رئیر ارتھ منرلز کیا ہیں اور چین نے اجارہ داری کیسے قائم کی؟

چین نے حالیہ برسوں میں متعدد اہم معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں یا کنٹرول عائد کیے ہیں، جس سے امریکا، یورپ اور جاپان میں تشویش بڑھ گئی ہے

رئیر ارتھ منرلز کیا ہیں اور چین نے اجارہ داری کیسے قائم کی؟

تیل عالمی سیاست پر اثرانداز ہونے والی سب سے اہم شے ہے، جس کی دستیابی اور قلت سے تمام ممالک متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن اکیسویں صدی میں ایک اور خاموش انقلاب برپا ہوچکا ہے۔ جدید معیشت، مصنوعی ذہانت، برقی گاڑیاں، ونڈ ٹربائنیں، اسمارٹ فون، میزائل، جنگی طیارے اور جدید دفاعی نظام اب ایسے معدنیات پر منحصر ہوتے جارہے ہیں جنہیں "رئیر ارتھ" اور "کریٹیکل منرلز" کہا جاتا ہے۔ ان معدنیات کی وجہ سے چین اور مغربی ممالک کے درمیان نئی سرد جنگ جنم لے رہی ہے۔

رئیر ارتھ ان سترہ عناصر کو کہا جاتا ہے جو کیمیاوی اعتبار سے ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ ان میں نیوڈیمیم، ڈسپروزیم، ٹربیئم، یوروپیم اور سیریم جیسے عناصر شامل ہیں۔ ان کا نام "رئیر" ضرور ہے، لیکن یہ غیر معمولی طور پر نایاب نہیں ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ عموماً خالص شکل میں نہیں ملتے اور انھیں دوسری معدنیات سے الگ کرنا نہایت پیچیدہ، مہنگا اور آلودگی پیدا کرنے والا عمل ہے۔ اسی لیے ان کی پیداوار چند ممالک تک محدود ہوگئی ہے۔

ان عناصر کے اس قدر اہم ہونے کی وجہ ان کی منفرد خصوصیات ہیں۔ نیوڈیمیم طاقتور مقناطیس بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے جو الیکٹرک گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنوں کے لیے ناگزیر ہیں۔ یٹریم اور یوروپیم کمپیوٹر اور ٹیلی ویژن اسکرینوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ دیگر عناصر لیزرز، کمپیوٹر چپس، دفاعی آلات اور جوہری ٹیکنالوجی میں کام آتے ہیں۔ گائیڈڈ میزائلوں سے لے کر جنگی طیاروں تک، جدید فوجی طاقت کا بڑا حصہ انھیں معدنیات پر منحصر ہے۔

رئیر ارتھ دراصل ایک بڑی تصویر کا حصہ ہیں۔ اس میں لیتھیم، کوبالٹ، نکل، تانبا، ٹنگسٹن اور دوسرے "کریٹیکل منرلز" بھی شامل ہیں۔ لیتھیم، نکل اور کوبالٹ الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں کے بنیادی اجزا ہیں، جبکہ تانبا بجلی کے تاروں، موٹروں اور قابلِ تجدید توانائی کے نظاموں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتا ہے۔ اکانومسٹ کے مطابق اگر دنیا موجودہ ماحولیاتی اہداف پر قائم رہی تو 2040 تک لیتھیم کی طلب چار گنا، کوبالٹ کی 80 فیصد، نکل کی 73 فیصد اور رئیر ارتھ عناصر کی طلب 62 فیصد بڑھ سکتی ہے۔

اس میدان میں چین کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ اگرچہ دنیا کے رئیر ارتھ ذخائر صرف چین میں نہیں ہیں، لیکن گزشتہ تین دہائیوں میں چین نے ان کی کان کنی، ریفائننگ اور پروسیسنگ میں بھاری سرمایہ کاری کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آج دنیا کی رئیر ارتھ پیداوار کا تقریباً 70 فیصد چین سے آتا ہے، جبکہ ریفائننگ میں اس کا حصہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ بہت سی کمپنیاں دوسرے ممالک سے خام معدنیات نکالتی ہیں، لیکن انھیں صاف اور قابلِ استعمال شکل دینے کے لیے چین بھیج دیتی ہیں۔ یوں عالمی سپلائی چین کا سب سے اہم مرحلہ بیجنگ کے ہاتھ میں ہے۔

