کی ذاتی دولت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ فوربس میگزین کے مطابق اگر پہلے دن اسپیس ایکس کے شئیر کی قیمت صرف تین ڈالر بڑھ جائے تو مسک دنیا کے پہلے ٹریلینر بن جائیں گے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اسپیس ایکس کا آئی پی او محض ایک مالیاتی لین دین نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خلائی صنعت کے مستقبل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایلون مسک سرمایہ کاروں کے بلند توقعات پر پورا اتر سکیں گے؟ اگر وہ کامیاب رہے تو یہ تاریخ میں ایک نئے معاشی دور کے آغاز کے طور پر یاد رکھا جائے گا، اور اگر ناکام رہے تو اسے ٹیکنالوجی کی دنیا کا سب سے بڑے جوا کہا جائے گا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
New York Times: SpaceX Sets Milestone With World’s Largest I.P.O., Furthering Musk’s Power
Financial Times: Elon Musk’s SpaceX raises $75bn in world’s biggest IPO
Wall Street Journal: Everything You Need to Know About the SpaceX Trading Debut