سخت جان ایران تین چار ماہ ناکابندی جھیل سکتا ہے

ایران اپنی تیل بردار کشتیوں کو عارضی ذخیرے کے طور پر استعمال کررہا ہے، زمینی راستوں سے محدود پیمانے پر تیل کی ترسیل کے امکانات موجود ہیں

سخت جان ایران تین چار ماہ ناکابندی جھیل سکتا ہے

امریکی انٹیلی جنس اداروں نے وائٹ ہاؤس کو خبردار کیا ہے کہ ایران بحری ناکابندی کے باوجود فوری طور پر جھکنے والا نہیں اور اب بھی تین چار ماہ تک پابندیاں جھیل سکتا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ کے حوالے سے یہ انکشاف کیا ہے۔ اس سے پہلے بزنس انسائیڈر نے خبر دی تھی کہ شدید بمباری سہنے کے باوجود ایران کے پاس بڑی تعداد میں میزائل، لانچرز اور ڈرون موجود ہیں۔

یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ مسلسل دعویٰ کررہی ہے کہ ایران کی عسکری اور معاشی طاقت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں کہا کہ ایران کے بیشتر میزائل تباہ ہوچکے ہیں اور اب اس کے پاس صرف چند فیصد صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ مختلف تصویر پیش کررہا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے کے تقریباً 70 فیصد میزائل ذخائر اور 75 فیصد موبائل لانچرز محفوظ ہیں۔ ایران اپنی زیرزمین تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے، نقصان زدہ میزائلوں کی مرمت کرنے اور بعض نئے میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

امریکا اور اسرائیل نے حالیہ جنگ میں ایران پر ہزاروں فضائی حملے کیے تھے جن میں میزائل ذخائر کے مراکز، ڈرون تنصیبات اور صنعتی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجود امریکی انٹیلی جنس ادارے تسلیم کررہے ہیں کہ ایران کی عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا۔ بعد میں امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکابندی شروع کی تاکہ تہران کی تیل برآمدات روکی جاسکیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کو روزانہ تقریباً پچاس کروڑ ڈالر کا نقصان ہورہا ہے۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس کا اندازہ ہے کہ ایران کے پاس اب بھی اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ کئی ماہ تک معاشی دباؤ برداشت کرسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اپنی تیل بردار کشتیوں کو عارضی ذخیرے کے طور پر استعمال کررہا ہے جبکہ زمینی راستوں سے بھی محدود پیمانے پر تیل کی ترسیل کے امکانات موجود ہیں۔ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر ایران وسط ایشیا کے راستوں سے ریل یا ٹرکوں کے ذریعے تیل منتقل کرنے میں کامیاب ہوگیا تو امریکی ناکابندی کا اثر کم ہوسکتا ہے۔

اس سے پہلے بزنس انسائیڈر نے امریکی انٹیلی جنس کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ ایران کے پاس اب بھی ہزاروں میزائل اور حملہ آور ڈرون موجود ہیں۔ امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیمز ایڈمز نے کانگریس کو بتایا تھا کہ ایران نے شدید بمباری کے باوجود اپنے ہتھیاروں کا بڑا حصہ محفوظ رکھا ہے۔

امریکی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے ایران کے 450 سے زیادہ بیلسٹک میزائل اسٹوریج مراکز اور 800 ڈرون اسٹوریج تنصیبات تباہ کردی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ایران کے پاس بڑی تعداد میں ہتھیار موجود ہیں جن میں سے بیشتر زیرزمین چھپائے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے کئی دہائیوں کے دوران اپنی عسکری تنصیبات کو اس انداز میں تعمیر کیا کہ انھیں مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہے۔

ان انٹیلی جنس رپورٹس کے منظر عام پر آنے کے بعد بعض امریکی اور اسرائیلی تجزیہ کار جنگ کے اسٹریٹجک نتائج پر سوال اٹھارہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنی حکومت، میزائل پروگرام اور محدود تیل برآمدات کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو اتنی بڑی جنگ اور ناکابندی کے باوجود یہ واشنگٹن کی ناکامی ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:

Washington Post: U.S. intelligence says Iran can outlast Trump’s Hormuz blockade for months

Business Insider: Iran's arsenal still has teeth. US intelligence says it still has thousands of missiles and drones