اویغور قوم کی شناخت، ثقافت اور اجتماعی یادداشت کو خطرات
بچوں کو بورڈنگ اسکول میں ڈال کر مادری زبان بولنے سے روکا جاتا ہے، بڑوں کو دوسرے صوبوں میں ملازمت کے لیے بھیجا جاتا ہے، اویغور کتابیں تلف کی جارہی ہیں، فائننشل ٹائمز کی تحقیقی رپورٹ
اگست 2024 میں اویغور سماجی کارکن اکپار اسات کے والدین نے چین کے صوبے سنکیانگ کی ایک جیل کا طویل سفر کیا۔ تقریباً آٹھ برس بعد یہ پہلا موقع تھا جب وہ اپنے بیٹے سے ملنے جارہے تھے۔
اکپار اسات کو 2016 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اویغور زبان کی ایک مقبول ویب سائٹ کے بانی تھے اور امریکا کے ایک لیڈرشپ پروگرام میں شرکت کرکے واپس آئے تھے۔ چینی حکام نے ان پر نسلی نفرت بھڑکانے کا الزام لگاکر قید کر دیا۔ والدین اور بیٹے کے درمیان ملاقات صرف چند منٹ جاری رہی اور ان کے درمیان شیشے کی دیوار حائل تھی۔ خاندان کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صرف چینی زبان میں بات کریں، حالانکہ اکپار کے والدین اس زبان میں زیادہ مہارت نہیں رکھتے تھے۔ انھیں جذبات کے اظہار کی بھی اجازت نہیں تھی۔ اکپار کی بہن کے مطابق قید کے برسوں نے ان کے بھائی کو اس قدر کمزور کردیا تھا کہ وہ پہچانے نہیں جا رہے تھے۔
اکپار اسات ان تقریباً دس لاکھ افراد میں شامل ہیں جو گزشتہ دہائی میں سنکیانگ میں اویغوروں اور دیگر مسلم اقلیتوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا ہدف بنے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے حراستی کیمپوں، جبری مشقت اور وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی اطلاعات دیں، جس پر دنیا بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
چینی حکومت نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ متنازع تربیتی مراکز بند کردیے گئے ہیں اور وہاں موجود افراد "فارغ التحصیل" ہوچکے ہیں۔ لیکن برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز کی تحقیق کے مطابق حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ بہت سے کیمپ ضرور بند ہوئے، لیکن ان کی جگہ ایک نیا نظام سامنے آیا ہے جس میں جیلیں، نگرانی، ثقافتی انضمام اور آبادی کی سماجی تشکیل نو شامل ہیں۔
اخبار کے مطابق سنکیانگ ایسا خطہ بن چکا ہے جہاں آبادی کے تناسب سے جیلوں اور حراستی مراکز کی گنجائش سب سے زیادہ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اب مقصد صرف افراد کو قید کرنا نہیں بلکہ اویغور معاشرے کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا ہے۔
سنکیانگ چین کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خطہ وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کو ملانے والی تجارتی راہداریوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں کوئلے، تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ چینی قیادت اسے ملک کی معاشی ترقی کا اہم انجن سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں استحکام اور کنٹرول کو قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیتی ہے۔
صدر شی جن پنگ بارہا دہشت گردی کے خلاف تیاری اور قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دے چکے ہیں۔ ریاستی میڈیا کے مطابق انھوں نے مذہب کو چینی حقائق کے مطابق ڈھالنے اور تمام نسلی گروہوں کو مشترک قومی شناخت کے تحت لانے کی بات بھی کی ہے۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ یہی ہے۔ اویغوروں کی اپنی زبان، ثقافت اور اسلامی شناخت انھیں اکثریتی ہان چینی آبادی سے الگ کرتی ہے۔ ناقدین کے مطابق حکومت اس انفرادیت کو ختم کرکے انھیں مکمل طور پر مرکزی چینی شناخت میں ضم کرنا چاہتی ہے۔
سنکیانگ سے معلومات حاصل کرنا آسان نہیں۔ صحافیوں کی نقل و حرکت محدود رہتی ہے، آن لائن مواد پر سخت نگرانی کی جاتی ہے اور بیرون ملک مقیم اویغور اکثر اپنے رشتے داروں سے رابطہ کھو دیتے ہیں۔ اس کے باوجود سابق سرکاری اہلکاروں، جلاوطن اویغوروں اور حال میں چین چھوڑنے والے افراد کی شہادتوں سے ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔
