عوام کی خاطر ایٹمی پروگرام پر سمجھوتا کرلیا جائے، ایرانی اخبارات

جنگ ختم کرنے کے لیے کچھ رعایتیں دینی پڑیں تو دے دی جائیں، روزنامہ اعتماد، حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، روزنامہ شرق

عوام کی خاطر ایٹمی پروگرام پر سمجھوتا کرلیا جائے، ایرانی اخبارات

ایران میں سخت گیر عناصر کی جانب سے جنگ جاری رکھنے کے بیانات اور امریکا کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لیکن اندرون ملک بدترین معاشی صورتحال کی وجہ سے ایرانی میڈیا کا لہجہ بدل رہا ہے۔ اصلاح پسند اخبارات جنگ کو داخلی استحکام کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں اور کالم نگار بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی کو اجاگر کررہے ہیں۔

روزنامہ اعتماد میں مجید محمد شریفی نے لکھا کہ ایران اس وقت ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اس جنگ نے ایرانی معاشرے کی معمول کی زندگی کو بحران میں بدل دیا ہے۔اس وقت کیا جانے والا ہر فیصلہ ملک کے مستقبل کا تعین کرے گا۔  یقیناً اس جنگ کی وجوہات اور اس کے اسباب پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے، لیکن ان مباحث کو فی الحال مؤخر کرنا چاہیے۔ اس وقت سب سے اہم ضرورت اس مشکل سے نکلنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ اس کے لیے سیاست دانوں کو مشکل اور تکلیف دہ فیصلے کرنا پڑیں گے۔ بعض اوقات سیاست دانوں کو اپنی ساکھ، مقبولیت اور ذاتی مفاد کو قربان کرنا پڑتا ہے تاکہ ملک کو بچایا جاسکے۔ ایران کو آج ایک بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کی ضرورت ہے۔

شریفی نے لکھا کہ جنگ کا خاتمہ سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ اگر اس کے لیے کچھ رعایتیں دینی پڑیں تو دے دی جائیں۔ یورینیم افزودگی معطل اور عالمی ایجنسی کو نگرانی کی اجازت دے دی جائے۔ فلسطین کی حمایت جاری رکھی جائے لیکن عسکری حمایت کے بجائے سیاسی اور سفارتی طریقے زیادہ مؤثر ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے معنی خیز بات کی کہ ریاست اور عوام کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ فیصلہ سازوں کو چاہیے کہ وہ مستقبل کے بارے میں سوچیں، ہمت کریں اور ایران کو اس بحران سے نکالیں۔

روزنامہ شرق میں عبدالرحمان فتح ‌الہی نے لکھا کہ موجودہ جنگ میں انسانی اور سیاسی نقصانات کے علاوہ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس وقت جنگ اور امن کے درمیان معلق حالت ہے جو نہ صرف سفارتی فیصلوں کو متاثر کررہی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات براہ راست عوام کی زندگی پر نظر آرہے ہیں۔ مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال جتنی زیادہ طول پکڑے گی، اتنا ہی معاشی مسائل اور عوامی بے چینی میں اضافہ ہوگا۔ اس صورتحال کو سنبھالنے کے لیے حقیقت پسندانہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے سابق وزیر خارجہ جواد ظریف کا کالم امریکی جریدے فارن افئیرز میں شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے جنگ ختم کرنے کی بات کی تھی۔ جواد ظریف نے لکھا کہ اگرچہ جنگ جاری رکھنا نفسیاتی طور پر تسکین دے سکتا ہے لیکن اس کا نتیجہ صرف شہری جانوں اور بنیادی ڈھانچے کی مزید تباہی ہوگا۔ تہران کو چاہیے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر حدود لگانے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش کرے، اس شرط پر کہ تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ ایران کو امریکا کے ساتھ باہمی عدم جارحیت کے معاہدے پر بھی آمادہ ہونا چاہیے۔ وہ امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی پیشکش بھی کرسکتا ہے، جو دونوں عوام کے لیے فائدہ مند ہوگی۔ اس طرح ایرانی حکام اپنی توانائی بیرونی خطرات سے دفاع کے بجائے اندرونی ترقی پر رکھ سکیں گے۔


 اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

اعتماد: یک هشدار به سیاستمداران: وضعیتی بسیار بسیار دشوار آغاز خواهد شد

شرق: جنگ، صلح و هزارتوی معیشت

Foreign Affairs: How Iran Should End the War by Javad Zarif