فکشن
بیوہ، محمد شُکری
میں ہمیشہ کی طرح محتاط ہوکر وہاں سے گزری، وہ باہر نکلا اور مجھے دکان میں آکر بات کرنے کو کہا، میں نے انکار نہیں کیا، میں جانتی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے
فکشن
میں ہمیشہ کی طرح محتاط ہوکر وہاں سے گزری، وہ باہر نکلا اور مجھے دکان میں آکر بات کرنے کو کہا، میں نے انکار نہیں کیا، میں جانتی تھی کہ وہ کیا چاہتا ہے
فکشن
شہری نے میز پر زور سے مکا مارا اور چلا کر کہا کہ میں ایک شہری ہوں، مجھے اپنے حقوق کا علم ہے، یہ ایک جمہوری ریاست ہے، کوئی مذاق نہیں ہے، میں تمھارے سوپروائزر سے بات کرنا چاہتا ہوں
فکشن
اچانک ڈرائیور کو یاد آیا کہ کیسے اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ خدا بنا تو بہت مہربان اور رحیم ہوگا اور اپنی تمام مخلوقات کی دعائیں سنے گا
فکشن
جوزفین بند دروازے کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی کنڈی کے سوراخ سے منہ لگا کر التجا کررہی تھی، لوئیس، خدا کے لیے دروازہ کھولو، تم اپنی طبیعت خراب کرلو گی
فکشن
فورچونیٹو کی ایک کمزوری تھی، اسے شراب کی پہچان پر بڑا غرور تھا۔ تصویروں اور جواہرات کے معاملے میں وہ اپنے ہم وطنوں کی طرح ڈھونگی تھا، لیکن پرانی شرابوں کے بارے میں واقعی سمجھ رکھتا تھا
فکشن
وہ ایک انسان کا خواب دیکھنا چاہتا تھا، اسے تمام جزئیات اور مکمل تفصیل کے ساتھ خواب میں تخلیق کرنا چاہتا تھا، پھر اسے حقیقی وجود دینا چاہتا تھا
پولیس والا قریب پہنچا تو اس آدمی نے جلدی سے کہا، فکر کی کوئی بات نہیں، افسر۔ میں بس ایک دوست کا انتظار کررہا ہوں۔ ہم نے بیس سال پہلے آج کی رات یہاں ملنے کا وعدہ کیا تھا۔
فکشن
اس کا سر اور پنجے بلی جیسے ہیں اور قامت اور جسامت میمنے کی سی۔ اس کے نرم بال جسم سے چپکے رہتے ہیں۔ کبھی یہ اچھلتا کودتا ہے اور کبھی دبے پاؤں چلتا ہے
کچھ لکھیں...