اطالوی افسانہ، ایک کچھوے سے مکالمہ
جب بھی دونوں کی ملاقات ہوتی، کچھوا پالومار صاحب کے دماغ میں داخل ہوجاتا اور اپنی سست رفتار لیکن مستقل مزاجی سے چلتا رہتا، اور یوں پرانے خیالات اپنی سابقہ صورت میں باقی نہ رہتے
جب بھی دونوں کی ملاقات ہوتی، کچھوا پالومار صاحب کے دماغ میں داخل ہوجاتا اور اپنی سست رفتار لیکن مستقل مزاجی سے چلتا رہتا، اور یوں پرانے خیالات اپنی سابقہ صورت میں باقی نہ رہتے
کچھ لکھیں...