ورلڈکپ کی ڈائری، پہلی قسط

ہم فٹبال اور اس کے کھلاڑیوں کے پیچھے موجود فلسفے، ادب اور فنون کا جائزہ لیں گے اور ساتھ ہی اس کھیل سے جڑے تنازعات پر بھی نظر رکھیں گے

ورلڈکپ کی ڈائری، پہلی قسط

حاضر ڈینیز اہکر اور سانڈر پلے، یوروپین ریویو آف بکس

پہلا دن

دنیا میں شاید ہی کوئی چیز اتنی غیر منطقی دکھائی دیتی ہو جتنی یہ حقیقت کہ بائیس آدمیوں کے ایک گیند کو لاتیں مارنے سے پوری دنیا میں اجتماعی جنون کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔

بدقسمتی یا خوش قسمتی سے فٹبال صرف ایک نیم مذہبی تجربہ ہی نہیں بلکہ ان چند چیزوں میں سے بھی ہے جنھیں اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں پڑتی۔ درحقیقت فٹبال خود کو غیر دلکش بنانے کی پوری کوشش بھی کرتا رہتا ہے۔ ٹکٹوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں، خود پسند امریکی صدر کی کھلی تشہیر، ماحولیاتی اثرات، شائقین، کھلاڑیوں، عملے اور آفیشلز کے ساتھ امتیازی سلوک، عالمی ادارے فیفا میں برسوں سے جاری بدعنوانی، اور ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

اس سب کے باوجود، گویا گھڑی کی سوئیوں کی طرح باقاعدگی سے، انسانوں کی ایک بڑی تعداد حقیقت سے عارضی طور پر نظریں چُرا لیتی ہے۔ پھر ان کی ذاتی اور قومی امیدیں اس بات سے وابستہ ہوجاتی ہیں کہ آیا گیند ٹی وی اسکرین پر نظر آنے والے بڑے مستطیل جال میں داخل ہوتی ہے یا نہیں، اور یہ کہ میچ رات نو بجے شروع ہوگا یا صبح تین بجے۔

آئندہ انتالیس دنوں تک ہم 2026 کے ورلڈکپ کی ڈائری لکھیں گے۔ یہ اب تک کا سب سے بڑا ورلڈ کپ ہے جو میکسیکو، امریکا اور کینیڈا میں منعقد ہورہا ہے، تین ایسے ممالک میں جن کے سیاسی اور سماجی حالات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔ ہم فٹبال اور اس کے کھلاڑیوں کے پیچھے موجود فلسفے، ادب اور فنون کا جائزہ لیں گے، اور ساتھ ہی اس کھیل سے جڑے تنازعات پر بھی نظر رکھیں گے۔

 

دوسرا دن

فٹبال پسند نہ کرنے کا گناہ

ممکن ہے آپ کو فٹبال میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اس کھیل سے نفرت کرتے ہوں۔ لیکن شاید ہی کوئی شخص اس سے اتنی شدید نفرت کرتا ہو جتنی جنوبی کوریا کے معروف فلم ساز پارک چان ووک کرتے ہیں۔ اپنے مضمون فٹبال پسند نہ کرنے کا گناہ میں، جس کا حال ہی میں پہلی بار انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے، پارک نے 2002 کے ورلڈکپ کے دوران اپنی اذیت کا حال بیان کیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ جاپان اور ان کے اپنے ملک جنوبی کوریا میں منعقد ہوا تھا۔

فٹبال سے ان کی نفرت انھیں خدا کے قریب لے آئی۔ وہ لکھتے ہیں، "ایک فیصلہ کن اتوار کو میں بیس برس بعد پہلی بار چرچ گیا۔ ایک پادری نے مجھ سے پوچھا، 'میرے بچے، تمھیں کس بات نے پریشان کر رکھا ہے؟' میں نے کہا، 'میں... وہ... نہیں، میں یہ نہیں کہہ سکتا۔' پادری نے کہا، 'خداوند تمہارے تصور سے کہیں زیادہ مہربان ہے۔ بتاؤ، تم نے کون سا گناہ کیا ہے؟' میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا 'مجھے۔۔۔ مجھے فٹبال پسند نہیں ہے۔"

