ایران میں ممنوعہ ادب کا مطالعہ

تہران یونیورسٹی کی پروفیسر نے اپنے گھر میں خفیہ ادبی حلقہ قائم کیا، چند طالبات ہفتے میں ایک بار آتیں اور مغربی ادب کے اہم ناولوں پر گفتگو کرتیں

ایران میں ممنوعہ ادب کا مطالعہ

ریڈنگ لولیتا ان تہران ایرانی مصنفہ آذر نفیسی کی یادداشتوں کی کتاب ہے، جس میں وہ ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی حالات کو ادب کے ذریعے بیان کرتی ہیں۔

ایران میں جب انقلاب آیا تو وہ تہران یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی پروفیسر تھیں۔ ایران میں سخت مذہبی قوانین نافذ ہوئے اور خواتین کے لیے حجاب لازمی قرار دیا گیا۔ تعلیمی اداروں میں بھی سخت نظریاتی کنٹرول قائم ہوگیا۔ نفیسی کو اس نئے نظام سے شدید اختلاف تھا، خاص طور پر اس لیے کہ وہ فرد کی آزادی، تخلیقی سوچ اور عورت کی شناخت کو محدود کرتا تھا۔ جب یونیورسٹی میں ان پر حجاب لازمی کرنے اور نصاب کو نظریاتی رنگ دینے کا دباؤ بڑھا تو انھوں نے ملازمت چھوڑ دی۔

ملازمت چھوڑنے کے بعد نفیسی نے اپنے گھر میں خفیہ ادبی حلقہ قائم کیا۔ ان کی چند قابلِ اعتماد طالبات ہفتے میں ایک بار ان کے گھر آتیں اور مغربی ادب کے اہم ناولوں پر گفتگو کرتیں۔ ان طالبات کو اپنے روزمرہ کے سماجی دباؤ اور خوف سے نکل کر آزادانہ سوچنے اور بات کرنے کا موقع ملتا تھا۔

یہ کتاب مختلف حصوں میں تقسیم ہے اور ہر حصہ ایک بڑے ادبی شاہکار سے متعلق ہے، جیسے نابوکوف کا لولیتا، فٹزجیرالڈ کا دا گریٹ گیٹسبی، جین آسٹن کے ناول اور ہنری جیمز کا کام۔ نفیسی نے ان ناولوں کو ایران کے حالات کے تناظر میں پڑھایا۔

نفیسی نے لولیتا پڑھاتے ہوئے بتایا کہ جس طرح ناول میں مرکزی کردار اپنی کہانی پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور ایک لڑکی کی شناخت کو مسخ کرتا ہے، اسی طرح آمرانہ حکومتیں بھی عوام کی زندگی اور شناخت پر قابض ہوجاتی ہیں۔ وہ حقیقت کو اپنے مطابق بیان کرتی ہیں اور افراد کی ذاتی کہانیوں کو دبا دیتی ہیں۔

اسی طرح گیٹسبی کے ذریعے وہ خواب، مایوسی اور حقیقت کے تصادم کو بیان کرتی ہیں۔ ایرانی نوجوانوں کے خواب بھی انقلاب کے بعد ٹوٹ گئے تھے اور وہ ایک ایسی حقیقت میں جی رہے تھے جو ان کی خواہشات سے میل نہیں کھاتی تھی۔ جین آسٹن کے ناولوں کے ذریعے نفیسی نے خواتین کی خودمختاری، سماجی دباؤ اور ذاتی انتخاب کے موضوعات کو اجاگر کیا۔ ان کی طالبات نے اپنی زندگیوں کو ان کرداروں میں دیکھا اور ان کے ذریعے اپنے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔

کتاب کا ایک اہم پہلو طالبات کی ذاتی کہانیاں ہیں۔ ہر طالبہ کی اپنی ایک الگ زندگی، مشکلات اور خواب تھے۔ کوئی زبردستی کی شادی کی شکار ہے، کوئی مذہبی پابندیوں سے تنگ ہے، کوئی اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہے۔ یہ سب خواتین اس ادبی حلقے میں آ کر اپنی اصل شناخت تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

نفیسی نے ان طالبات کو صرف ادب نہیں پڑھایا بلکہ یہ سکھایا کہ سوال کرنا، سوچنا اور اپنی آواز پیدا کرنا کتنا ضروری ہے۔ وہ ادبی حلقہ ایک پناہ گاہ بن گیا جہاں وہ بغیر خوف کے اپنی بات کہہ سکتی تھیں۔

کتاب میں ایران کے سماجی حالات کی بھی جھلک ملتی ہے۔ اخلاقی پولیس، لباس پر پابندیاں، یونیورسٹیوں میں نظریاتی نگرانی اور روزمرہ زندگی میں خوف کا ماحول۔ خواتین کے لیے زندگی خاص طور پر مشکل تھی کیونکہ ان پر دوہرا دباؤ تھا۔ ایک ریاست کی طرف سے اور دوسرا خاندان اور معاشرے کی طرف سے۔

کتاب کا اختتام نفیسی کے ایران چھوڑنے کے فیصلے پر ہوتا ہے۔ وہ امریکہ منتقل ہوگئیں لیکن اپنے ساتھ ان یادوں، تجربات اور طالبات کی کہانیاں بھی لے آئیں۔ ان کے لیے ان کا ادبی حلقہ صرف تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ایسی جدوجہد تھی جس کے ذریعے انھوں نے اور ان کی طالبات نے اپنی انسانیت کو بچائے رکھا۔


 اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

The Atlantic: Why Reading Lolita in Tehran Holds Up

New York Times: Book Study as Insubordination Under the Mullahs