اے آئی انڈسٹری پر کنٹرول کی کشمکش
مسک عدالت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اوپن اے آئی کو دوبارہ مکمل غیر منافع بخش بنایا جائے اور اس کی قیادت کو تبدیل کیا جائے
امریکی میڈیا ان دنوں ایلون مسک اور سیم آلٹمین کے درمیان جاری قانونی اور کاروباری تنازع کی خبروں سے بھرا ہوا ہے۔ یہ صرف دو شخصیات کا جھگڑا نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔ اس تنازع کو سمجھنے کے لیے اس کا پس منظر جاننا ضروری ہے، کیونکہ وہی عدالت تک پہنچنے والی کشمکش کی بنیاد ہے۔
مسک اور آلٹمین نے 2015 میں مل کر اوپن اے آئی کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا مقصد تھا کہ مصنوعی ذہانت کو منافع کمانے کے بجائے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اس وقت ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ ایک منفرد خیال تھا کہ ایک بڑی تحقیقاتی کمپنی غیر منافع بخش ہو اور اپنی ٹیکنالوجی دنیا کے ساتھ شیئر کرے۔
ابتدا میں دونوں کے درمیان قریبی تعلق تھا۔ آلٹمین خود کہتے رہے کہ وہ مسک کو اپنا ہیرو سمجھتے تھے۔ لیکن جلد مسائل پیدا ہونے لگے۔
اے آئی میں تحقیق اور ترقی کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت سامنے آئی تو کمپنی کے اندر بحث شروع ہوئی کہ کیا غیر منافع بخش ماڈل پر چلنا ممکن ہے۔ 2017 کے آس پاس کمپنی نے ایک نیا ماڈل اپنایا جس میں ایک منافع بخش ادارہ بنایا گیا، جسے غیر منافع بخش کمپنی کنٹرول کرتی تھی۔
یہ وہ مقام تھا جہاں اختلاف کھل کر سامنے آیا۔ اوپن اے آئی کے مطابق ایلون مسک چاہتے تھے کہ یا تو کمپنی ٹیسلا کے ساتھ ضم ہوجائے یا پھر انھیں مکمل کنٹرول دیا جائے۔ جب ایسا نہیں ہوا تو انھوں نے 2018 میں کمپنی چھوڑ دی۔ بعد میں آلٹمین سی ای او بن گئے۔
ایلون مسک نے 2024 میں اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ دائر کیا۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی نے اپنی اصل بنیاد، یعنی انسانیت کے فائدے کے لیے کھلی تحقیق سے انحراف کیا اور منافع کو ترجیح دی۔
مسک عدالت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اوپن اے آئی کو دوبارہ مکمل غیر منافع بخش بنایا جائے اور اس کی قیادت کو تبدیل کیا جائے۔ دوسری طرف اوپن اے آئی کا مؤقف ہے کہ مسک دراصل اپنی نئی کمپنی ایکس اے آئی کے مفادات کے لیے یہ سب کررہے ہیں اور اپنے حریف کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔
بلومبرگ اور واشنگٹن پوسٹ جیسے میڈیا اداروں نے اس تنازع کو اے آئی انڈسٹری کے کنٹرول کی جنگ قرار دیا ہے۔ عدالتی دستاویزات میں سامنے آنے والی معلومات نے اس تنازع کو مزید سنسنی خیز بنادیا ہے۔ سابقہ معاملات کے دوران خفیہ پیغامات، ای میلز اور مسک کی دیگر ٹیک رہنماؤں کے ساتھ نجی گفتگوئیں منظر عام پر آئیں۔ ایک ساتھی پر الزام لگا کہ وہ اوپن اے آئی کے اندر سے مسک کو معلومات فراہم کررہی تھیں۔
اوپن اے آئی آج دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنیوں میں شامل ہے اور مائیکروسوفٹ اس کی بڑی سرمایہ کار ہے۔ اگر عدالت مسک کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو کمپنی کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کو نقصان ہوسکتا ہے۔ اس تنازع میں سیاسی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی میڈیا کے مطابق مسک کا واشنگٹن میں اثر و رسوخ اوپن اے آئی کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
New York Times: Et Tu, Brute? What Elon Musk’s Clash With Sam Altman Is Really About
Bloomberg: Altman Versus Musk: How the Biggest Feud In Tech Landed in Court