عاصم منیر کا دورہ تہران، جنگ روکنے کی آخری کوشش
صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر مشورے، سنگین اختلافات برقرار ہیں، تہران، پاکستان کے ساتھ قطر بھی ثالثی میں شریک، بریک تھرو ہوا تو اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور ہوسکتا ہے
فیلڈ مارشل عاصم منیر جنگ سے بچنے کی ایک اور، غالباََ آخری کوشش کے لیے ایران میں ہیں۔ اس بار قطر کا ایک وفد بھی انھیں دنوں تہران پہنچا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ بریک تھرو ہوا تو اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات کا دوسرا دور ہوسکتا ہے۔ لیکن تنازع کے اصل فریقوں نے ابھی تک لچک نہیں دکھائی۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ بنیادی مسائل پر سنگین اختلافات برقرار ہیں۔ ادھر واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر مشورے کررہے ہیں۔
عاصم منیر کے تہران پہنچنے کی خبر دنیا بھر کے اخبارات میں نمایاں انداز میں شائع ہوئی ہے۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس نے ایکسکلوسیو خبر دی کہ عاصم منیر امریکا ایران ڈیل کو طے کرنے کے لیے تہران پہنچے ہیں۔ اصل کوشش ایسے عبوری معاہدے کی ہے جس کے تحت جنگ روکی جائے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جائے، اور پھر وسیع تر مذاکراتی عمل شروع کیا جائے جس میں ایرانی جوہری پروگرام بھی زیرِ بحث آئے۔ ویب سائٹ نے پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے لکھا کہ عاصم منیر کا تہران پہنچنا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان حتمی پیشرفت کی کوشش کررہا ہے۔
دوسرے نیوز ایجنسوں کے ساتھ قطری چینل الجزیرہ نے بھی خبر دی کہ قطر کا وفد تہران پہنچ چکا ہے اور مذاکراتی عمل میں پاکستان کی مدد کررہا ہے۔ قطری تجزیہ کار عبداللہ العتیبی نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اپنے سب سے حساس مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ قطر کا کردار پاکستان کی ثالثی کی جگہ لینا نہیں بلکہ اعتماد سازی کو وسعت دینا ہے۔
ممکنہ معاہدے کی سب سے زیادہ تفصیل العربیہ نے شائع کی ہے۔ اس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا خاتمہ، ایک دوسرے کے عسکری و اقتصادی انفرااسٹرکچر کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی، اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی شامل ہے۔ اس ڈرافٹ میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ متنازع معاملات پر سات دن کے اندر باضابطہ مذاکرات شروع کیے جائیں جبکہ امریکا مرحلہ وار پابندیاں نرم کرسکتا ہے۔
ایرانی سرکاری خبررساں اداروں کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بنیادی معاملات پر سنگین اختلافات برقرار ہیں اور ابھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ معاہدہ قریب ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے میں بنیادی توجہ جوہری معاملے پر نہیں بلکہ جنگ ختم کرنے پر ہے۔
یہ سب اس وقت ہورہا ہے جب واشنگٹن میں بھی غیرمعمولی سرگرمی دیکھی جارہی ہے۔ ایگزیوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں قومی سلامتی ٹیم کا ہنگامی اجلاس طلب کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں ایران پر دوبارہ حملے کرنے پرغور کیا جارہا ہے۔
عالمی میڈیا میں ایک دلچسپ رجحان یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ اب پاکستان کو محض سہولت کار نہیں بلکہ اسلام آباد پراسس کے معمار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہورہا ہے کہ اگر عبوری سمجھوتہ طے پاگیا تو اگلا باضابطہ دور پاکستان میں ہوگا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Axios: Trump met top advisers on Iran as he weighs return to war
Al Arabia: US-Iran draft deal mediated by Pakistan could be announced within hours: Sources
Al Jazeera: Pakistan’s army chief in Iran as US’s Rubio says ‘slight progress’ in talks