اسرائیل ایرانی حملوں کا جواب نہ دے، میرا کیا ہوا معاہدہ نیتن یاہو کو ماننا پڑے گا، ٹرمپ
بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈر سینٹر پر اسرائیلی حملے کے بعد ایران کا اسرائیل پر میزائلوں سے جواب، جنگ کے امکانات پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ ایران کے حالیہ میزائل حملوں کا جواب نہ دے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جو بھی معاہدہ طے پائے گا، اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو وہ قبول کرنا پڑے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا۔ اس سے پہلے اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹر پر کارروائی کی تھی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل نے اتوار کو بیروت کے جنوبی علاقے میں حملہ کیا تھا۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کارروائی میں دو افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ مقام اسرائیل کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہورہا تھا۔
مو کپ شھر ایران نے کم از کم چار مرحلوں میں اسرائیل پر میزائل داغے۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ایران نے براہِ راست اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ ایرانی فوج کے مطابق اگر اسرائیل نے لبنان یا ایران کے خلاف مزید کارروائیاں کیں تو اس کا جواب پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
اس تمام صورتحال میں سب سے غیر معمولی پہلو صدر ٹرمپ کا رویہ ہے۔ ایران کے حملے کے فوراً بعد انھوں نے اسرائیل کو تحمل اختیار کرنے کا مشورہ دیا۔ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی جوابی کارروائی سے گریز کیا جائے کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک معاہدے کے امکانات موجود ہیں۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ہم ایک اچھی پیشرفت کے قریب ہیں، اس لیے معاملات کو خراب نہ کیا جائے۔"
امریکی ذرائع کے مطابق اس گفتگو کے دوران نیتن یاہو نے اسرائیل کے خدشات کا ذکر کیا لیکن وہ فوری کارروائی سے باز رہنے پر آمادہ ہوگئے۔ ایک امریکی اہلکار نے ایگزیوس کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو یقین ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں اور کسی بڑے فوجی ردعمل سے یہ عمل متاثر ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کئی ہفتوں سے بڑھ رہے ہیں۔ یکم جون کو شائع ہونے والی ایکزیوس کی رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان لبنان کے مسئلے پر تلخی ہوئی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور خبردار کیا کہ بیروت پر حملے اسرائیل کو مزید تنہا کردیں گے۔ اس رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس قدر برہم تھے کہ انھوں نے نیتن یاہو سے کہا کہ ان کی پالیسی امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کو نقصان پہنچارہی ہے۔
فائننشل ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ کے خیال میں اب بھی ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان برقرار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کے تازہ میزائل حملوں سے ان کی کیلکولیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور مذاکرات اپنی جگہ جاری رہیں گے۔ انھوں نے اخبار سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ وہ ایران سے معاہدہ کریں گے تو نیتن یاہو کو اسے تسلیم کرنا پڑے گا کیونکہ فیصلے میں کرتا ہوں، نیتن یاہو نہیں کرتا۔ البتہ انھوں نے اشارہ دیا کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا کے پاس دوسرے راستے بھی موجود ہیں، جن میں مزید اقتصادی دباؤ یا فوجی اقدامات شامل ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل کا موقف اس کے برعکس ہے۔ نیتن یاہو حکومت کا کہنا ہے کہ حزب اللہ مسلسل اسرائیلی علاقوں پر حملے کررہی ہے اور اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل کا مؤقف ہے کہ بیروت پر حملہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کیا گیا تھا اور اگر حملے جاری رہے تو اسرائیل اپنی کارروائیاں بھی جاری رکھے گا۔
اتوار کو ایرانی حملوں کے بعد عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر اضافہ ہوا۔ اگرچہ عالمی منڈی میں تیل کی فی بیرل قیمت سو ڈالر سے کم ہے لیکن تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی جاری رہی اور کسی امن معاہدے کی جانب جلد پیشرفت نہ ہوئی تو تیل کی قیمت ایک بار پھر سو ڈالر سے اوپر جاسکتی ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Axios: Trump tells Netanyahu not to strike Iran
Wall Street Journal: Iran Fires Waves of Missiles at Israel After Israeli Airstrike on Beirut
Financial Times: Trump says Netanyahu will have ‘no choice’ but to accept a deal with Iran