ایران کو فوجی سازوسامان نہیں دیں گے، چین
صدر شی جن پنگ نے ایران کے معاملے میں مدد کی پیشکش کی، ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ، وائٹ ہاوس کے مطابق دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھنا چاہیے، وال اسٹریٹ جرنل
چین نے ایران کے معاملے پر امریکا کو مدد کی پیشکش کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ایران کو فوجی سازوسامان فراہم نہیں کرے گا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول نہیں رکھنا چاہیے اور ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہیئں۔ وال اسٹریٹ جرنل اور ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے سرکاری ذرائع سے اس بارے میں خصوصی رپورٹس شائع کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ تجارت، تائیوان اور ٹیکنالوجی کے تنازعات میں الجھے ہوئے تھے اور صدر ٹرمپ کے دورہ چین میں انھیں پر توجہ کا امکان تھا۔ لیکن اچانک دونوں رہنما خلیج فارس اور ایران پر گفتگو کرنے لگے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے وائٹ ہاؤس کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران سے متعلق گفتگو کی۔ انھوں نے اتفاق کیا کہ ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول یا ٹول ٹیکس جیسی صورتحال پیدا نہیں کرنی چاہیے۔ دونوں رہنما اس بات پر بھی متفق تھے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہییں۔
فوکس نیوز کو ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ صدر شی نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ چین ایران کو فوجی سامان فراہم نہیں کرے گا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق چینی کمپنیاں ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے جڑی ہوئی ہیں۔ ماضی میں بیجنگ ایران پر پابندیوں کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اس کے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات بھی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ کے دعوے درست ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ چین ایران کو عسکری مدد دینے سے خود کو دور دکھانا چاہتا ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ صدر شی نے ایران کے معاملے میں مدد کی پیشکش کی اور چین آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صدر شی جن پنگ نے صدر ٹرمپ کو پیشکش کی کہ وہ ایران کے معاملے میں مدد کے لیے تیار ہیں۔
امریکا برسوں سے کہتا آیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ چین کا اس مؤقف کے قریب آنا واشنگٹن کی سفارتی کامیابی سمجھا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ چین ایران پر امریکی طرز کی سخت پابندیوں کی حمایت نہ کرے، لیکن وہ بھی یہ نہیں چاہتا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایٹمی بحران پیدا ہو۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بیجنگ نے امریکی تیل کی خریداری بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی تاکہ ہرمز کے راستے آنے والے تیل پر انحصار کم کیا جاسکے۔ یہ ایران کے لیے معاشی دھچکا ہوسکتا ہے کیونکہ چین ایرانی تیل کی سب سے بڑی منڈی سمجھا جاتا ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق ایشیا سوسائٹی کے تجزیہ کار جِنگ چیان نے کہا کہ امریکا اور چین صرف دوطرفہ تعلقات کی بات نہیں کررہے بلکہ مشترکہ عالمی خطرات پر گفتگو کررہے ہیں۔ ایران، توانائی اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان نئی سفارتی زبان بن رہی ہے۔
ایران کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہے اور خطرہ بھی۔ موقع اس لیے کہ دنیا کی دو بڑی طاقتیں اس کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں، جس سے اس کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ خطرہ اس لیے کہ اگر امریکا اور چین اس سے متعلق کسی بنیادی نکتے پر متفق ہوگئے تو اس کی سفارتی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Wall Street Journal: White House Says Trump, Xi Agree Iran Shouldn’t Control Strait
South China Morning Post: Trump says Xi offered help on Iran as China seeks to keep Hormuz open