ایرانی جنگ سے بچ جائیں گے، مہنگائی مار دے گی

چاول، چکن اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں چند ہفتوں میں دوگنا ہوگئی ہیں، صرف انڈے خریدنے میں عام مزدور کی نصف دہاڑی خرچ ہوجاتی ہے

ایرانی جنگ سے بچ جائیں گے، مہنگائی مار دے گی

ایران اس وقت سنگین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب سرکاری میڈیا بھی کھل کر خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، عام ایرانی جنگ سے بچ جائیں گے لیکن مہنگائی انھیں مار ڈالے گی۔

ایران انٹرنیشنل کے مطابق ملک میں مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ عام آدمی کے لیے بنیادی اشیائے خورونوش خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ تہران میں انڈوں کی ٹرے کا نرخ دس لاکھ ریال تک پہنچ چکا ہے جبکہ ایک برگر پچاس لاکھ ریال میں فروخت ہورہا ہے۔ یہ قیمتیں اس ملک میں خاص طور پر پریشان کن ہیں جہاں کم از کم ماہانہ تنخواہ تقریباً 20 کروڑ ریال ہے۔ ایک عام مزدور کی آمدنی کا بڑا حصہ صرف خوراک پر خرچ ہوجاتا ہے۔

ایران کا سرکاری میڈیا عموماً حکومتی پالیسیوں پر تنقید سے گریز کرتا ہے۔ لیکن اب وہ کھلے عام سوال اٹھا رہا ہے۔ ایک ٹی وی اینکر نے براہ راست صدر سے پوچھا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے، کیونکہ لوگ چاول، چینی، تیل، دودھ اور دواوں جیسی بنیادی چیزیں خریدنے کے قابل نہیں رہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق انڈوں جیسی معمولی شے خریدنے میں ایک عام ایرانی مزدور کی نصف دہاڑی خرچ ہوجاتی ہے۔ حالیہ عرصے میں خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ چاول، مرغی اور دیگر اشیا کی قیمتیں چند ہفتوں میں تقریباً دوگنا ہوگئی ہیں۔

اس معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ امریکا کی ناکابندی بھی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو یومیہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ ملک میں ڈالر کی آمد کم ہونے سے مقامی کرنسی کی قدر مزید گرگئی ہے۔ یہ بھی مہنگائی تیزی سے بڑھنے کا ایک سبب ہے۔

جنگ اور ناکابندی کے اثرات صرف مہنگائی تک محدود نہیں بلکہ بیروزگاری بھی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حال میں ایک جاب پورٹل پر ایک دن میں تین لاکھ سے زیادہ افراد نے نوکریوں کے لیے درخواستیں دیں، جو ایک ریکارڈ ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 70 فیصد ہوچکی ہے جو کسی بھی معاشرے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

ملک میں کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہیں۔ بہت سی کمپنیوں نے اپنے ملازمین کو نکال دیا ہے یا انھیں بغیر تنخواہ کے رخصت پر بھیج دیا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار خاص طور پر مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومتی مدد یا وسائل نہیں ہوتے۔ بڑے سرکاری ادارے کسی حد تک خود کو سنبھال رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر معیشت سکڑتی جارہی ہے۔

انٹرنیٹ کی بندش اور پابندیوں نے بھی عوام کی دشواریوں میں اضافہ کیا ہے۔ لوگ انٹرنیٹ تک رسائی کے لیے بلیک مارکیٹ کا سہارا لے رہے ہیں، جہاں ایک جی بی ڈیٹا کی قیمت عام مزدور کی نصف یومیہ آمدنی کے مساوی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف معاشی بلکہ سماجی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے کیونکہ معلومات تک رسائی محدود ہوگئی ہے۔

حکومت نے کچھ اقدامات ضرور کیے ہیں، جیسے سبسڈی یا ادھار پر اشیا فراہم کرنے کا منصوبہ۔ لیکن یہ اقدامات ناکافی اور غیر مؤثر ثابت ہورہے ہیں۔ سبسڈی کی رقم اتنی کم ہے کہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، جبکہ قرض کی اسکیمیں بھی محدود ہیں۔

ایرانی اخبارات اور ماہرین خبردار کررہے ہیں کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر نہ سنبھالا گیا تو بحران قابو سے باہر ہوسکتا ہے۔ جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے، جس سے معیشت پر مزید دباؤ پڑسکتا ہے۔ عام شہری اس بحران کا سب سے زیادہ شکار ہیں، جن کے لیے روزمرہ کی زندگی ایک جدوجہد بن چکی ہے۔


 اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

 Telegraph: Iran’s cost of living is out of control as Trump’s blockade takes hold

Iran International: Even state media sounds alarm as Iran’s economy sinks