اے آئی کا استعمال بھیجا فرائی کرنے لگا
بیک وقت کئی ٹولز سنبھالنے سے ملٹی ٹاسکنگ بڑھ جاتی ہے اور کام زیادہ مشکل محسوس ہونے لگتا ہے
آج کے دور میں اے آئی کو ایک ایسے آلے کے طور پر پیش کیا جارہا ہے جو کام کو آسان بناتا ہے اور کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن حقیقت میں بہت سے کارکن یہ محسوس کر رہے ہیں کہ اے آئی ان کے کام کو آسان بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا بنارہی ہے۔
مثال کے طور پر ایک پلیٹ فارم گیس ٹاؤن متعارف کرایا گیا جو بیک وقت کئی اے آئی ایجنٹس کو استعمال کرکے تیزی سے سافٹ ویئر تیار کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی رفتار متاثر کن تھی لیکن کوڈنگ کرنے والوں نے شکایت کی کہ اتنی تیزی اور پیچیدگی کو سمجھنا مشکل ہوگیا اور اس سے ذہنی دباو پیدا ہوا۔
کمپنیوں میں اب ملازمین کو مختلف اے آئی ٹولز کے ساتھ کام کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ بعض ادارے تو اے آئی کے استعمال کی مقدار، جیسے کوڈ کی لائنز یا ٹوکنز کو کارکردگی کا پیمانہ بنارہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملازمین کو بیک وقت کئی ٹولز سنبھالنے پڑتے ہیں۔ اس سے ملٹی ٹاسکنگ بڑھ جاتی ہے اور کام زیادہ مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔
بہت سے کارکنوں نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ اے آئی کے ساتھ کام کرتے ہوئے ان کی توجہ بٹ جاتی ہے، ذہن بھر جاتا ہے اور شدید تھکن محسوس ہوتی ہے۔ ایک انجینئر نے لکھا کہ وہ کام سے نہیں بلکہ کام کو سنبھالنے سے تھک جاتے ہیں۔ کئی ادھورے کام، بار بار چیک کرنا اور یہ احساس کہ وہ کنٹرول کھو رہے ہیں۔
اسی صورتحال کو سمجھنے کے لیے محققین نے 1488 امریکی ملازمین پر تحقیق کی۔ اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ اے آئی کے ساتھ کام کرنے سے ایک خاص قسم کی ذہنی تھکن پیدا ہوتی ہے، جسے انھوں نے اے آئی برین فرائی کا نام دیا۔ اس سے مراد وہ ذہنی دباو ہے جو اے آئی کے زیادہ استعمال یا نگرانی سے انسان کو متاثر کرتا ہے۔
شرکا نے بتایا کہ انھیں ذہنی دھند، سر میں بھاری پن، توجہ میں کمی، فیصلے کرنے میں سستی اور حتیٰ کہ سر درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں بلکہ اداروں پر بھی پڑتے ہیں۔ جیسے غلطیوں میں اضافہ، فیصلہ سازی میں کمزوری اور نوکری چھوڑنے کے رجحان میں اضافہ۔
تحقیق سے ایک اہم بات یہ سامنے آئی کہ اے آئی کا سب سے زیادہ تھکا دینے والا پہلو اس کی نگرانی ہے۔ جن ملازمین کو اے آئی کے نتائج مسلسل چیک کرنے پڑتے ہیں، وہ زیادہ ذہنی توانائی خرچ کرتے ہیں۔ اسی طرح جب اے آئی کی وجہ سے کام کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے تو ذہنی دباو میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
ایک اور دلچسپ نتیجہ یہ تھا کہ جب ملازمین ایک یا دو اے آئی ٹول استعمال کرتے ہیں تو کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ لیکن تین سے زیادہ ٹولز کے بعد کارکردگی کم ہونے لگتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ ملٹی ٹاسکنگ فائدے کے بجائے نقصان پہنچاسکتی ہے۔
البتہ اے آئی ہمیشہ نقصان دہ نہیں۔ جب اسے دوہرائے جانے والے یا بور کاموں کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے برن آؤٹ یعنی جذباتی تھکن کم ہوتی ہے۔ ایسے ملازمین خود کو زیادہ مطمئن، متحرک اور تخلیقی محسوس کرتے ہیں۔
تحقیق نے یہ بھی دکھایا کہ اے آئی برین فرائی مختلف شعبوں میں مختلف سطح پر پایا جاتا ہے۔ مارکیٹنگ، آپریشنز، انجینئرنگ اور آئی ٹی کے شعبوں میں یہ زیادہ عام تھا، جبکہ قانونی شعبے میں کم۔
کاروباری لحاظ سے اس کے بڑے نقصانات ہیں۔ اے آئی برین فرائی کا شکار ملازمین میں فیصلہ سازی کی تھکن 33 فیصد زیادہ پائی گئی۔ اسی طرح غلطیوں کی شرح بھی بڑھ گئی۔ خاص طور پر بڑی غلطیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مزید یہ کہ ایسے ملازمین میں نوکری چھوڑنے کا رجحان بھی زیادہ تھا۔
انتظامی سطح پر بھی کچھ عوامل اہم ثابت ہوئے۔ اگر منیجرز ملازمین کو اے آئی کے استعمال میں رہنمائی دیں تو ذہنی دباو کم ہوتا ہے۔ اگر ملازمین کو خود سیکھنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو تھکن بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر ادارے واضح پالیسی اور تربیت فراہم کریں تو نتائج بہتر ہوتے ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں: