7 اکتوبر کے حملوں کا آخری منصوبہ ساز بھی ہلاک
عزالدین حداد غزہ میں حماس کے عسکری ڈھانچے کا سربراہ تھا، اسرائیلی یرغمالیوں نے رہائی کے بعد بار بار اس کا ذکر کیا تھا، حملوں سے پہلے کی حماس قیادت کا مکمل طور پر خاتمہ ہوگیا
اسرائیل پر سات اکتوبر 2023 کے حملوں کا آخری منصوبہ ساز حماس کمانڈر بھی ہلاک کردیا گیا۔ عزالدین حداد غزہ میں حماس کے عسکری ڈھانچے کا سربراہ تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ غزہ سے واپس آنے والے یرغمالیوں نے رہائی کے بعد بار بار اس کا ذکر کیا تھا۔ حماس نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
غزہ جنگ سے پہلے میڈیا میں حداد کا نام نسبتاً کم سامنے آتا تھا لیکن جنگ کے دوران اس کا شمار حماس کے اہم کمانڈروں میں ہونے لگا۔ اسرائیلی رپورٹس کے مطابق محمد الضیف، یحییٰ سنوار، محمد سنوار اور مروان عیسیٰ جیسے رہنماؤں کی ہلاکت کے بعد وہ عملاً غزہ میں حماس کے عسکری ڈھانچے کا سربراہ بن گیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے مشترکہ بیان میں کہا کہ اسرائیل ان تمام افراد تک پہنچے گا جو سات اکتوبر کے حملوں میں شامل تھے۔ حداد نہ صرف اسرائیلی شہریوں کے قتل اور اغوا میں ملوث تھا بلکہ حماس کی عسکری صلاحیت بحال کرنے کی کوشش بھی کررہا تھا۔
ہاریتز کے مطابق الحداد حماس کی اُس پرانی قیادت کا آخری اہم رکن تھا جو سات اکتوبر کے حملے سے پہلے تنظیم کی مرکزی فیصلہ ساز سطح پر موجود تھی۔ ممکنہ طور پر تنظیم اپنے فیلڈ کمانڈروں میں سے کسی کو آگے لائے گی، جیسا کہ پہلے بھی کئی بار ہوا ہے۔ حماس ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اس وقت تنظیم اسرائیل کے خلاف بڑے پیمانے پر راکٹ حملوں کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ ہاریتز کے مطابق تنظیم اس وقت اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ وہ حداد کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل کو بڑے ردعمل کی دھمکی بھی نہیں دے سکتی۔
اس کے باوجود جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق غزہ میں اسرائیل کے حملے جاری ہیں۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں۔ نیتن یاہو نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل غزہ کے تقریباً 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے، جو ابتدائی جنگ بندی منصوبے سے کہیں زیادہ ہے۔
امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے ایلچی نکولائے ملادینوف کا کہنا ہے کہ حماس کو بطور عسکری تنظیم ختم ہونا ہوگا، البتہ اگر وہ ہتھیار رکھ دے تو مستقبل میں سیاسی جماعت کے طور پر فلسطینی سیاست میں حصہ لے سکتی ہے۔ حماس اب تک اس مطالبے کو مسترد کرتی آئی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اسرائیل جب تک جنگ بندی کے وعدے پورے نہیں کرتا، وہ ہتھیار ڈالنے پر بات نہیں کرے گی۔
حداد کی ہلاکت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ تباہی، بے گھری اور سیاسی غیر یقینی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ حماس کی قیادت کمزور ہوگئی ہے لیکن غزہ میں مزاحمت اور فلسطینی نمائندگی کا سوال اب بھی برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بڑی ہلاکت کے باوجود یہ جنگ کسی واضح اختتام کے قریب دکھائی نہیں دیتی۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Haaretz: Hamas Military Chief Killed in Israeli Strike in Gaza, Hamas and IDF Confirm
Washington Post: Israel says Gaza strike killed senior Hamas leader involved in Oct. 7