تمام خوش فہموں کے اندازوں سے بڑھ کر جنوبی کوریا اس ٹورنامنٹ میں چوتھے نمبر پر آیا اور اس نے دنیا کی کئی بڑی فٹبال طاقتوں کو شکست دی۔ ہر گزرتے منٹ، ہر گول اور ہر فتح کے ساتھ پارک کی مایوسی بڑھتی چلی گئی۔ انہوں نے اپنی کیفیت کا موازنہ چنِلپا سے کیا، یعنی ان کوریائی افراد سے جنھوں نے جاپانی استعمار کے دور میں جاپان کا ساتھ دیا تھا اور جاپانی سلطنت کے خاتمے کے بعد بھی کوریا میں چھپ کر زندگی گزارتے رہے۔

وہ لکھتے ہیں، "کیا جاپان کے ساتھ تعاون کرنے والے لوگ بھی اتنے ہی خوف میں جیتے تھے؟ ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ میں پوری قوت سے چیخ رہا ہوں: 'مجھے ورلڈ کپ سے نفرت ہے۔' اور اس کے بعد میرا چہرہ بگڑ گیا، میرا منہ مسخ ہوگیا۔"

صرف ایک سال بعد پارک چان ووک نے اپنی شہرۂ آفاق فلم اولڈ بوائے بنائی۔ یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو ایسے حالات میں قید ہوجاتا ہے جنھیں وہ سمجھ نہیں پاتا، اور تنہائی، بے بسی اور مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ آخرکار وہ تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

پارک لکھتے ہیں، "ایک عام آدمی اس خوف اور بدگمانی کی گہرائی کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتا جس کا سامنا ایک ایسے قومی غدار کو ہوتا ہے جو چھپ کر زندگی گزار رہا ہو۔"

ہم پارک چان ووک کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، کیونکہ آج صبح ورلڈ کپ کے اپنے پہلے میچ میں جنوبی کوریا نے شاندار واپسی کرتے ہوئے چیکیہ کو شکست دے دی۔

 

تیسرا دن

فٹبال کی دنیا میں ساکر

امریکا کی ایک عادت دنیا بھر میں اکثر مذاق کا نشانہ بنتی ہے۔ وہاں بیس بال، آئس ہاکی یا باسکٹ بال کی قومی لیگ جیتنے والی ٹیموں کو ورلڈ چیمپین کہا جاتا ہے۔ بہت سے غیر ملکی اسے امریکی بالادستی کے رجحان کی علامت سمجھتے ہیں، لیکن یہ اس روایت کی بھی جھلک ہے جس کے تحت امریکا نے کھیلوں کو قومی شناخت بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا۔

فٹبال کی تاریخ پر لکھی گئی اپنی کتاب ساکر ان اے فٹبال ورلڈ میں ڈیوڈ وینجرن لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی کے آخر میں امریکی جامعات کی ابھرتی ہوئے تعلیمی اور سماجی اشرافیہ نے اپنی ثقافتی خودمختاری ثابت کرنے کے لیے ایسے کھیل پیدا کرنے کی کوشش کی جو خالصتاً امریکی ہوں۔

اسی سوچ کے تحت امریکن فٹبال اور بیس بال کے قواعد اس انداز میں تشکیل دیے گئے کہ وہ برطانوی اور کینیڈین کھیلوں سے مختلف نظر آئیں۔ اس عمل میں غیر ملکی نژاد امریکی تقریباً نظرانداز کردیے گئے، حالانکہ 1890 میں وہ ملک کی آبادی کا تقریباً 15 فیصد تھے۔

دوسری طرف یہی تارکینِ وطن، خواہ پہلی نسل کے ہوں یا دوسری نسل کے، خاموشی سے فٹبال کے کلب اور لیگیں چلا رہے تھے۔ انھیں کی بدولت امریکا میں فٹبال کی شمع روشن رہی، اگرچہ بعض حلقوں کی نظر میں اسی وجہ سے یہ کھیل غیر امریکی بھی سمجھا جانے لگا۔

