ایران میں ورلڈکپ قومی تہوار ہوا کرتا تھا

ورلڈکپ قریب آنے کے باوجود ایرانیوں میں ماضی کا جوش و جذبہ نظر نہیں آریا، لیکن ممکن ہے کہ ٹیم کی ایک بڑی کامیابی دوبارہ ملک بھر میں جشن برپا کردے

ایران میں ورلڈکپ قومی تہوار ہوا کرتا تھا

عباس کیارستمی کی فلم "زندگی و دیگر ہیچ" میں ایک یادگار منظر ہے۔ 1990 کے تباہ کن زلزلے میں ایک دیہاتی کے کئی عزیز جاں بحق ہوچکے ہیں۔ وہ ایک ٹی وی اینٹینا درست کرنے میں مصروف ہے تاکہ ارجنٹینا اور برازیل کا ورلڈ کپ میچ دیکھ سکے۔ بعد میں کیارستمی نے اس کی وضاحت کی کہ تباہی اور غم کے باوجود زندگی جاری رہتی ہے۔ اور زندگی کے ساتھ فٹ بال بھی۔ کئی دہائیوں تک ایرانی معاشرے اور فٹبال کے درمیان یہ تعلق قائم رہا۔

ایران میں فٹبال محض ایک کھیل نہیں تھا بلکہ قومی شناخت، اجتماعی خوشی اور عوامی جذبات کے اظہار کا ویسا ہی ذریعہ رہا جیسے پاکستانیوں کے لیے کرکٹ ہے۔ خاص طور پر ورلڈکپ کے مواقع پر جوش و خروش اپنی انتہا کو پہنچ جاتا تھا۔ لیکن 2026 کا ورلڈکپ قریب آنے کے باوجود ایسا منظر دکھائی نہیں دیتا۔ گارڈین کے مطابق وہ ملک جہاں کبھی ورلڈکپ میں رسائی پر سڑکیں جشن منانے والوں سے بھر جاتی تھیں، آج وہاں پہلے جیسا جذبہ نظر نہیں آرہا۔

ایران نے پہلی بار 1978 کے فٹبال ورلڈکپ میں شرکت کی تھی۔ لیکن ایرانیوں کے لیے سب سے یادگار ورلڈکپ 1998 کا ہے۔ اس ٹورنامنٹ تک رسائی خود ایک ڈرامائی داستان ہے۔ ایران نے آسٹریلیا کے خلاف پلے آف میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کوالیفائی کیا۔ آخری سیٹی بجی تو تہران سمیت ملک کے مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ اخبارات، ٹیلی ویژن اور عوامی گفتگو میں اس کامیابی کا ذکر برسوں تک ہوتا رہا۔ گارڈین کے مطابق 1998 کی کوالیفکیشن کو ایران میں تقریباً ایک قومی تہوار کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی اور اس کے مناظر بار بار نشر کیے جاتے رہے۔

اسی ورلڈ کپ میں ایران کا مقابلہ امریکا سے ہوا۔ دونوں ملکوں کے کشیدہ سیاسی تعلقات کے باعث اس میچ کو غیر معمولی اہمیت ملی۔ ایران نے یہ مقابلہ ایک کے مقابلے میں دو گول سے جیت لیا۔ بہت سے ایرانیوں کے لیے یہ محض ایک فٹبال میچ نہیں بلکہ قومی فخر کا لمحہ تھا۔ آج بھی ایرانی فٹبال کے مداح اس کامیابی کو اپنی سب سے بڑی یادوں میں شمار کرتے ہیں۔ کھیلوں کے مورخین کے مطابق یہ میچ ورلڈکپ کی تاریخ کے سب سے زیادہ سیاسی اہمیت رکھنے والے مقابلوں میں سے تھا۔

