ایران کو کون چلا رہا ہے؟
نئے منظرنامے میں اصل طاقت ایک محدود لیکن انتہائی بااثر حلقے کے پاس ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر جرنیل شامل ہیں۔ یوں ایران میں طاقت کا مرکز مذہبی اداروں سے ہٹ کر عسکری اداروں کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دیتا ہے
ایران کو برسوں تک ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جاتا رہا جہاں فرد واحد یعنی سپریم لیڈر حتمی اختیار رکھتا تھا۔ لیکن جنگ کے بعد یہ تصویر بدل گئی۔ اعلیٰ قائدین کے قتل اور اندرونی دباؤ نے طاقت کے توازن کو نئی شکل دے دی ہے۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ ایران کا لیڈر کون ہے بلکہ یہ ہے کہ اصل فیصلے کہاں ہورہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای اگرچہ سپریم لیڈر کے منصب پر موجود ہیں لیکن وہ اپنے والد کی طرح مکمل اختیار نہیں رکھتے۔ اگر ان کی طبیعت بحال ہے تو بھی ان کی حیثیت محض ایسے نگران کی ہے جو فیصلوں کی توثیق کرتا ہے۔ پالیسی سازی کا مرکز کہیں اور منتقل ہوچکا ہے۔ یہ تبدیلی وقتی نہیں بلکہ ایک گہرے عمل کا نتیجہ ہے جس نے ایران میں اقتدار کے ڈھانچے کو اندر سے بدل دیا ہے۔
اس نئے منظرنامے میں اصل طاقت ایک محدود لیکن انتہائی بااثر حلقے کے پاس ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر جرنیل شامل ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف فوجی کارروائیوں کی قیادت کرتے ہیں بلکہ سفارتی حکمت عملی اور ریاستی پالیسی کے بڑے فیصلوں میں بھی مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ یوں ایران میں طاقت کا مرکز مذہبی اداروں سے ہٹ کر عسکری اداروں کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
اس حلقے میں سب سے نمایاں نام احمد وحیدی کا ہے۔ وہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ہیں اور موجودہ حالات میں طاقتور فیصلہ ساز کے طور پر ابھرے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اثر و رسوخ نے ایران کی پالیسی کو زیادہ سخت اور محتاط بنادیا ہے۔ ان کی قیادت میں فوجی اور سیکیورٹی اداروں نے نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ سفارتی سطح پر بھی اپنی گرفت مضبوط کی ہے۔
محمد باقر قالیباف ایک اور اہم کردار ہیں، جو اس طاقت کے ڈھانچے کو سمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ بظاہر پارلیمنٹ کے اسپیکر ہیں لیکن ان کی اصل اہمیت فوجی پس منظر اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے قریبی تعلق میں ہے۔ انھیں اکثر ایسے چہرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو عالمی سطح پر ایران کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کی موجودگی ظاہر کرتی ہے کہ ایران میں فوجی اور سیاسی کردار اب ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔
محمد باقر ذوالقدر بھی اس سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ وہ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ہیں اور ان کا پورا کیریئر سیکیورٹی اداروں سے جڑا رہا ہے۔ ان جیسے افراد پس منظر میں رہ کر پالیسی سازی کرتے ہیں اور ایسے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں جو بظاہر عوامی یا سیاسی سطح پر نظر نہیں آتے ۔ ان کے ساتھ یحییٰ رحیم صفوی جیسے سینئر فوجی مشیر بھی شامل ہیں جو قیادت کو اسٹریٹیجک رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اس تبدیلی کے ساتھ منتخب حکومت کا کردار محدود ہوتا جارہا ہے۔ صدر اور کابینہ اب زیادہ تر اندرونی معاملات، جیسے معیشت، خوراک اور روزمرہ انتظام تک محدود ہیں، جبکہ خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی کے معاملات اس طاقتور حلقے کے دائرے میں آچکے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں طاقت کی اصل تقسیم اب روایتی آئینی ڈھانچے سے ہٹ گئی ہے۔
یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ گزشتہ دو دہائیوں میں پاسدارانِ انقلاب نے آہستہ آہستہ اپنی پوزیشن مضبوط کی۔ انھوں نے معیشت کے بڑے شعبوں میں قدم رکھا، انٹیلی جنس نظام پر گرفت قائم کی اور خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک کو وسعت دی۔ وقت کے ساتھ یہ ادارہ صرف ایک فوجی قوت نہیں رہا بلکہ ایک ہمہ گیر طاقت میں تبدیل ہوگیا۔
آج کا ایران اسی طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ بظاہر ایک مذہبی ریاست لیکن عملی طور پر ایک سیکیورٹی اسٹیٹ، جہاں مذہبی قیادت موجود ہے لیکن فیصلہ سازی کا مرکز کہیں اور ہے۔ اس نظام میں افراد بدل سکتے ہیں لیکن ڈھانچہ قائم رہتا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