وینجرن لکھتے ہیں کہ ایک ایسے ملک میں جہاں قومی نعرہ ای پلوریبس اونم یعنی "بہت سوں سے ایک" ہو، فٹبال کو ان لوگوں کے ہاتھ میں چھوڑ دینا، جنھیں تھیوڈور روزویلٹ اور ان جیسے سیاست دان حقارت سے "ہائفنیٹڈ امریکنز" (مثلاً آئرش امریکن، اطالوی امریکن) کہتے تھے، دراصل اس کھیل کو مستقل طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے مترادف تھا۔

ایک صدی سے زیادہ گزر جانے کے باوجود امریکا میں فٹبال کی مقبولیت اب بھی دنیا کے بیشتر ممالک جیسی نہیں۔ آج بھی ملک میں غیر ملکی نژاد باشندوں کا تناسب تقریباً 15 فیصد ہے، اور حکومت بھی اکثر تارکینِ وطن کو مرکزی دھارے سے الگ رکھنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ اسی ہفتے صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی ملک بدری کی پالیسیوں پر مزید ستر ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔

اس دوران امریکی ٹیم نے اپنے ورلڈکپ کا آغاز پیراگوئے کے خلاف چار ایک کی شاندار فتح سے کیا۔ دن کے سب سے نمایاں کھلاڑی فولارین بلوگن تھے جنھوں نے دو گول کیے۔ ان کی زندگی خود اس سوال کا دلچسپ جواب ہے کہ 'امریکی' کسے کہا جائے۔ ان کی پیدائش نیویارک کے علاقے بروکلین میں ہوئی، لیکن صرف اس لیے کہ لندن میں مقیم ان کی نائجیرین والدہ کو سات ماہ کی حاملہ ہونے کے باعث ایک ایئرلائن نے وطن واپسی کی پرواز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی تھی۔

یوں ان کی امریکی شہریت دراصل امریکی آئین کی چودھویں ترمیم کے تحت پیدائشی شہریت کی شق کا نتیجہ ہے۔ یہی وہ شق ہے جسے ٹرمپ انتظامیہ تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اگر آج کے مجوزہ قوانین ان کی پیدائش کے وقت نافذ ہوتے تو شاید وہ امریکی ٹیم کے لیے کھیلنے کے اہل ہی نہ ہوتے۔ لیکن امریکا میں بہت سے لوگوں کی دلچسپی شاید اس بات میں زیادہ ہو کہ آج رات این بی اے فائنلز کا چھٹا میچ کھیلا جارہا ہے، جہاں ایک اور "ورلڈ چیمپین" کا فیصلہ ہوگا۔

 

چوتھا دن

وینیسیئس جونیئر کی خوشی

"میں نسل پرستی کا شکار نہیں ہوں، بلکہ نسل پرستوں کے لیے عذاب ہوں۔"

یہ الفاظ برازیل اور ریال میڈرڈ کے فارورڈ وینیسیئس جونیئر کے ہیں، جنھوں نے مراکش کے خلاف ایک شاندار گول کرکے برازیل کو مقابلے میں واپس لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ جملہ انھوں نے ایک اور ایسے سیزن کے بعد کہا جس میں انھیں تماشائیوں کی جانب سے مسلسل نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں بہت سے لوگ تھک کر ہار مان لیتے، وہاں انھوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔

نسل پرستی کی بعض صورتیں تو فوراً پہچان لی جاتی ہیں، نسل پرستانہ گالیاں، کیلے پھینکنا، جنگل کی آوازیں نکالنا۔ لیکن اس ہفتے میں نے نسل پرستی کی ایک اور، کہیں زیادہ خاموش شکل کے بارے میں جانا جو بعض اوقات تعریف کے پردے میں چھپی ہوتی ہے۔ اسے "کلرزم" کہا جاتا ہے۔

چھ سال قبل ادارے رن رپیٹ کی ایک تحقیق میں انگریزی زبان کے فٹبال مبصروں کے تبصروں کا جائزہ لیا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف سیاہ فام ہونا ہی اہم نہیں بلکہ جلد کا رنگ کتنا گہرا ہے، یہ بھی فرق ڈالتا ہے۔ نسبتاً ہلکے رنگت والے کھلاڑیوں کی ذہانت اور محنت کی زیادہ تعریف کی جاتی تھی، جبکہ گہرے رنگت والے کھلاڑیوں کو زیادہ تر طاقت اور رفتار کے حوالے سے سراہا جاتا تھا۔

