ایک محلے سے بھی کم آبادی والا ملک ورلڈکپ میں
وسطی امریکا کے جزیرے کیوراساؤ کی آبادی صرف ایک لاکھ 56 ہزار ہے، ان میں سے سات ہزار شائقین اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے امریکا پہنچے ہیں
یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ڈیڑھ ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک چین اور بھارت ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکے لیکن ان کے ایک محلے سے بھی کم آبادی والا ملک اس میں شریک ہے۔ وسطی امریکا میں واقع چھوٹا سا جزیرہ کیوراساؤ پہلی بار فٹبال ورلڈکپ تک پہنچا ہے اور یوں اس نے تاریخ میں اپنا نام درج کروا لیا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ چھپن ہزار نفوس پر مشتمل یہ ملک ورلڈ کپ میں پہنچنے والا تاریخ کی سب سے چھوٹی آبادی والا ملک بن گیا ہے۔
کیوراساؤ کو یہ کامیابی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے دو دہائیوں کی جدوجہد، محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کی داستان ہے۔ گارڈین کے مطابق 2023 میں ایک موقع ایسا آیا جب اس کی ٹیم کو ٹرینی ڈاڈ سے مارٹینیک جانے کے لیے مناسب طیارہ نہیں ملا۔ نتیجتاً ایک چھوٹا پروپیلر طیارہ کھلاڑیوں کو چھ چھ افراد کے گروپوں میں لے کر گیا۔ کچھ متبادل کھلاڑی میچ شروع ہونے کے بعد پہنچے اور ان کا سامان بھی وقت پر نہیں پہنچ سکا۔
کیوراساؤ کے فٹبال کے راستے پر سفر کا آغاز 2000 کی دہائی میں ہوا، جب نیدرلینڈز اینٹیلز فٹبال فیڈریشن نے ہالینڈ میں رہنے والے ان کھلاڑیوں کو تلاش کرنا شروع کیا جن کی جڑیں کیوراساؤ سے ملتی تھیں۔ 2010 میں کیوراساؤ کو نیدرلینڈز کی سلطنت کے اندر خودمختار ملک کا درجہ ملا اور 2011 میں اسے فیفا کی رکنیت حاصل ہوگئی۔ اس کے بعد قومی ٹیم کی تشکیل اور ترقی کا عمل زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھا۔
کیوراساؤ کی ترقی میں ہالینڈ کے سابق اسٹار فٹبالر پیٹرک کلائیورٹ کا کردار اہم ہے، جنھیں 2015 میں کوچ مقرر کیا گیا۔ ان کی آمد کے بعد ہالینڈ میں پیدا ہونے والے کئی باصلاحیت کھلاڑی کیوراساؤ کی قومی ٹیم میں شامل ہوئے۔ ان میں گول کیپر ایلوئے روم بھی شامل تھے، جو اپنے ددھیال کی وجہ سے کیوراساؤ سے تعلق رکھتے ہیں۔ روم نے بچپن میں کیوراساؤ کے مشہور گول کیپر ارجیلیو ہاٹو کے بارے میں پڑھا تھا اور ان کی خواہش تھی کہ وہ بھی اپنے ملک کے لیے ویسا مقام حاصل کریں۔ آج وہ ورلڈ کپ میں کیوراساؤ کے گول کیپر ہیں۔
اگرچہ ٹیم مسلسل بہتر ہورہی تھی، لیکن مالی مسائل ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ بعض مواقع پر کھلاڑیوں کو اپنے ہوائی ٹکٹ خود خریدنے پڑے اور ہوٹلوں کے اخراجات بھی وقت پر ادا نہیں کیے جاسکے۔ تکنیکی ڈائریکٹر ڈین گورے کے مطابق ان مشکلات نے ٹیم کو مزید متحد اور مضبوط بنایا۔ کھلاڑیوں نے سیکھ لیا کہ محدود وسائل کے باوجود کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
اصل تبدیلی جنوری 2024 میں آئی جب تجربہ کار ڈچ کوچ ڈک ایڈووکاٹ ٹیم کے سربراہ بنے۔ ایڈووکاٹ نہ صرف نیدرلینڈز بلکہ جنوبی کوریا سمیت کئی قومی ٹیموں کی کوچنگ کرچکے ہیں۔ ان کی قیادت میں ٹیم نے دفاعی نظم و ضبط، اجتماعی کھیل اور جوابی حملوں پر مبنی حکمت عملی اختیار کی۔ ورلڈکپ کوالیفائنگ مرحلے میں کیوراساؤ کے خلاف صرف تین گول ہوئے اور اس نے کئی مضبوط حریفوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔
ورلڈکپ تک رسائی کا فیصلہ کن لمحہ جمیکا کے خلاف بغیر گول کا ڈرا تھا، جس نے کیوراساؤ کو پہلی مرتبہ عالمی کپ کا ٹکٹ دلایا۔ اس کامیابی کے بعد جزیرے میں جشن کا سماں تھا۔ کھلاڑیوں کا استقبال اوپن ٹاپ بس میں کیا گیا اور ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
اس ٹیم کی ایک خاص بات اس کا خاندانی ماحول ہے۔ کھلاڑی خود کو "بلیو فیملی" کہتے ہیں۔ ٹیم آج بھی اپنے سابق گول کیپر جائرزینہو پیٹر کو یاد کرتی ہے، جو 2019 میں قومی ڈیوٹی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔ میچوں سے پہلے ہونے والی دعا میں ان کی یادگار کے طور پر ایک ہار رکھا جاتا ہے۔ کئی کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ورلڈکپ تک پہنچنے کے سفر میں ان کے ساتھی کی روحانی موجودگی انھیں حوصلہ دیتی ہے۔
بی بی سی کے مطابق کیوراساؤ کی سب سے بڑی طاقت اس کا منظم دفاع، مضبوط ٹیم اسپرٹ اور تجربہ کار کوچنگ اسٹاف ہے۔ اس کی کمزوری یہ ہے کہ اس کے پاس عالمی معیار کے اتنے زیادہ اسٹار نہیں جتنے بڑی ٹیموں کے پاس ہوتے ہیں۔ اسی لیے امکان ہے کہ جرمنی، ایکواڈور اور آئیوری کوسٹ جیسے حریفوں کے خلاف وہ زیادہ دفاعی انداز اختیار کرے۔
ٹیم کے اہم کھلاڑیوں میں جونیینو باکونا، لیانڈرو باکونا اور تاہیت چونگ شامل ہیں۔ جونیینو باکونا کو ٹیم کا تخلیقی دماغ سمجھا جاتا ہے جبکہ ان کے بڑے بھائی اور کپتان لیانڈرو باکونا پریمیئر لیگ کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ مانچسٹر یونائیٹڈ اکیڈمی کے سابق کھلاڑی تاہیت چونگ ٹیم کے نمایاں ناموں میں سے ہیں۔ وہ ورلڈ کپ اسکواڈ کے واحد کھلاڑی ہیں جو واقعی کیوراساؤ میں پیدا ہوئے۔
کیوراساؤ کی ورلڈکپ میں شرکت صرف کھیل کی کامیابی نہیں بلکہ قومی شناخت اور ثقافتی پہچان کا جشن بھی ہے۔ ہیوسٹن میں شائع ہوئی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً سات ہزار شائقین اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے امریکا پہنچے ہیں۔ کیوراساؤ ٹورازم بورڈ کے سربراہ موریاد ڈی برؤن کے الفاظ میں یہ صرف فٹبال نہیں بلکہ "فخر، خوشی اور قومی اعزاز" کا لمحہ ہے۔
شاید کیوراساؤ کے لیے سب سے اہم بات یہ نہیں کہ وہ ورلڈکپ میں کتنے میچ جیتتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ پوری دنیا اب اس چھوٹے سے جزیرے کا نام جاننے لگی ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جس کی آبادی بعض بڑے فٹبال اسٹیڈیموں کی گنجائش سے بھی کم ہے، عالمی فٹبال کے سب سے بڑے اسٹیج تک پہنچ جانا ایک غیرمعمولی کامیابی ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ کیوراساؤ کی ٹیم ورلڈکپ میں اپنا پہلا میچ کھیلنے سے پہلے ہی تاریخ رقم کرچکی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Guardian: Curaçao want you along for their first World Cup ride
BBC: What you need to know about Curacao
Chron: In Houston, the smallest nation in the World Cup is 'euphoric' to be here