چین نے اس برتری کو صرف معاشی نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ 2010 میں اس نے جاپان کو رئیر ارتھ کی فراہمی محدود کرکے دنیا کو اپنی طاقت کا احساس دلایا۔ حالیہ برسوں میں اس نے متعدد اہم معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں یا کنٹرول عائد کیے ہیں، جس سے امریکا، یورپ اور جاپان میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق چین کے اقدامات نے کمپنیوں کو ایسے متبادل حل تلاش کرنے پر مجبور کردیا ہے جو رئیر ارتھ پر انحصار کم کرسکیں۔

ٹنگسٹن کی مثال اس مقابلے کی شدت کو واضح کرتی ہے۔ ٹنگسٹن رئیر ارتھ عنصر نہیں لیکن ایک اہم کریٹیکل منرل ہے جو دفاعی صنعت، میزائلوں، گولیوں، ہوابازی اور صنعتی آلات میں استعمال ہوتا ہے۔ چین اس کی عالمی پیداوار اور ریفائننگ کا نصف سے زیادہ حصہ کنٹرول کرتا ہے۔ فائننشل ٹائمز کے مطابق حالیہ عرصے میں چینی خریدار امریکا کے اسکریپ یارڈز سے بڑی مقدار میں ٹنگسٹن خرید رہے ہیں، جس سے قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف رئیر ارتھ ہی نہیں بلکہ وسیع تر کریٹیکل منرلز کے شعبے میں بھی چین اجارہ داری قائم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا دنیا چین پر اپنا انحصار ختم کرسکتی ہے؟ مکمل طور پر شاید نہیں، لیکن اسے نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک صورت نئی کانوں کی ترقی ہے۔ آسٹریلیا، برازیل، ویتنام، بھارت، گرین لینڈ اور امریکا میں رئیر ارتھ کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ اگر ان ممالک میں سرمایہ کاری اور ریفائننگ کی سہولتیں بڑھائی جائیں تو چین کی اجارہ داری کم کی جاسکتی ہے۔

دوسرا راستہ نئی ٹیکنالوجی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے حال میں چند ایسی کمپنیوں کا ذکر کیا ہے جو رئیر ارتھ کے بغیر یا کم استعمال سے کام چلانے کی کوشش کررہی ہیں۔ امریکی کمپنی نیرون میگنیٹکس ایسے مقناطیس تیار کررہی ہے جن میں رئیر ارتھ کے بجائے لوہا اور نائٹروجن استعمال ہوتے ہیں۔ جرمن کمپنی زیڈ ایف نے برقی گاڑیوں کے لیے ایسا موٹر تیار کیا ہے جو مستقل مقناطیسوں کے بغیر کام کرسکتا ہے۔ جاپان کی ڈائیڈو اسٹیل نے ایسے مقناطیس بنائے ہیں جن میں بھاری رئیر ارتھ عناصر کی ضرورت نہیں پڑتی۔

تیسرا حل ری سائیکلنگ ہے۔ استعمال شدہ الیکٹرانکس، بیٹریوں اور صنعتی آلات سے قیمتی معدنیات دوبارہ حاصل کی جاسکتی ہیں۔ ٹنگسٹن کے معاملے میں اسکریپ ری سائیکلنگ پہلے ہی ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ مستقبل میں یہی طریقہ رئیر ارتھ کے لیے بھی زیادہ اہم ہوسکتا ہے۔

درحقیقت یہ مسئلہ صرف معدنیات کا نہیں بلکہ صنعتی حکمت عملی کا ہے۔ تیل کی طرح اب رئیر ارتھ اور کریٹیکل منرلز بھی عالمی طاقت کے اہم ستون بن چکے ہیں۔ چین نے وقت پر سرمایہ کاری کرکے اس میدان میں نمایاں برتری حاصل کرلی، لیکن مغربی ممالک اور ان کے اتحادی اب متبادل سپلائی چینز، نئی کان کنی، ریفائننگ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس انحصار کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ آنے والی دہائیوں میں شاید یہ مقابلہ تیل کی کشمکش سے بھی زیادہ اہم ثابت ہوگا، کیونکہ مصنوعی ذہانت، سبز توانائی اور جدید دفاعی نظاموں کی پوری عمارت انھیں معدنیات پر کھڑی ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

The Economist: A visual guide to critical materials and rare earths

Financial Times: China’s hunt for US tungsten escalates global critical minerals race

Wall Street Journal: Does the World Need Chinese Rare Earths? Not Necessarily, Say These Companies