فائننشل ٹائمز نے سیٹلائٹ تصاویر، سرکاری دستاویزات اور دوسرے ذرائع کی مدد سے 579 حراستی مراکز، جیلوں اور نظربندی کے کمپاؤنڈز کا جائزہ لیا۔ اس سے اندازہ ہوا کہ آج بھی سنکیانگ میں تقریباً 6 لاکھ 27 ہزار افراد کو قید رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ یہ تعداد مقامی آبادی کے تقریباً ہر چالیس میں سے ایک فرد کے برابر بنتی ہے۔
وہاں 2017 سے 2022 کے درمیان پانچ لاکھ 78 ہزار سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمات چلائے گئے۔ چین میں سزا سنانے کی شرح 99 فیصد سے زیادہ ہے، اس لیے محققین کا خیال ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی جیلوں میں ہیں۔ اگر سنکیانگ ایک ملک ہوتا تو اس کے قیدیوں کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہوتی۔
چین کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جاتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے اقدامات کا مقصد دہشت گردی، انتہا پسندی اور غربت کا خاتمہ ہے۔ حکام کے مطابق تمام پالیسیاں قانون کے مطابق ہیں اور انھوں نے خطے کے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا ہے۔
ایک سابق پولیس اہلکار ژانگ یابو تقریباً ایک دہائی تک سنکیانگ میں خدمات انجام دیتے رہے۔ ان کے مطابق مقامی پولیس کو مختصر مدت کی احتیاطی گرفتاریوں کے اہداف دیے جاتے تھے۔ لوگوں کو چند دنوں یا ہفتوں کے لیے حراستی مراکز میں رکھا جاتا تھا تاکہ خوف اور نگرانی کا ماحول برقرار رہے۔
ان کے مطابق بعض اوقات گرفتاری کی وجوہات نہایت معمولی ہوتیں۔ کسی گھر میں نقشہ مل جانا، ورزش کا سامان رکھنا، مذہبی کتابیں یا جائے نماز موجود ہونا، رمضان میں روزہ رکھنا یا بیرون ملک سفر کرنا بھی شک کی بنیاد بن سکتا تھا۔
اکپار اسات کی طرح ہزاروں خاندان آج بھی اپنے عزیزوں کی رہائی کے منتظر ہیں۔ بہت سے افراد برسوں تک لاپتا رہتے ہیں اور ان کے اہلخانہ کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ زندہ ہیں یا نہیں۔
لیکن اویغور شناخت کے لیے سب سے بڑا خطرہ شاید جیلیں نہیں بلکہ تعلیمی نظام ہے۔ سنکیانگ میں بورڈنگ اسکول پہلے بھی موجود تھے، لیکن حالیہ برسوں میں ان کی تعداد اور اہمیت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ان اداروں کا مقصد بچوں کو مینڈرن زبان سکھانا اور خاندان کے مذہبی اثرات کو محدود کرنا ہے۔ محققین کے مطابق 2024 تک جنوبی سنکیانگ کے بعض علاقوں میں 90 فیصد بچے بورڈنگ اسکولوں میں زیر تعلیم تھے۔ ان اسکولوں میں تعلیم کا ذریعہ مینڈرن زبان ہے۔ اویغور خاندانوں کا کہنا ہے کہ بچوں کو اپنی مادری زبان بولنے سے روکا جاتا ہے۔
ماہر لسانیات عبدولی ایوپ کے مطابق چھوٹے بچے بہت جلد اپنی زبان بھول جاتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں بہن بھائی مختلف چینی لہجے سیکھ کر اتنے بدل گئے ہیں کہ آپس میں بھی اویغور زبان میں گفتگو نہیں کرسکتے۔ اویغور کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو اپنی زبان، ثقافت اور تاریخی شناخت سے دور ہوتی جارہی ہے۔
اس دوران آبادی میں اضافے کی شرح بھی نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ بعض محققین کا دعویٰ ہے کہ پیدائش پر کنٹرول کی سخت پالیسیوں نے اویغور آبادی کی شرح کو تیزی سے کم کیا۔ چینی حکومت ان الزامات کو بھی مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔
ثقافتی انضمام کا دباؤ یونیورسٹیوں تک جاری رہتا ہے۔ ایک سابق یونیورسٹی ملازم کے مطابق ہر پچاس اویغور طلبہ پر ایک نگران مقرر کیا جاتا تھا جس کا کام طلبہ کی مسلسل نگرانی کرنا تھا۔ ہاسٹلوں کی تلاشی لی جاتی، اویغور زبان کی کتابیں ضبط کی جاتیں اور طلبہ کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی۔ رمضان کے دوران یہ بھی دیکھا جاتا تھا کہ مسلمان طلبہ کھانا کھارہے ہیں یا نہیں۔ بعض اساتذہ کو مخصوص طلبہ کے ساتھ روزانہ کھانا کھانے اور اس کی تصاویر جمع کرانے کا حکم دیا جاتا تھا۔
