ورلڈکپ میں امریکا کی غیر معمولی فتح
میزبان ٹیم نے پہلے گروپ میچ میں پیراگوئے کو آوٹ کلاس کردیا، ایک کے مقابلے میں چار گول سے کامیابی، یورپی لیگز کا تجربہ رکھنے والے امریکی کھلاڑی اگلے میچوں میں بھی حیران کرسکتے ہیں
امریکا نے ورلڈکپ 2026 کا آغاز ایسے انداز میں کیا ہے کہ نہ صرف شائقین بلکہ کھیلوں کے مبصرین بھی چونک اٹھے ہیں۔ گروپ ڈی کے پہلے میچ میں میزبان ٹیم نے پیراگوئے کو ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست دی۔ یہ امریکا کی جانب سے ورلڈکپ کے کسی بھی میچ میں سب سے زیادہ گول کا نیا ریکارڈ ہے۔ فٹبال ماہرین اسے امریکی فٹبال میں نئے دور کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔
لاس اینجلس میں کھیلے گئے میچ کا آغاز ہوتے ہی امریکی ٹیم نے جارحانہ انداز اختیار کیا۔ ساتویں منٹ میں کرسچین پولیسیچ اور ویسٹن میک کینی کے دباؤ کے نتیجے میں پیراگوئے کے بوبادیلا سے سیلف گول سرزد ہوگیا۔ بہرحال اس کی وجہ امریکی اسٹرائیکرز کی تیز رفتار پیش قدمی اور دباؤ تھا۔
پہلے گول کے بعد امریکا نے پیراگوئے کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ فارورڈ فولارین بالوگن نے یکے بعد دیگرے دو گول کرکے پیراگوئے کی امیدیں ختم کر ڈالیں۔ بالون نے پہلا گول پہلے ہاف کے وسط میں جبکہ دوسرا گول وقفے سے کچھ ہی لمحے قبل اسکور کیا۔ اس طرح امریکا نے پہلے ہاف کا اختتام تین صفر کی برتری کے ساتھ کیا۔
دوسرے ہاف میں پیراگوئے نے کچھ بہتر کھیل پیش کیا۔ 73ویں منٹ میں متبادل کھلاڑی ماریسیو نے گول کرکے خسارہ کم کردیا۔ لیکن اختتامی لمحات میں جیو رینا نے دفاعی کھلاڑیوں اور گول کیپر کو بے بس کرکے امریکا کا چوتھا گول کردیا۔ اسی کے ساتھ ہی مقابلہ 4-1 پر ختم ہوگیا۔ امریکی ٹیم نے پورے میچ میں برتری برقرار رکھی اور اپنے پرستاروں کو یادگار فتح کا تحفہ دیا۔
آج امریکا میں فٹبال کے ماحول کو دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل لگتا ہے کہ چند دہائیاں پہلے یہاں فٹبال غیر مقبول کھیل تھا۔ امریکی کھیلوں پر طویل عرصے سے امریکن فٹبال، بیس بال، باسکٹ بال اور آئس ہاکی کا غلبہ ہے۔ لیکن 1994 کے ورلڈکپ کی میزبانی، نوجوانوں میں فٹبال کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، ہسپانوی بولنے والی آبادی میں اضافے اور بین الاقوامی نشریات کی آسان دستیابی نے اس کھیل کی بنیاد مضبوط کردی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ میجر لیگ سوکر دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی لیگز میں شمار ہوتی ہے اور کئی شہروں میں فٹبال میچز کے دوران اسٹیڈیم مکمل بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔
امریکی لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے اسٹار فٹبالر یہاں کھیل رہے ہیں۔ سب سے نمایاں نام لیونل میسی کا ہے جو انٹر میامی کے لیے کھیلتے ہیں۔ ان کے علاوہ لوئیس سواریز، سرجیو بسکیتس اور جورڈی البا بھی اسی کلب کا حصہ ہیں۔ اولیویے ژیرو لاس اینجلس میں کھیل چکے ہیں جبکہ متعدد جنوبی امریکی اور یورپی کھلاڑی اب میجر لیگ سوکر کو سنجیدگی سے لینے لگے ہیں۔ اس تبدیلی نے امریکی لیگ کا معیار اور عالمی ساکھ دونوں کو بہتر کیا ہے۔
دوسری طرف امریکی ٹیم کے کئی کھلاڑی یورپ کی بڑی لیگز میں کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ کپتان کرسچین پولیسیچ انگلینڈ کی پریمیئر لیگ میں چیلسی کے لیے کھیل چکے ہیں اور بعد میں اٹلی کی سیری اے میں بھی نمایاں رہے۔ ویسٹن میک کینی نے جرمنی کی بنڈس لیگا اور اٹلی کی سیری اے میں کھیل کر نام بنایا۔ سرجینو ڈیسٹ نے بارسلونا کی نمائندگی کی جبکہ فولارین بالوگن انگلینڈ اور فرانس کی لیگز میں کھیل چکے ہیں۔ ٹائلر ایڈمز، اینٹونی رابنسن، ٹموتھی ویا اور جیو رینا بھی یورپ کے مختلف بڑے کلبوں سے وابستہ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ امریکی ٹیم ماضی کی نسبت کہیں زیادہ تجربہ کار اور عالمی معیار کے قریب ہے۔
پیراگوئے کے خلاف بڑے فرق سے فتح صرف تین پوائنٹس حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا اب فٹبال کی دنیا میں ایک سنجیدہ دعوے دار کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ اگر یہی فارم برقرار رہی تو 2026 کا ورلڈکپ امریکی فٹبال کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے 1994 کا ورلڈکپ اس کھیل کی مقبولیت کے آغاز کا نقطۂ آغاز بنا تھا۔