کھیل کی دنیا کا سب سے بڑا میلہ آج شروع ہوگا

ورلڈکپ میں 48 ٹیمیں شریک ہیں، 102 میچ کھیلے جائیں گے، تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا اور سب سے زیادہ مالیاتی سرگرمی پیدا کرنے والا ٹورنامنٹ ہوگا

کھیل کی دنیا کا سب سے بڑا میلہ آج شروع ہوگا

کھیل کی دنیا کا سب سے بڑا میلہ آج شروع ہوگا۔ ورلڈکپ 2026 صرف ایک فٹبال ٹورنامنٹ نہیں بلکہ ایک ایسے عالمی میلہ ہے جو اپنے حجم، جغرافیے، سیاست، معیشت اور قوانین کے اعتبار سے پچھلے تمام ٹورنامنٹس سے مختلف ہے۔ اس بار امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر میزبانی کررہے ہیں، 48 ٹیمیں شریک ہیں، 102 میچ کھیلے جائیں گے، اور توقع کی جارہی ہے کہ یہ تاریخ کا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا اور سب سے زیادہ مالیاتی سرگرمی پیدا کرنے والا ٹورنامنٹ ہوگا۔ نیویارک ٹائمز نے اسے ایک بالکل مختلف ورلڈکپ قرار دیا ہے کیونکہ پہلی بار ایک میزبان ملک عالمی سیاسی تنازعات اور سفارتی کشیدگیوں کے عین بیچ اس ایونٹ کی میزبانی کررہا ہے۔

اگرچہ افتتاحی تقریب اور کئی اہم مقابلے میکسیکو اور کینیڈا میں ہوں گے، لیکن ناک آؤٹ مرحلے کے بیشتر بڑے میچ امریکا میں کھیلے جائیں گے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق میکسیکو میں اشتہارات اور سجاوٹ تو نظر آتی ہے، لیکن ابھی تک وہ روایتی ماحول پوری شدت سے محسوس نہیں ہورہا جو عام طور پر میزبان ملک میں دیکھا جاتا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ صورتحال افتتاحی میچ کے ساتھ بدل جائے گی۔

امریکا نے آخری بار 1994 میں ورلڈکپ کی میزبانی کی تھی۔ اس وقت فٹبال امریکیوں میں زیادہ مقبول نہیں تھا، لیکن تین دہائیوں میں صورتحال کافی بدل چکی ہے۔ بی بی سی کے مطابق امریکا بھر میں نوجوانوں میں فٹبال کی مقبولیت بڑھی ہے، مقامی کلبوں میں نئے کھلاڑیوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے اور بہت سے بچے اب یورپی اور جنوبی امریکی اسٹار فٹبالرز کو اسی طرح جانتے ہیں جیسے پہلے امریکی فٹبال یا باسکٹ بال کے کھلاڑیوں کو جانتے تھے۔

شائقین کا جوش و خروش اس قدر ہے کہ ٹکٹوں کا حصول خود ایک مقابلہ بن گیا ہے۔ بعض شہروں میں سستے ٹکٹوں کی قرعہ اندازی چند منٹ میں بند ہوگئی۔ نیویارک اور نیو جرسی کے علاقے میں حکام تقریباً بارہ لاکھ اضافی سیاحوں کی آمد کی توقع کررہے ہیں۔ سڑکوں پر "گرڈ لاک الرٹ ڈے" کے انتباہ لگائے گئے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور خصوصی ٹریفک راہداریاں بنائی گئی ہیں تاکہ غیر معمولی ہجوم کو سنبھالا جاسکے۔

ورلڈ کپ صرف اسٹیڈیموں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کی اصل خوبصورتی ان ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور عوامی مقامات پر نظر آتی ہے جہاں مختلف قومیتوں کے شائقین ایک دوسرے سے ملتے ہیں، جرسیوں کا تبادلہ کرتے ہیں، گانے گاتے ہیں اور ایک مشترکہ عالمی ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے صحافیوں کے نزدیک ورلڈ کپ محض کھیل نہیں بلکہ دنیا کے مختلف معاشروں کا خوبصرت اجتماع ہوتا ہے۔

