ورلڈکپ نے لاکھوں ملازمتیں پیدا کیں، اربوں ڈالر جنم دیے

فیفا کے مطابق صرف امریکا میں 30.5 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی اور جی ڈی پی میں 17.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا

ورلڈکپ نے لاکھوں ملازمتیں پیدا کیں، اربوں ڈالر جنم دیے

موجودہ دور میں اسپورٹس ایونٹس صرف ٹیموں اور کھلاڑیوں کے درمیان مقابلے نہیں رہے بلکہ ایسی معاشی سرگرمیاں بن چکے ہیں جن سے بے شمار افراد کو فائدہ ہوتا ہے اور کھیلوں کی تنظیموں کے ساتھ حکومتوں کو بھی خطیر آمدنی ہوتی ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا اسپوٹس ایونٹ فٹبال ورلڈکپ 2026 ہے اس لیے اس کے معاشی اثرات بھی بے پناہ ہیں۔

فیفا کے مطابق ورلڈکپ سے دنیا بھر میں 80 ارب ڈالر کی مجموعی اقتصادی سرگرمی پیدا ہونے کی توقع ہے، جبکہ عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 40.9 ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس ایونٹ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 8 لاکھ سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں اور حکومتوں کو تقریباً 9.4 ارب ڈالر اضافی ٹیکس آمدنی حاصل ہوگی۔

اس بار ٹورنامنٹ کا حجم بھی غیرمعمولی ہے۔ اس کے مقابلے 39 دن تک جاری رہیں گے اور 16 مختلف شہروں میں کھیلے جائیں گے۔ امریکا کے 11، میکسیکو کے 3 اور کینیڈا کے 2 شہر میزبان ہیں۔ فیفا کے اندازوں کے مطابق مجموعی حاضری ساڑھے 65 لاکھ افراد تک پہنچ سکتی ہے، جو کسی بھی سابقہ ورلڈ کپ سے کہیں زیادہ ہوگی۔ خیال ہے کہ سیاح ساڑھے سات ارب ڈالر خرچ کریں گے۔ اس کے علاوہ فیفا کا اپنا بجٹ، میزبان شہروں کے انتظامی اخراجات اور انفراسٹرکچر پر ہونے والی سرمایہ کاری بھی اس رقم کا حصہ ہیں۔ ہوٹلوں، ریستورانوں، ایئرلائنز، ٹرانسپورٹ کمپنیوں اور مقامی دکانداروں کے لیے یہ ایک غیرمعمولی کاروباری موقع ہے۔

امریکا چونکہ 16 میں سے 11 شہروں کی میزبانی کرے گا، اس لیے معاشی فوائد کا سب سے بڑا حصہ بھی اسے ملنے کی توقع ہے۔ صرف امریکا میں تقریباً 30.5 ارب ڈالر کی معاشی سرگرمی پیدا ہوگی اور جی ڈی پی میں 17.2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا۔

یہ فیفا کے اعدادوشمار ہیں لیکن تمام ماہرین ان پرجوش اندازوں سے متفق نہیں۔ فنانشل ٹائمز کے ذیلی ادارے الفاویل میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق گولڈمین ساکس، بارکلیز اور ڈوئچے بینک جیسے اداروں کا خیال ہے کہ ورلڈکپ کا امریکی معیشت پر مجموعی اثر محدود اور عارضی ہوگا۔ گولڈمین ساکس کے مطابق اگر فیفا کے تمام تخمینے درست بھی ثابت ہوجائیں تو یہ امریکی جی ڈی پی میں صرف تقریباً 0.05 فیصد کا قلیل مدتی اضافہ ہوگا۔ امریکا جیسی دیوہیکل معیشت میں ورلڈکپ جیسا ایونٹ مجموعی معاشی اعدادوشمار میں بہت بڑی تبدیلی پیدا نہیں کرسکتا۔

کچھ ماہرین نے "کراؤڈنگ آؤٹ" یا اخراجی اثرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق ورلڈکپ کے دوران عام سیاح مہنگائی، بھیڑ اور ٹریفک کے خوف سے بعض شہروں کا رخ نہیں کریں گے۔ اس طرح جو نیا خرچ پیدا ہوگا، اس کا ایک حصہ دوسری سرگرمیوں میں کمی سے متوازن ہوسکتا ہے۔ بارکلیز کے ماہرین کا خیال ہے کہ ورلڈ کپ امریکی معیشت کو عارضی طور پر زیادہ سے زیادہ 0.2 فیصد تک سہارا دے سکتا ہے، لیکن سال کے اختتام تک اس کا اثر تقریباً ختم ہوجائے گا۔

بہرحال اس ورلڈ کپ کے منفرد معاشی ماڈل نے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ بی بی سی کے معاشی مدیر فیصل اسلام کے مطابق یہ ٹورنامنٹ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ "ریونیو میکسمائزیشن" یعنی آمدنی بڑھانے کے تصور پر مبنی ہے۔ بیشتر میچ امریکی فٹبال کے اسٹیڈیموں میں ہوں گے جنہیں فیفا نے کرائے پر لیا ہے۔ اس سے میزبان ممالک کو نئے اسٹیڈیم بنانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ لیکن اس کے ساتھ ٹکٹوں کی قیمتیں بھی غیرمعمولی حد تک بڑھ گئی ہیں۔ بعض اہم میچوں کے ٹکٹ ہزاروں ڈالر میں فروخت ہورہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق یہ ورلڈکپ "ڈائنامک پرائسنگ" کے سب سے بڑے تجربات میں سے ایک ہے۔ اس نظام میں طلب بڑھنے کے ساتھ قیمتیں خود بخود اوپر چلی جاتی ہیں۔ امریکی کھیلوں میں یہ ماڈل عام ہے، لیکن ورلڈکپ میں پہلی بار اس پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے عام شائقین کے لیے میچ دیکھنا مشکل ہوجائے گا، جبکہ فیفا کا مؤقف ہے کہ اضافی آمدنی بعد میں دنیا بھر میں فٹبال کے فروغ پر خرچ کی جائے گی۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Fifa: Socioeconomic Impact Analysis

Financial Times: Those World Cup economic impacts in full…

BBC: Why the economics make this the craziest World Cup ever