ایران میں سیاسی انتشار، نتیجہ کیا نکلے گا؟

سخت گیر حلقے امریکا کے ساتھ بات چیت کے مخالف ہیں جبکہ نئے سپریم لیڈر کی غیر موجودگی سے پالیسی سازی چیلنج بن گئی ہے

ایران میں سیاسی انتشار، نتیجہ کیا نکلے گا؟
audio-thumbnail
سننے کے لیے پلے کا بٹن دبائیں
0:00
/230.945208

ایران اِس وقت صرف بیرونی دباؤ کا سامنا نہیں کررہا بلکہ اندرونی طور پر بھی پیچیدہ سیاسی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ حالیہ جنگ، سیزفائر اور امریکا کے ساتھ مُذاکرات نے اِس کشمکش کو مزید نمایاں کیا ہے۔ ایران میں اختلافات اِس حد تک گہرے ہیں کہ پالیسی سازی چیلنج بن چکی ہے۔

فائننشل ٹائمز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے دوران ایران کے مختلف سیاسی دھڑے وقتی طور پر متحد ہوگئے تھے۔ لیکن جنگ بندی کے چند ہفتوں بعد ہی اختلافات کھل کر   سامنے آگئے ہیں۔ اِن اختلافات کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں یا نہیں۔

ایران کے سخت گیر حلقے امریکا کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کے سخت مخالف ہیں۔ اُن کے خیال میں مذاکرات نہ صرف نقصان دہ ہیں بلکہ ایران کی خودمختاری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے بعض ارکان نے یہاں تک کہا کہ مذاکرات "خالص نقصان" ہیں اور اِن سے مکمل اجتناب کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب نسبتاً معتدل اور عملی سوچ رکھنے والے رہنما، پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور صدر مسعود پزشکیان ہیں۔ وہ اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ اقتصادی پابندیوں سے نکلنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے بیشتر ارکان نے مذاکراتی ٹیم کی حمایت کی، لیکن سخت گیر دھڑے اِس معاملے سے الگ رہے۔

اِس اندرونی اختلاف کا ایک اہم پہلو قیادت کا غیر واضح ہونا بھی ہے۔ نئے سُپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر غیر موجودگی نے اِس ابہام کو بڑھادیا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اُن کی غیر حاضری کے باعث طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان رابطہ کمزور پڑگیا ہے، جس سے پالیسی سازی میں اُلجھن پیدا ہورہی ہے۔

ٹیلی گراف کی ایسی ہی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اِس بحران کے مرکز میں ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار سفارت کار ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مُذاکرات اور بین الاقوامی تعلقات میں گزارا ہے۔ لیکن اِس وقت وہ تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں جہاں ہر قدم خطرناک ہوسکتا ہے۔

ٹیلی گراف کے مطابق عراقچی کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ نہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر بااختیار۔ ایران میں اصل طاقت مختلف اداروں میں تقسیم ہے۔ خاص طور پر پاسدارانِ انقلاب کا اثر بہت زیادہ ہے، جو خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ عراقچی مُذاکرات تو کرسکتے ہیں لیکن کسی بڑے فیصلے کے لیے انھیں کہیں اور سے منظوری درکار ہوتی ہے۔ یہ تضاد ایران کی پالیسی کا بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک طرف ملک کو جنگ، پابندیوں اور اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف بعض سیاستدان اور طاقتور ادارے اِن مذاکرات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

ایران کے اندر اختلافات نئے نہیں ہیں بلکہ نظام کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ اختلافات خطرناک ہوگئے ہیں کیونکہ ملک بڑے بحران سے گزر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کا دباؤ بھی ہے اور روس جیسے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو بھی سنبھالنا ہے۔

فائننشل ٹائمز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر مذاکرات کی جانب پیشرفت نہ ہوئی تو دوبارہ جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اور اِس کا الزام سخت گیر عناصر پر جائے گا جو سیاسی درجہ حرارت کو بڑھارہے ہیں۔ عراقچی جیسے لوگ کوشش میں ہیں کہ کسی طرح امن قائم رکھا جائے لیکن اُن کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اِس وقت بیک وقت دو محاذوں پر لڑ رہا ہے، ایک بیرونی دشمنوں کے خلاف اور دوسرا اپنے اندرونی اختلافات کے ساتھ۔ اندرونی کشمکش اُس کی خارجہ پالیسی کو غیر یقینی بناتی ہے جس سے مذاکرات کا امکان کمزور پڑتا جارہا ہے۔ معتدل ایرانی رہنماوں کو یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر مذاکرات ہوئے، لیکن ناکام رہے تو نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ ایران کے اندر  بھی انتشار میں اضافہ ہوجائے گا۔ اِس مسئلے کو حل کرنے کا کوئی جادوئی نسخہ کسی کے پاس نہیں ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Financial Times: Iran’s hardliners clash over talks with US

The Telegraph: The Iranian diplomat walking the tightrope between US and Tehran hardliners