اس بار فیفا نے کھیل کے قوانین میں کئی بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 11 نئے اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں جن کا مقصد وقت ضائع کرنے کی روایت ختم کرنا اور کھیل کی رفتار بڑھانا ہے۔ گول کک اور تھرو اِن میں غیر ضروری تاخیر پر ریفری پانچ سیکنڈ کی گنتی شروع کرسکتا ہے۔ اگر کھلاڑی جان بوجھ کر وقت ضائع کرے تو اس کی ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ تبدیل ہونے والے کھلاڑی کو دس سیکنڈ کے اندر میدان چھوڑنا ہوگا، ورنہ متبادل کھلاڑی فوراً داخل نہیں ہوسکے گا اور ٹیم کچھ وقت تک دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہوسکتی ہے۔ طبی امداد حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے بھی نئی پابندیاں متعارف کروائی گئی ہیں تاکہ زخمی ہونے کا بہانہ بنا کر وقت ضائع نہ کیا جاسکے۔ وی اے آر کے اختیارات میں بھی توسیع کی گئی ہے تاکہ واضح غلطیوں کو زیادہ مؤثر انداز میں درست کیا جاسکے۔

مالیاتی ادارے میکوری کا اندازہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ پر دنیا بھر میں پچاس ارب ڈالر سے زیادہ کی شرطیں لگائی جائیں گی، جو کسی بھی کھیلوں کے ایونٹ کے لیے ریکارڈ ہوگا۔ 2022 کے قطر ورلڈکپ کے دوران تقریباً 35 ارب ڈالر کی شرطیں لگی تھیں۔ اس اضافے کی ایک وجہ ٹیموں کی تعداد میں اضافہ ہے، جبکہ دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکا میں اب اکثریت ایسی ریاستوں میں رہتی ہے جہاں کھیلوں پر قانونی شرط لگانا ممکن ہے۔ اندازہ ہے کہ اوسطاً ہر میچ پر تقریباً 50 کروڑ ڈالر کی شرطیں لگائی جائیں گی۔

اس عالمی جشن کے ساتھ سیاست بھی مکمل طور پر غائب نہیں ہوسکی۔ ایک تنازع ہیٹی کی قومی ٹیم کی جرسی پر پیدا ہوا۔ گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ہیٹی کی جرسی میں 19ویں صدی کے ہیٹی انقلاب اور فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد کی علامتی تصاویر شامل تھیں۔ فیفا نے ان عناصر کو سیاسی تعبیر کا حامل قرار دیتے ہوئے جرسی کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔ ہیٹی کی ٹیم کو آخری وقت میں نئی جرسی تیار کرنا پڑی۔

اگر ایک تاریخی انقلاب کی علامتی تصویر بھی فیفا کے نزدیک سیاسی تصور کی جاسکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں، ٹیموں اور قومی فیڈریشنوں کے لیے سیاسی اظہار کی گنجائش انتہائی محدود ہوگی۔ گزشتہ برسوں میں فلسطین، یوکرین، نسلی امتیاز، انسانی حقوق اور دوسرے موضوعات پر مختلف کھلاڑی اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں۔ لیکن ہیٹی کے معاملے سے واضح ہوتا ہے کہ فیفا اس بار سیاسی نعروں، علامتوں یا پیغامات کے بارے میں پہلے سے زیادہ سخت رویہ اختیار کرے گی۔

اس کے باوجود سیاست مکمل طور پر منظر سے غائب نہیں ہوسکتی۔ اس ورلڈ کپ پر امریکی امیگریشن پالیسیوں، سفری پابندیوں اور بعض ممالک کے شائقین کے ویزوں کے مسائل بھی موجود ہیں۔ بعض ممالک کے شہریوں کو امریکا میں داخلے کے لیے اضافی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جس نے عالمی کھیل اور قومی سیاست کے تعلق پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس عالمی میلے میں صرف کھیل نہیں ہے۔ اس میں کاروبار ہے، سیاحت ہے، اربوں ڈالر کی شرطیں ہیں، سخت نئے قوانین ہیں، امیگریشن اور سفارتی تنازعات ہیں، اور ساتھ ہی وہ رنگارنگ عالمی ثقافت بھی ہے جو ہر چار سال بعد کروڑوں لوگوں کو ایک مشترکہ جذبے کے تحت اکٹھا کردیتی ہے۔ اگلے چند ہفتوں میں ساری دنیا کی نظریں کھلاڑیوں، گیند اور ٹرافی پر ہوں گی اور اختتام ہمیشہ کی طرح یادگار ہوگا۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

New York Times: A Very Different World Cup

BBC: 'Gridlock alert days' and a race for tickets as US prepares to host World Cup

Guardian: Haiti forced to change World Cup jerseys after Fifa rejects ‘political’ elements