ٹائپنگ چھوڑیں، سرگوشیاں کریں
نئی اے آئی ایپس انسان کی بولی ہوئی بے ترتیب باتوں کو چند سیکنڈ میں صاف، مربوط اور قابلِ استعمال متن میں تبدیل کردیتی ہیں
ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ہم ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں جس میں لوگ کی بورڈ پر انگلیاں چلانے کے بجائے کمپیوٹر سے سرگوشیوں میں باتیں کریں گے۔ چند برس پہلے تک یہ منظر سائنس فکشن فلموں کا حصہ لگتا تھا لیکن اے آئی نے اسے حقیقت کے قریب پہنچادیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ سلیکون ویلی کے دفاتر میں اب لوگ ٹائپنگ کے بجائے اے آئی سے بات کرکے کام کررہے ہیں۔ کئی کمپنیوں میں ملازمین اپنے کمپیوٹرز سے مسلسل سرگوشیوں میں گفتگو کرتے ہیں، جس سے دفاتر کا ماحول کال سینٹر جیسا محسوس ہونے لگا ہے۔ نئی اے آئی ایپس انسان کی بولی ہوئی بے ترتیب باتوں کو چند سیکنڈ میں صاف، مربوط اور قابلِ استعمال متن میں تبدیل کردیتی ہیں۔
یہ تبدیلی صرف سہولت کا معاملہ نہیں۔ یہ انسان اور کمپیوٹر کے تعلق میں بنیادی تبدیلی ہے۔ کئی دہائیوں سے کمپیوٹر کے ساتھ ہمارا رشتہ کی بورڈ، ماؤس اور اسکرین کے ذریعے قائم تھا۔ اب پہلی بار ایسا محسوس ہورہا ہے کہ کمپیوٹر انسان کی قدرتی زبان سمجھنے لگا ہے۔AI
ڈکٹیشن ایپس کی مقبولیت کی ایک وجہ رفتار بھی ہے۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ وہ بول کر ٹائپنگ سے کہیں زیادہ تیزی سے لکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر پروگرامرز، ادیب اور دفتری ملازمین اب لمبے لمبے جملے بول کر لکھواتے ہیں۔ اے آئی نہ صرف الفاظ لکھتا ہے بلکہ جملوں کی اصلاح، گرامر کی درستگی اور لہجے کی بہتری بھی کردیتا ہے۔
کچھ دفاتر میں لوگ مائیکروفون اور ہیڈسیٹ لگا کر پورا دن اے آئی سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ چلتے پھرتے بولتے ہیں، کچھ سرگوشی کرتے ہیں۔ اب ایسے مائیکروفون بھی فروخت ہورہے ہیں جو خاص طور پر اے آئی ڈکٹیشن کے لیے بنائے گئے ہیں۔
اس تبدیلی نے ایک نئی سماجی الجھن بھی پیدا کردی ہے۔ خاموش دفاتر میں اب ہر طرف دھیمی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ لوگ اپنے کمپیوٹر سے بات کرتے ہوئے کبھی عجیب محسوس کرتے ہیں اور کبھی دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کمپنیوں میں ہیڈفون کا استعمال بڑھ رہا ہے تاکہ آس پاس کی سرگوشیاں کم سنائی دیں۔
اس رجحان کے پیچھے صرف کاروباری دنیا نہیں بلکہ سائنسی تحقیق بھی موجود ہے۔ کورنیل ینیورسٹی کی ایک تحقیق میں ماہرین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر انسان صرف آواز کے ذریعے "لکھے" تو اس کا تجربہ کیسا ہوگا۔ اس تحقیق میں لوگوں کو گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ایک شخص بولتا تھا اور دوسرا اس کی بات لکھتا تھا۔ محققین نے دیکھا کہ بولنے والا انسان صرف جملے نہیں ادا کرتا بلکہ دورانِ گفتگو اپنی بات بدلتا، دوہراتا، رکتا، سوچتا اور تصحیح بھی کرتا رہتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ انسان کی قدرتی گفتگو بہت بے ترتیب ہوتی ہے۔ لوگ اکثر ایک جملہ شروع کرکے درمیان میں بدل دیتے ہیں۔ کبھی کوئی لفظ دوہراتے ہیں، کبھی پچھلی بات کی اصلاح کرتے ہیں، اور کبھی سوچنے کے لیے خاموش ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ مستقبل کی اے آئی ڈکٹیشن صرف سننے والی ٹیکنالوجی نہیں ہوگی بلکہ اسے انسانی سوچ کے انداز کو بھی سمجھنا ہوگا۔
محققین نے ایک دلچسپ بات یہ بھی نوٹ کی کہ بعض لوگ اس وقت زیادہ روانی سے بولتے ہیں جب وہ اپنی لکھی ہوئی تحریر اسکرین پر نہ دیکھ رہے ہوں۔ اس صورت میں خیالات کا بہاؤ آزاد رہتا ہے۔ اسکرین دیکھنے والے لوگ اکثر اپنی غلطیاں درست کرنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
یہ تمام تبدیلیاں اس بات کی علامت ہیں کہ کمپیوٹر اب صرف ایک مشین نہیں رہ گیا بلکہ ایک "سننے والا ساتھی" بنتا جارہا ہے۔ آنے والے وقت میں لوگ موبائل فون یا لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانے کے بجائے بول کرکے اپنے مضامین، ای میلز، پروگرامنگ کوڈ اور روزمرہ کے نوٹس تیار کریں گے۔
ممکن ہے چند سال بعد آج کے کی بورڈ کی آواز ویسی ہی پرانی محسوس ہو جیسے کبھی ٹائپ رائٹر کی کھٹ کھٹ محسوس ہوتی تھی۔ نئی نسل شاید یہ تصور بھی نہ کرسکے کہ لوگ کبھی گھنٹوں بیٹھ کر انگلیوں سے ٹائپ کیا کرتے تھے۔ مستقبل شاید سرگوشیوں کا ہوگا اور کمپیوٹر ان سرگوشیوں کو سمجھنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار دکھائی دیتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Wall Street Journal: Typing Is Being Replaced by Whispering—and It’s Way More Annoying