اسرائیل مغربی کنارے کو بتدریج ضم کرتا جارہا ہے
نیتن یاہو حکومت اب فلسطینی علاقوں کو صرف فوج کے ذریعے کنٹرول نہیں کررہی بلکہ قانونی، انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کے ذریعے ان کی حیثیت بدل رہی ہے
اسرائیل کئی دہائیوں سے مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعداد بڑھاتا رہا ہے۔ دو ریاستی حل پر فریقین کے اتفاق کے بعد انھیں غیر قانونی بستیاں سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے نیتن یاہو حکومت کے اقدامات سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرتی جارہی ہے۔ پہلے فلسطینی علاقوں کو فوج کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا تھا جسے عارضی انتظام سمجھا جاتا تھا۔ لیکن اب قانونی، انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کے ذریعے مغربی کنارے کی حیثیت بدلی جارہی ہے۔
برطانوی اخبار فائننشل ٹائمز کی رپورٹ Netanyahu’s West Bank plan: annexation by law کے مطابق نیتن یاہو حکومت مغربی کنارے میں ایسے اقدامات کررہی ہے جو "قانون کے ذریعے الحاق" کے مترادف ہیں۔ اسرائیلی کابینہ نے الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد اور اس کے اطراف کے حساس علاقوں میں منصوبہ بندی کے اختیارات فلسطینی حکام سے لے کر اسرائیلی اداروں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ فلسطینی میئر یوسف الجعبری نے اخبار سے گفتگو میں کہا کہ وہ ایک بلدیہ کے اندر دوسری بلدیہ بنارہے ہیں اور ہمارے اختیارات ہم سے چھین رہے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں۔ اسرائیلی حکومت نے ایسے اقدامات بھی کیے ہیں جن کے ذریعے مغربی کنارے میں زمین کی خرید و فروخت، رجسٹریشن اور تعمیراتی معاملات پر فوجی اداروں کے بجائے اسرائیلی سول وزارتوں کا کنٹرول بڑھایا جارہا ہے۔ اس عمل کے معماروں میں اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ شامل ہیں، جو خود ایک آبادکار رہنما ہیں۔ فائننشل ٹائمز کے مطابق زمین کی رجسٹری کا نیا نظام فلسطینیوں کے لیے اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنا مشکل بناسکتا ہے، جبکہ غیر ثابت شدہ زمین کو ریاستی ملکیت قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس سے پہلے امریکی جریدے فارن افئیرز نے اپنی رپورٹ Israel Is Quietly Annexing the West Bank میں بتایا کہ اسرائیل ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جہاں مغربی کنارے کا "خاموش الحاق" جاری ہے۔ اسرائیلی آبادکار تحریک محض مذہبی یا نظریاتی گروہ نہیں رہی بلکہ ریاستی اداروں کے اندر گہرا اثر و رسوخ حاصل کرچکی ہے۔ اس اثر کی وجہ سے مغربی کنارے کے انتظامی اور قانونی ڈھانچے آہستہ آہستہ اسرائیلی ریاستی نظام میں شامل کیے جارہے ہیں۔
جریدے کے مطابق ماضی میں اسرائیل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ مغربی کنارہ متنازع علاقہ ہے اور باضابطہ طور پر اسرائیل کا حصہ نہیں۔ اسی لیے وہاں فوجی انتظام قائم رکھا گیا تھا۔ لیکن اب اختیارات فوج سے نکل کر سول وزارتوں کے پاس جارہے ہیں، تو یہ عمل دراصل ایک نئی حقیقت کو جنم دے رہا ہے۔ اگر یہ عمل جاری رہا تو مستقبل میں دو ریاستی حل صرف سفارتی نعرہ بن کر رہ جائے گا۔
فائننشل ٹائمز نے اسرائیلی این جی او پیس ناو کے اعداد و شمار نقل کرتے ہوئے لکھا کہ موجودہ حکومت نے چار برس میں 102 نئی بستیاں منظور کیں جو گزشتہ دہائی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ ان میں ای ون منصوبہ خاص طور پر متنازع سمجھا جاتا ہے۔ یہ بستی اگر مکمل طور پر تعمیر ہوگئی تو مغربی کنارے کا شمالی اور جنوبی حصہ ایک دوسرے سے عملاً کٹ جائے گا۔ فلسطینی قیادت اور کئی بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ایک جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست تقریباً ناممکن ہوجائے گی۔
فلسطینیوں میں سب سے بڑا خوف بے دخلی کا ہے۔ برطانوی اخبار نے الخلیل کے کارکن عیسیٰ عمرو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ لوگ ان سے پوچھتے ہیں، کیا انھیں مغربی کنارے سے نکال دیا جائے گا؟ یہ خوف فلسطینی تاریخ کے 1948 کے تجربے سے جڑا ہوا ہے، جب لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوگئے تھے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Financial Times: Netanyahu’s West Bank plan: annexation by law