اس کے اعداد و شمار قابل غور تھے۔ ذہانت سے متعلق تعریفوں کا تقریباً 63 فیصد حصہ ہلکی رنگت والے کھلاڑیوں کو ملا، جبکہ ذہانت پر تنقید کا بڑا حصہ گہری رنگت والے کھلاڑیوں کے حصے میں آیا۔ طاقت کے بارے میں تبصرہ کرتے وقت مبصر گہرے رنگت والے کھلاڑیوں کا ذکر ساڑھے چھ گنا زیادہ کرتے تھے، رفتار کے معاملے میں یہ شرح تین گنا سے بھی زیادہ تھی، جبکہ محنت اور ورک ایتھک کی تعریف زیادہ تر ہلکی رنگت والے کھلاڑیوں کو دی جاتی تھی۔

یہ موضوع ہمیں ہمارے ساتھی مدیر پیٹر ایل آفیشل کے ایک مضمون سے ملا، جو انہوں نے نیویارک میگزین کے لیے یورپی فٹبال میں نسل پرستی کے موضوع پر لکھا تھا۔ مضمون کا آغاز وینیسیئس جونیئر کی غیر معمولی صلاحیتوں کے ذکر سے ہوتا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ فروری میں چیمپینز لیگ کے ایک میچ میں وینیسیئس نے بائیں ونگ سے گیند حاصل کی، چند ہلکے ٹچ لیے اور پھر تقریباً ناممکن زاویے سے ایسا شاٹ مارا جو سیدھا جال کے اوپری کونے میں جا لگا۔ یہ ایسا گول تھا جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ فٹبال کے عام اصول شاید ان پر لاگو ہی نہیں ہوتے۔ لیکن جشن منانے کے چند لمحوں بعد ایک مخالف کھلاڑی نے انھیں "مونو" کہا، یعنی بندر۔

مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں یورپ کی نوآبادیاتی اور مابعد نوآبادیاتی دنیا نے فٹبال کو بے شمار عظیم سیاہ فام کھلاڑی دیے، لیکن اس کے باوجود نسل پرستی میدان سے ختم نہیں ہوئی۔ ورلڈکپ اور یورپی ٹرافیاں جیتنے والے متعدد کھلاڑی ایسے تھے جو نسل پرستوں کے تصور کردہ "اصل قوم پرست" کی شکل سے مختلف نظر آتے تھے، لیکن تعصب برقرار رہا۔ مثال کے طور پر جرمنی کے ترک نژاد کھلاڑی میسوت اوزل کا مشہور جملہ نقل کیا گیا، "جب ہم جیتتے ہیں تو میں جرمن ہوں، اور جب ہم ہارتے ہیں تو میں تارکِ وطن بن جاتا ہوں۔"

وینیسیئس کے خلاف ہونے والے واقعے کے بعد آنے والے ردعمل نے بھی اسی مسئلے کو نمایاں کیا۔ بعض لوگوں نے نسل پرستانہ رویے کی مذمت کرنے کے بجائے خود وینیسیئس کو ذمے دار ٹھہرانا شروع کردیا۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ خوشی منانے کا انداز بدلیں، کم ناچیں اور مخالفین کا زیادہ احترام کریں۔

لیکن وینیسیئس کا جواب سادہ تھا۔ ان کے مطابق لوگوں کو اصل مسئلہ ان کے ناچنے سے نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ یورپ میں ایک کامیاب سیاہ فام برازیلی نوجوان خوش نظر آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقص صرف ان کا نہیں، بلکہ رونالڈنہو، نیمار، پال پوگنا اور دوسرے کئی کھلاڑیوں کی روایت کا حصہ ہے۔ اور وہ اسے ترک نہیں کریں گے۔


ورلڈکپ ڈائری انگریزی میں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

European Review of Books: The Footnoes