سیاحت نامہ تائیوان
دو خواتین کے تعلق کے پس منظر میں پورے معاشرے موجود ہیں، نوآبادیاتی طاقت، صنفی امتیاز اور وہ خاموش قیمتیں جو کمزور لوگ ادا کرتے ہیں تاکہ طاقتور اپنی دنیا آرام سے قائم رکھ سکیں
بکر انٹرنیشنل انعام کے لیے نامزد یانگ شوانگ زی کا ناول سیاحت نامہ تائیوان 1938ء کے زمانے کی کہانی بیان کرتا ہے، جب جاپان کے نوآبادیاتی دور میں ایک جاپانی ادیبہ آویاما چزوکو مقبوضہ تائیوان کا سفر کرتی ہے۔
کہانی کی مرکزی کردار آویاما چزوکو معروف ناول نگار ہیں جن کے ایک ناول پر فلم بھی بن چکی ہے۔ وہ ناگاساکی میں اپنی خالہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ برسوں سے تائیوان جانے کی خواہش ان کے دل میں ہے۔ جب تائیوان کی گورنمنٹ جنرل اور خواتین کی تنظیم نیشین کائی کی طرف سے انھیں لیکچر ٹور کی دعوت ملتی ہے تو وہ فوراً اسے قبول کرلیتی ہیں۔
آویاما جہاز کے ذریعے ناگاساکی سے کیرون بندرگاہ پہنچتی ہے۔ وہاں سے تائی ہوکو شہر میں ایک رات گزارنے کے بعد ٹرین کے ذریعے تائی چو روانہ ہوتی ہیں۔ سفر کے دوران وہ مختلف اسٹیشنوں پر رک کر کھانا خریدتی ہیں اور اس نئی دنیا کو حیرت سے دیکھتی ہیں۔
تائی چو پہنچ کر وہ سیدھی بازار کا رخ کرتی ہیں۔ وہاں رنگ برنگی دکانیں، اجنبی سبزیاں، لٹکا ہوا گوشت، جڑی بوٹیاں اور انوکھے پھل انھیں مسحور کردیتے ہیں۔ بازار میں ایک پھل فروش لڑکے سے بات چیت میں مشکل پیش آتی ہے تو ایک نوجوان خاتون ان کی مدد کو آتی ہیں۔ وہ روانی سے جاپانی بولتی ہیں اور نہ صرف بات سمجھاتی ہیں بلکہ اسے کوئے تسی یعنی بھنے ہوئے بیج کھانے کا طریقہ بھی سکھاتی ہیں۔
آویاما کی میزبانی مادام تاکادا کے سپرد ہوتی ہے، جو ایک باوقار اور فراخ دل خاتون ہیں۔ ان کے ہاں آویاما کو عمدہ جاپانی کھانے پیش کیے جاتے ہیں لیکن انھیں تائیوانی کھانوں کی خواہش ہوتی ہے۔ سرکاری گائیڈ مشیما ہر بار ان کی یہ خواہش نظرانداز کردیتا ہے۔
آخر مادام تاکادا ایک مقامی ترجمان کا انتظام کرتی ہیں۔ اتفاق سے یہ وہی نوجوان خاتون ہیں، جن سے آویاما بازار میں ملی تھیں، اونگ تسیان ہوہ، جنھیں جاپانی میں او چزورو کہا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آویاما کا نام چزوکو اور ان کا نام چزورو ہے اور دونوں کے نام ایک ہی رسم الخط سے جڑے ہیں، جیسے کسی انجانی تقدیر نے انہیں ملادیا ہو۔
چزورو جاپانی زبان کی سابق استاد ہیں اور جلد ان کی شادی ہونے والی ہے۔ وہ ذہین، مہذب اور سنجیدہ ہیں لیکن اس کی شخصیت میں ایک گہرا اور پراسرار سکون بھی ہے۔ آویاما انھیں محبت سے چی چانکہنے لگتی ہیں۔ دونوں کا ساتھ روزمرہ کا معمول بن جاتا ہے۔ چی چان نہ صرف ترجمہ کرتی ہیں بلکہ خاموشی سے آویاما کے تمام انتظامات بھی سنبھال لیتی ہیں۔ لائبریری کارڈ بنوانا، شہر کا نقشہ دینا، موسم کے مطابق کپڑوں کا خیال رکھنا اور مقامی کھانے مہیا کرنا۔
جلد ہی آویاما کو اندازہ ہوتا ہے کہ تائیوان نوآبادیاتی معاشرہ ہے جہاں جاپانی مین لینڈر برتر اور مقامی لوگ کمتر سمجھے جاتے ہیں۔ ایک موقع پر وہ دیکھتی ہیں کہ ایک جاپانی اہلکار چزورو سے ایسے بات کرتا ہے جیسے وہ کوئی خادمہ ہو۔ یہ دیکھ کر آویاما کو سخت غصہ آتا ہے اور وہ فوراً مداخلت کرتی ہے۔ ایک اور موقع پر یونیورسٹی کا ایک جاپانی منتظم بھی چزورو کے ساتھ اسی طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔
آویاما کے لیے یہ سب ناقابلِ برداشت ہوتا ہے لیکن چزورو ہر بار خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتی ہے۔نہ شکایت، نہ احتجاج، صرف ایک ہلکی سی مسکراہٹ۔ یہی خاموش برداشت آویاما کو اندر ہی اندر بے چین کرتی رہتی ہے۔
دونوں کئی شہروں کا سفر کرتی ہیں، لیکچر دیتی ہیں، بازاروں میں گھومتی ہیں اور چھوٹی چھوٹی دکانوں سے کھانے چکھتی ہیں۔ آویاما کے لیے سفر کا مطلب صرف دیکھنا نہیں بلکہ کسی جگہ کی اصل زندگی میں شامل ہونا ہے۔ وہ وہی کھانا کھانا چاہتی ہیں جو مقامی لوگ کھاتے ہیں اور وہی آوازیں سننا چاہتی ہیں جو وہاں کی گلیوں میں گونجتی ہیں۔ چزورو اس خواہش کو بخوبی سمجھتی ہیں اور بغیر کہے اسے پورا کرتی رہتی ہیں۔
ایک موقع پر آویاما دوستی کا اظہار کرتی ہے۔ چزورو صرف اتنا کہتی ہے، میں سمجھ گئی، اور مسکرا دیتی ہے۔ اس میں نہ کوئی جوش ہوتا ہے نہ انکار، بس ایک پُراسرار سکون۔
یہ کہانی دو خواتین کے تعلق کی ہے لیکن اس کے پس منظر میں پورے معاشرے موجود ہیں۔ نوآبادیاتی طاقت، صنفی امتیاز اور وہ خاموش قیمتیں جو کمزور لوگ ادا کرتے ہیں تاکہ طاقتور اپنی دنیا آرام سے قائم رکھ سکیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
The Booker Prizes: Taiwan Travelogue by Yáng Shuāng-zǐ, translated by Lin King