سابق امریکی خاتون اول جِل بائیڈن کی یادداشتیں

کتاب کا مجموعی تاثر کسی سیاسی شخصِت کے بیان سے زیادہ ایسے شخص کی آپ بیتی کا ہے جس نے طاقت کے مرکز میں رہ کر بھی روزمرہ زندگی کی چھوٹی چیزوں کو یاد رکھا

سابق امریکی خاتون اول جِل بائیڈن کی یادداشتیں

جل بائیڈن کی نئی یادداشت ویو فرام دا ایسٹ ونگ محض ایک سابق خاتون اول کی ذاتی کہانی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس کے اندرونی ماحول، طاقت کے ایوانوں کی روزمرہ زندگی اور امریکی سیاست کے ایک ہنگامہ خیز دور کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔ انھوں نے اپنی روایت کے برخلاف کئی ایسے واقعات بیان کیے ہیں جو حالیہ امریکی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ جل بائیڈن نے وائٹ ہاؤس کی زندگی کو سیاسی نعروں یا پالیسی مباحث کے بجائے چھوٹی چھوٹی تفصیلات کے ذریعے بیان کیا ہے۔ وہ کرسمس کی تقریبات میں استعمال ہونے والی مصنوعی برف، وائٹ ہاؤس کے عملے، اپنے پالتو جانوروں اور خاندانی معمولات کا ذکر کرتی ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق کتاب کا مجموعی تاثر کسی سیاسی شخصِت کے بیان سے زیادہ ایسے شخص کی آپ بیتی کا ہے جس نے طاقت کے مرکز میں رہ کر بھی روزمرہ زندگی کی چھوٹی چیزوں کو یاد رکھا۔

بہرحال کتاب مکمل طور پر غیرسیاسی نہیں۔ جل بائیڈن بار بار وائٹ ہاؤس کے ایسٹ ونگ کا ذکر کرتی ہیں، جہاں خاتونِ اول کا دفتر تھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد اس عمارت کو منہدم کرکے نئی تعمیرات کا منصوبہ بنایا گیا۔ ان کے نزدیک یہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ امریکی روایات اور یادوں کی علامت تھی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انھوں نے ایسٹ ونگ گرائے جانے کو ایک تاریخی ورثے کے خاتمے کے طور پر محسوس کیا اور اس کے بارے میں خاصی جذباتی زبان استعمال کی۔

کتاب کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ 2024 کے صدارتی انتخاب اور جو بائیڈن کی متنازع مباحثے کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ جل بائیڈن لکھتی ہیں کہ مباحثے کے دن ہی انھیں محسوس ہوگیا تھا کہ ان کے شوہر کی طبیعت معمول کے مطابق نہیں۔ ان کی آواز بھاری تھی، چہرہ غیرمعمولی دکھائی دے رہا تھا، اور مباحثے کے دوران جب انھوں نے الجھے ہوئے جملے ادا کیے تو جل کے ذہن میں یہ سوال آیا کہ کہیں انھیں فالج تو نہیں ہورہا یا کوئی طبی مسئلہ تو پیش نہیں آگیا۔ بعد میں بھی وہ یقین سے نہیں کہہ سکیں کہ اصل مسئلہ کیا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انھوں نے یہاں تک لکھا کہ کاش اس وقت خون کا ٹیسٹ کروالیا جاتا تاکہ معلوم ہوسکتا کہ کہیں کسی دوا یا بیماری نے تو یہ کیفیت پیدا نہیں کی۔

نیویارک ٹائمز نے بھی اسی واقعے کی جانب توجہ دلائی ہے کہ جل نے جو بائیڈن کی کارکردگی کو دیکھ کر اسے ایک ایسے منظر سے تشبیہ دی جیسے کسی انسان کا مصنوعی ذہانت سے بنایا گیا عکس اچانک خراب ہونے لگے۔ ان کے بقول مباحثے کے بعد جو بائیڈن نے خود اعتراف کیا کہ وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں، اور جل نے بھی اس کی تصدیق کی۔

کتاب میں جو بائیڈن کی صحت سے متعلق مزید انکشافات بھی ہیں۔ جل بائیڈن نے لکھا کہ وائٹ ہاؤس میں اپنے آخری سال کے دوران جو بائیڈن رات کو بار بار جاگ جاتے تھے اور ان میں پروسٹیٹ کے مسائل کی علامات موجود تھیں، لیکن ان پر پوری توجہ نہیں دی گئی۔ صدارت کے بعد جب ان میں کینسر کی تشخیص ہوئی تو جل نے ان واقعات کو یاد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ شاید بعض علامات پہلے ہی موجود تھیں۔

کتاب کا ایک جذباتی باب ہنٹر بائیڈن کے مقدمے سے متعلق ہے۔ جل بائیڈن کے مطابق عدالت میں بیٹھ کر اپنے بیٹے اور خاندان کے دوسرے افراد کو عوامی جانچ پڑتال کا سامنا کرتے دیکھنا ان کی زندگی کے مشکل ترین تجربات میں سے ایک تھا۔ وہ محسوس کرتی تھیں کہ صحافی ان کے چہرے کے تاثرات تک نوٹ کررہے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق وہ اس نتیجے پر بھی پہنچی ہیں کہ جو بائیڈن نے انصاف کے نظام میں مداخلت نہ کرنے کے لیے شاید حد سے زیادہ احتیاط برتی، جس کا نقصان ان کے بیٹے کو اٹھانا پڑا۔

کتاب میں میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کا ذکر بھی ہے۔ جل بائیڈن کا لہجہ نسبتاً محتاط ہے، لیکن وہ یہ بھی بیان کرتی ہیں کہ میلانیا ٹرمپ نے روایتی الوداعی ملاقاتوں میں دلچسپی نہیں دکھائی اور دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار رہے۔ دوسری جانب وہ ہلیری اور بل کلنٹن کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کا ذکر نسبتاً گرمجوشی سے کرتی ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق یہ کتاب سیاست سے زیادہ غم، یادداشت اور وقت کے گزرنے کی کہانی ہے۔ جل بائیڈن نے اپنی زندگی میں شوہر کی پہلی بیوی اور بیٹی کی موت، بیٹے بو بائیڈن کی وفات، سیاسی شکستوں اور اب جو بائیڈن کی بیماری جیسے کئی صدمات دیکھے ہیں۔ اسی لیے کتاب کے صفحات میں طاقت کے ایوانوں کی چکاچوند سے زیادہ انسانی کمزوری، عمر رسیدگی اور نقصان کا احساس نمایاں نظر آتا ہے۔

اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Wall Street Journal: We Read Jill Biden’s Memoir. Here’s What We Learned.

New York Times: Jill Biden’s New Memoir Shows Off a Sharp Eye, if Not a Sharp Elbow