سابق ملازم کے مطابق خود اویغور اساتذہ اور عملے کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ان سے ہفتہ وار پوچھ گچھ ہوتی، سیاسی نظریات کے بارے میں سوال کیے جاتے اور بعض خواتین سے یہ تک پوچھا جاتا کہ وہ ہان چینی مردوں سے شادی کیوں نہیں کرتیں۔
اب نگرانی کا نظام بھی پہلے سے کہیں زیادہ جدید ہوچکا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ترجمے، موبائل فون مانیٹرنگ اور چہرے کی شناخت جیسی ٹیکنالوجیز نے نجی زندگی کو بہت مشکل بنادیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آج سنکیانگ میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شخص کو ہر وقت دیکھا جارہا ہو۔
ایک اور اہم پہلو لیبر ٹرانسفر پروگرام ہے۔ حکومت اویغور مزدوروں کو سنکیانگ سے نکال کر چین کے دوسرے صوبوں میں ملازمتوں کے لیے بھیج رہی ہے۔ سرکاری موقف یہ ہے کہ اس کا مقصد غربت کا خاتمہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کے بعض ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان پروگراموں میں جبری مشقت کے عناصر موجود ہیں۔ مزدوروں پر کڑی نگرانی رکھی جاتی ہے، انھیں نظریاتی تربیت دی جاتی ہے اور ان کے ساتھ پارٹی اہلکار تعینات کیے جاتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق 2024 میں صرف کاشغر کے علاقے سے بیس ہزار سے زیادہ افراد کو سرکاری پروگراموں کے تحت مختلف علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ بعض محققین کا اندازہ ہے کہ 2025 میں اس قسم کے تبادلوں کی تعداد تیس لاکھ تک پہنچ گئی۔ ناقدین کے مطابق اس کا مقصد صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ اویغور آبادی کو ان کے روایتی معاشرتی ڈھانچے، خاندانوں اور ثقافتی ماحول سے الگ کرنا بھی ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں اویغور ثقافت کے بہت سے نمایاں مظاہر غائب ہوچکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اویغور زبان کے متعدد اشاعتی ادارے بند ہوگئے، کتابیں لائبریریوں اور دکانوں سے ہٹادی گئیں اور بعض ذخائر کو تلف کردیا گیا۔ سنکیانگ یونیورسٹی کبھی اویغور زبان کے ذخیرے کے لیے مشہور تھی۔ اس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہاں موجود بڑی تعداد میں کتابیں 2018 میں ضائع کردی گئیں۔
مساجد پر بھی سخت نگرانی برقرار ہے۔ بعض سابق سرکاری ملازمین کے مطابق مقامی حکام لوگوں کو نماز میں شرکت کے لیے لاتے اور تصویریں بنا کر یہ تاثر دیتے تھے کہ مذہبی آزادی موجود ہے۔ بعض تاریخی مساجد سے قرآنی آیات اور مذہبی کتبے ہٹادیے گئے۔
چینی حکومت ان تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اویغور زبان، ثقافت اور مذہبی روایات محفوظ ہیں اور انھیں فروغ دیا جارہا ہے۔ لیکن حکومت نسلی اتحاد، مشترک قومی شناخت اور مینڈرن زبان کے فروغ کو اپنی ترجیح قرار دیتی ہے۔
اویغور کارکنوں اور انسانی حقوق کے اداروں کے نزدیک مسئلہ یہی ہے۔ ان کے مطابق سنکیانگ میں صرف افراد کو قید نہیں کیا جارہا بلکہ ایک پوری قوم کی زبان، ثقافت، مذہبی شناخت اور اجتماعی یادداشت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی لیے بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اویغوروں کے خلاف مہم اپنے پہلے مرحلے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ حراستی کیمپ شاید عالمی تنقید کے باعث کم نمایاں ہو گئے ہوں، لیکن ان کی جگہ ایک ایسا نظام لے رہا ہے جو جیلوں، نگرانی، تعلیمی اداروں، آبادی کی منتقلی اور ثقافتی انضمام کے ذریعے نئی سماجی حقیقت تشکیل دینا چاہتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Financial Times: How China is breaking apart a people and its culture
BBC: Who are the Uyghurs and why is China being accused of genocide?