ہائی اسکول میں فلموں کو ادب کی طرح پڑھانا چاہیے
فلم دیکھتے وقت صرف کرداروں اور مکالموں پر توجہ دینا کافی نہیں ہوتا، اکثر وہ اشیا اور تفصیلات زیادہ اہم ثابت ہوتی ہیں جو بظاہر کہانی کا حصہ معلوم نہیں ہوتیں
ایںڈریو پال
اسکولوں میں جب سے آڈیو ویژول آلات آئے ہیں، اساتذہ طلبہ سے ادبی کتابوں اور ان پر بننے والی فلموں کا موازنہ کرواتے رہے ہیں۔ یہ طریقہ عام ہے، لیکن طلبہ کو یہ سمجھانے کا ایک زیادہ مؤثر طریقہ موجود ہے کہ فلم کی بھی اپنی الگ بصری زبان ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایسی فلموں کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جو کسی ادبی تخلیق جیسے موضوعات رکھتی ہوں، لیکن خود اس کتاب یا کہانی کی فلمی شکل نہ ہوں۔
ادبی کتابوں پر بننے والی فلمیں اکثر اصل متن سے وفاداری نبھانے کی کوشش میں محدود ہوجاتی ہیں۔ 1970 کی فلم گریٹ گیٹس بی اس کی ایک مثال ہے۔ ناول میں نک، گیٹس بی کی مسکراہٹ کو ایسی تفصیل اور پُراثر طریقے سے بیان کرتا ہے کہ قاری کے ذہن میں ایک خاص تاثر پیدا ہوجاتا ہے۔ لیکن فلم میں رابرٹ ریڈفورڈ کی مسکراہٹ وہ کیفیت پیدا نہیں کر پاتی جو الفاظ نے پیدا کی تھی۔
بعد میں باز لوہرمن نے گریٹ گیٹس بی کو دوبارہ فلمایا تو اس نے الفاظ کے بجائے بصری تکنیکوں کا سہارا لیا۔ ایک منظر میں گیٹس بی مسکراتا ہے، وقت جیسے سست پڑ جاتا ہے اور پس منظر میں آتش بازی پھوٹتی ہے۔ اس طرح ناظر وہی تاثر محسوس کرتا ہے جسے ناول نے الفاظ کے ذریعے بیان کیا تھا۔
ادب اور فلم کے درمیان موزوں جوڑ تلاش کرنا آسان نہیں۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہے کہ طلبہ سمجھنے لگتے ہیں کہ بہترین فلمیں بھی وہی کام کرتی ہیں جو عمدہ ادب کرتا ہے۔ ادب کردار نگاری، علامت نگاری اور منظر کشی کے ذریعے معنی پیدا کرتا ہے، جبکہ فلم تصاویر، کیمرے کے زاویوں اور مناظر کی ترتیب سے یہی مقصد حاصل کرتی ہے۔
اس تعلق کو سمجھنے کے لیے گریٹ گیٹس بی اور اورسن ویلز کی مشہور فلم سِٹیزن کین کا موازنہ مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں میں دولت کے بگاڑ پیدا کرنے والے اثرات، پراسرار مرکزی کردار اور طاقت اور شہرت کی کشش جیسے موضوعات مشترک ہیں۔ فرق یہ ہے کہ سِٹیزن کین براہِ راست فلم کے لیے لکھی گئی تھی، اس لیے اس کے خیالات اور موضوعات کا اظہار بصری زبان کے ذریعے زیادہ ہوتا ہے۔
ادب میں علامت نگاری کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ کہانی کو گہرائی دیتی ہے لیکن قاری کو کسی ایک مطلب کا پابند نہیں کرتی۔ گریٹ گیٹس بی میں ڈیزی بُکینن کے گھر کے سامنے نظر آنے والی سبز روشنی اس کی ایک مشہور مثال ہے۔ ناول کے آغاز میں یہ روشنی گیٹس بی کی امیدوں اور مستقبل کے خوابوں کی نمائندگی کرتی محسوس ہوتی ہے۔ اگرچہ اس روشنی کا کہانی کے واقعات پر براہِ راست اثر نہیں پڑتا، لیکن یہ قاری کی سمجھ میں نئی پرتیں شامل کردیتی ہے۔
فلمساز بھی اسی مقصد کے لیے شاٹ کمپوزیشن، یعنی منظر کے اندر موجود اشیا اور کرداروں کی ترتیب، استعمال کرتے ہیں۔ سِٹیزن کین کے ایک منظر میں سوزن الیگزینڈر کین کو چھوڑنے کا فیصلہ سناتی ہے۔ اس وقت اس کے قریب ایک سنہرے بالوں والی چینی مٹی کی گڑیا رکھی ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ محض اتفاقی تفصیل نہیں بلکہ ایک بصری اشارہ ہے۔ اس سے یہ احساس ابھرتا ہے کہ کین لوگوں کو بھی ایسی اشیا سمجھتا ہے جنھیں خریدا، رکھا اور اپنی ملکیت بنایا جاسکتا ہے۔
فلم دیکھتے وقت صرف کرداروں اور مکالموں پر توجہ دینا کافی نہیں ہوتا۔ اکثر وہ اشیا اور تفصیلات زیادہ اہم ثابت ہوتی ہیں جو بظاہر کہانی کا حصہ معلوم نہیں ہوتیں۔ ادب کی طرح فلم بھی اپنے بہت سے معنی پس منظر میں چھپاتی ہے۔
سوزن کے جانے کے بعد کین غصے میں اس کا کمرہ تہس نہس کردیتا ہے اور پھر آئینوں سے بھرے ایک راہداری نما حصے سے گزرتا ہے۔ وہاں اس کے بے شمار عکس نظر آتے ہیں۔ یہ منظر اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ہر شخص کے ذہن میں کین کی ایک الگ تصویر موجود ہے، لیکن اس کی اصل شخصیت کسی پر پوری طرح آشکار نہیں ہوتی۔ ناظر بھی اس کے صرف عکس دیکھتا ہے، خود اسے نہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب فلم میں عکس کا استعمال کیا گیا ہو۔ ایک اور منظر میں کین کے قریبی دوست اس کے ارادوں پر گفتگو کرتے ہیں اور کین خود کھڑکی کے شیشے میں منعکس دکھائی دیتا ہے۔ یہاں بھی وہ ایک ایسی شخصیت محسوس ہوتا ہے جسے مکمل طور پر سمجھنا ممکن نہیں۔ وہ ہمیشہ کسی عکس، کسی تاثر یا کسی کہانی کے ذریعے نظر آتا ہے، براہِ راست نہیں۔
ادب میں کرداروں کی شخصیت زیادہ تر الفاظ کے ذریعے ابھرتی ہے۔ گریٹ گیٹس بی میں ٹام بُکینن کے متکبر اور سخت مزاج ہونے کا اندازہ اس کے جسمانی حلیے، لباس اور نشست و برخاست کی تفصیلات سے ہوتا ہے۔
فلم میں لباس اور حرکات یہ کام کرتے ہی ہیں، لیکن کیمرے کی پوزیشن بھی کردار نگاری کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ سِٹیزن کین میں جب کم عمر چارلی کین اپنے نئے سرپرست والٹر تھیچر کے ساتھ پہلی کرسمس مناتا ہے تو کیمرا بہت نیچی سطح سے منظر دکھاتا ہے۔ اس زاویے سے تھیچر غیرمعمولی طور پر بڑا اور بااختیار دکھائی دیتا ہے جبکہ چارلی نسبتاً چھوٹا اور بے بس محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کسی وضاحت کے بغیر یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ اس شخص کا بچے کی زندگی پر گہرا اثر ہوگا۔
کیمرے کا زاویہ ناظر کے جذبات کو مسلسل متاثر کرتا رہتا ہے۔ ایک ہی کردار کبھی طاقتور، کبھی کمزور، کبھی خوفناک اور کبھی ہمدردی کے قابل محسوس ہوسکتا ہے، صرف اس وجہ سے کہ اسے کس زاویے سے دکھایا گیا ہے۔ یہی فلم کی بصری زبان کی طاقت ہے۔
ہائی اسکول کے نصاب میں پڑھنے اور لکھنے کی بے شمار مہارتیں شامل ہوتی ہیں، لیکن فلم کو اکثر ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ حالانکہ فلم نہ صرف ادبی تعلیم کی تکمیل کرتی ہے بلکہ اس میڈیا کی بھی نمائندگی کرتی ہے جس سے آج کے نوجوان سب سے زیادہ واقف ہیں۔
ادب کے فنی حربوں اور فلم کی بصری زبان کے درمیان پل قائم کرنے سے یہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے کہ ہر فن اپنے مخصوص ذرائع سے کہانی سناتا ہے۔ ناول الفاظ کا سہارا لیتا ہے، فلم تصاویر کا، لیکن دونوں کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے، یعنی ناظر یا قاری کے ذہن اور جذبات پر ایسا اثر چھوڑنا جو کہانی کو محض واقعات کے سلسلے سے بڑھا کر ایک تجربہ بنادے۔
اینڈویو پال کا انگریزی مضمون پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
Edutopia: Teaching Students How to Read Films Like Literature