سعودی عرب جنگ سے بچ رہا ہے یا ڈر رہا ہے؟

سعودی عرب نہ تو ایران کو بہت طاقتور دیکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسرائیل کو خطے کی مکمل غالب قوت بننے دینا چاہتا ہے

سعودی عرب جنگ سے بچ رہا ہے یا ڈر رہا ہے؟
audio-thumbnail
0:00
/184.580729

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کی جنگ نے خطے کی سیاست کو نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ اس جنگ میں بعض ماہرین کے لیے سب سے زیادہ حیران کن سعودی عرب کا محتاط اور بظاہر غیر فعال کردار ہے۔ عالمی جریدے اس سوال کا جواب تلاش کررہے ہیں کہ سعودی عرب اس جنگ میں کھل کر شامل کیوں نہیں ہوا اور اس کی حکمتِ عملی کیا ہے۔

فارن افیئرز میگزین کے مطابق ایران جنگ نے خلیجی سلامتی کے پرانے نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک کے انفرااسٹرکچر پر حملے اور آبنائے ہرمز کی بندش نے خطے کی معیشت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے براہِ راست جنگ میں شامل ہونے سے گریز کیا، حالانکہ اس نے امریکی افواج کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔

اس رویے کو سمجھنے کے لیے سعودی عرب کی توازن برقرار رکھنے کی طویل المدتی پالیسی کو دیکھنا ضروری ہے۔ سعودی عرب نہ تو ایران کو بہت طاقتور دیکھنا چاہتا ہے اور نہ ہی اسرائیل کو خطے کی مکمل غالب قوت بننے دینا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ محتاط نظر آتا ہے۔

دوسری جانب فارن پالیسی میگزین کے تجزیہ نگار اسٹیون اے کُک کے مطابق سعودی عرب کی غیر یقینی پوزیشن اس کی کمزوری کی علامت ہوسکتی ہے۔ انھوں نے لکھا کہ سعودی قیادت نے سخت بیانات تو دیے لیکن عملی اقدام سے گریز کیا۔ اس سے تاثر پیدا ہوتا ہے کہ وہ خطے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس کررہی ہے۔

سعودی عرب کے اس احتیاط کی بڑی وجہ اس کی معیشت ہے۔ وژن 2030 کے تحت جاری بڑے ترقیاتی منصوبے، جیسے نیوم شہر، جنگ کی صورت میں شدید متاثر ہوسکتے ہیں۔ فارن پالیسی کے مطابق جنگ کے باعث سعودی عرب کو پہلے ہی اپنے اخراجات کم اور کئی منصوبوں میں تاخیر کرنا پڑی ہے۔ وہ کسی ایسے تنازع میں شامل نہیں ہونا چاہتا جو اس کی اقتصادی ترقی کو خطرے میں ڈال دے۔

ایک اور اہم عنصر امریکا پر عدم اعتماد ہے۔ فارن افیئرز کے مطابق 2019 میں سعودی تیل تنصیبات پر   حملے کے بعد امریکا کے کمزور ردعمل نے سعودی قیادت کو احساس دلایا کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر واشنگٹن پر انحصار نہیں کرسکتی۔ اسی لیے اب سعودی عرب چین، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کررہا ہے۔

سعودی عرب نے علاقائی اتحاد بنانے کی بھی کوشش کی ہے جس میں مصر، پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔ اس اتحاد کا مقصد نہ صرف ایران بلکہ اسرائیل کے اثر و رسوخ کو بھی کنٹرول کرنا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب صرف جنگ سے دور نہیں رہنا چاہتا بلکہ جنگ کے بعد کے منظرنامے میں بھی اپنا کردار محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی حکمتِ عملی خطرناک بھی ہوسکتی ہے۔ اگر ایران نے مزید حملے کیے یا خلیجی ممالک میں کشیدگی بڑھی تو سعودی عرب کو مجبوراً جنگ میں شامل ہونا پڑے گا۔ اگر متحدہ عرب امارات یا بحرین کھل کر جنگ میں شامل ہوئے تو ریاض پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

فارن پالیسی کے مطابق اس جنگ کے ممکنہ نتائج، جیسے امریکی فتح، تعطل، یا ایران کی کامیابی، ہر صورت میں سعودی عرب کے لیے خطرات اور مواقع بھی پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے سعودی قیادت بیک وقت تمام ممکنہ نتائج کے لیے خود کو تیار کررہی ہے۔


فارن افئیرز اور فارن پالیسی میگزین کے مضامین دیکھنے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Can Saudi Arabia Keep Hedging? Foreign Affairs

Why Are the Saudis Sitting Out the War With Iran? Foreign Policy