اس کے بعد ہونے والے ورلڈکپ مقابلوں میں بھی ایرانی عوام نے بہت دلچسپی لی۔ اگرچہ ایران بڑی فٹبال ٹیموں کی صف میں شامل نہیں ہوسکا، لیکن قومی ٹیم کی کامیابیاں اور ناکامیاں یکساں شدت سے محسوس کی جاتی رہیں۔ 2014 کے ورلڈکپ میں ایران نے ارجنٹینا کے خلاف تقریباً پورا میچ برابر کھیلا اور صرف آخری لمحات میں لیونل میسی کے گول پر ہارا۔ اس شکست کے باوجود تہران کی سڑکوں پر جشن کا ماحول دیکھا گیا۔ لوگوں کو اس بات پر فخر تھا کہ ان کی ٹیم نے دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس زمانے تک فٹبال امید اور اجتماعی خوشی کی علامت تھا۔

اس کے بعد 2018 کا ورلڈکپ شاید ایرانی فٹبال کے عوامی جوش کا آخری بڑا مظہر تھا۔ اس موقع پر تہران کے آزادی اسٹیڈیم سمیت مختلف مقامات پر بڑی اسکرینیں نصب کی گئیں جہاں ہزاروں افراد مل کر میچ دیکھتے تھے۔ ایران نے مراکش کے خلاف فتح حاصل کی تو ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سوشل میڈیا پر جشن کے مناظر وائرل ہوئے اور شہروں کی سڑکیں رات گئے تک آباد رہیں۔ اس زمانے کی تصاویر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ورلڈکپ ایرانی معاشرے میں کس قدر اہم مقام رکھتا تھا۔

بی بی سی اور دوسرے بین الاقوامی ذرائع نے مختلف اوقات میں یاد دلایا ہے کہ ایران میں فٹبال ان چند مواقع میں سے ایک رہا ہے جب لوگ سیاسی اور سماجی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترک جذبے کے تحت اکٹھے ہوتے تھے۔ خاص طور پر نوجوان نسل اور خواتین کے لیے قومی ٹیم کی کامیابیاں سڑکوں پر نکل کر خوشی منانے کا نادر موقع فراہم کرتی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ ورلڈ کپ کے دوران تہران، اصفہان، شیراز اور مشہد جیسے شہروں میں غیر معمولی عوامی سرگرمی دیکھنے میں آتی تھی۔

لیکن 2026 تک پہنچتے پہنچتے فضا بدل چکی ہے۔ گارڈین کی رپورٹ میں تہران کے متعدد شہریوں کے انٹرویوز شامل ہیں جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے پہلے کبھی ورلڈ کپ کو اتنا غیر اہم محسوس نہیں کیا۔ بعض افراد کے نزدیک معاشی مشکلات نے کھیل کی اہمیت کم کردی ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ قومی ٹیم اور عوام کے درمیان وہ جذباتی تعلق باقی نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس بار ایران کی ورلڈکپ کوالیفکیشن پر ماضی کی طرح سڑکوں پر جشن منانے کے مناظر دیکھنے کو نہیں ملے۔

کھیلوں کے صحافیوں کا خیال ہے کہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی مکمل بحالی کے بعد ورلڈکپ کا ماحول پھر کچھ گرم ہو سکتا ہے۔ ورلڈکپ میں شریک ایرانی ٹیم کو کم نہیں سمجھا جاسکتا۔ شاید اسی لیے بہت سے مبصرین سمجھتے ہیں کہ اگر ایران ورلڈکپ میں پہلی بار گروپ مرحلے سے آگے نکلنے یا آخری سولہ ٹیموں تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے تو وہی پرانا جوش دوبارہ لوٹ سکتا ہے۔

عباس کیارستمی کے زلزلہ زدہ دیہاتی کی طرح، ایرانی معاشرے میں فٹبال آج بھی زندگی کے استعارے کے طور پر موجود ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کبھی یہ استعارہ پورے ملک کو ایک ساتھ جوڑ دیتا تھا، جبکہ آج وہ جذبہ کچھ مدھم دکھائی دیتا ہے۔ پھر بھی ممکن ہے کہ ورلڈکپ میں ایرانی ٹیم کی ایک بڑی کامیابی اس خاموش شوق کو دوبارہ ایک اجتماعی جشن میں بدل ڈالے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Guardian: In Iran the World Cup used to trigger joy on our streets. It feels very different now

Middle East Eye: When Iran played the US in 'the mother of all games'