ری پبلکن پارٹی یا ٹرمپ پارٹی؟

ری پبلکن سیاست دان اب ڈیموکریٹس سے نہیں بلکہ اپنے ہی ووٹروں سے خوفزدہ رہتے ہیں کیونکہ صدر ٹرمپ کی مخالفت ان کا کرئیر ختم کرسکتی ہے

ری پبلکن پارٹی یا ٹرمپ پارٹی؟

امریکی سیاست میں یہ بات اب تقریباً مسلمہ حقیقت بنتی جارہی ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے اندر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت سیاسی کرئیر ختم کرسکتی ہے۔ 2016 میں صدر ٹرمپ کی کامیابی کے بعد سے ری پبلکن پارٹی صرف روایتی قدامت پسند جماعت نہیں رہی بلکہ بتدریج ایسی سیاسی تحریک میں تبدیل ہوگئی جس میں صدر ٹرمپ کی شخصیت مرکزی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو ری پبلکن رہنما ان کی مخالفت کرتے ہیں، ان میں سے اکثر یا تو پرائمریز ہار جاتے ہیں، یا سیاست چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

اس رجحان کی سب سے نمایاں مثال 2021 میں سامنے آئی جب کانگریس پر حملے کے بعد ایوانِ نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دینے والے دس ری پبلکن ارکان کو شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں لِز چینی، ایڈم کنزنگر، ٹام رائس، پیٹر میئر اور جیمی ہریرا بیوٹلر جیسے نام شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر یا تو بعد میں پرائمریز ہار گئے یا دوبارہ الیکشن ہی نہ لڑ سکے۔

سب سے زیادہ توجہ لِز چینی کے حاصل کی۔ وہ سابق نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی تھیں اور کبھی ری پبلکن پارٹی کے مستقبل کی قیادت سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن جب انھوں نے 6 جنوری کے واقعے کے بعد صدر ٹرمپ پر کھل کر تنقید کی اور کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ہوئیں تو ان کے خلاف پارٹی کے اندر شدید ردعمل پیدا ہوا۔ 2022 کی پرائمری میں انھیں بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس شکست کو صدر ٹرمپ کی پارٹی پر گرفت کا واضح ثبوت قرار دیا۔

اسی طرح گارڈین نے ایک حالیہ تجزیے میں لکھا کہ ری پبلکن سیاست دان اب صرف ڈیموکریٹس سے نہیں بلکہ اپنی ہی پارٹی کے ووٹروں سے خوفزدہ رہتے ہیں، کیونکہ صدر ٹرمپ کی مخالفت انھیں پرائمری میں کمزور بنادیتی ہے۔ یہ خوف نظریاتی نہیں بلکہ انتخابی حقیقت بن چکا ہے۔

امریکا کے انتخابی نظام میں پرائمریز کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ہر جماعت پہلے پرائمری میں اپنے امیدوار کا انتخاب کرتی ہے اور اس مرحلے میں سب سے زیادہ سرگرم اور نظریاتی ووٹر حصہ لیتے ہیں۔ ری پبلکن پارٹی میں اب یہ سرگرم ووٹر بڑی حد تک میک امریکا گریٹ اگین یا میگا تحریک سے وابستہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصدر ٹرمپ کسی امیدوار کی مخالفت کردیں تو اس امیدوار کے لیے اپنے ہی ووٹروں کو قائل کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

یہ رجحان صرف کانگریس تک محدود نہیں۔ سینیٹ میں بھی ٹرمپ مخالف ری پبلکن رہنماؤں کا یہی حشر ہورہا ہے۔ مِٹ رومنی، جیف فلیک، بین سیس اور پیٹ ٹومی جیسے سیاست دان یا تو سیاست چھوڑ گئے یا دوبارہ الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔ سابق صدارتی امیدوار رومنی شاید صدر ٹرمپ کے سب سے نمایاں ناقد تھے، لیکن رفتہ رفتہ وہ خود اپنی جماعت میں تنہا ہوتے گئے۔ ان کے بیانات کو ڈیموکریٹس سراہتے تھے لیکن ری پبلکن ووٹرز کی اکثریت ان سے دور ہوگئی۔

اس سال کے مڈٹرم انتخابات کی پرائمریز نے یہ رجحان مزید واضح کیا ہے۔ لوزیانا کے سینیٹر بل کیسیڈی، جنھوں نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے حق میں ووٹ دیا تھا، پرائمری میں شکست کھا گئے۔ کئی مبصرین نے اس شکست کو صرف مقامی انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ میگا ووٹروں کی طاقت کا اظہار قرار دیا۔ اسی طرح کینٹکی کے کانگریس مین تھامس میسی، جو بعض معاملات میں ٹرمپ سے اختلاف کرتے تھے، شدید دباؤ کا شکار ہوئے اور آخرکار اپنی نشست نہ بچاسکے۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ری پبلکن پارٹی میں اب نظریاتی وفاداری سے زیادہ اہمیت صدر ٹرمپ کے ساتھ وفاداری کو حاصل ہوگئی ہے۔ ماضی میں ری پبلکن پارٹی کے اندر مختلف دھڑے موجود تھے جن میں روایتی قدامت پسند، دفاعی پالیسی پر سخت موقف رکھنے والے، آزاد منڈی کے حامی، اور مذہبی دائیں بازو کے گروہ، لیکن اب ان سب پر میگا سیاست غالب آچکی ہے۔

اس ماحول میں اکا دکا استثنا بھی ہیں۔ الاسکا کی سینیٹر لیزا مرکووسکی ایک مثال ہیں۔ انھوں نے صدر ٹرمپ پر تنقید بھی کی اور ان کے مواخذے کے حق میں ووٹ بھی دیا، لیکن پھر بھی کامیاب رہیں۔ اس کی وجہ الاسکا کا رینکڈ چوائس ووٹنگ کا نظام تھا، جس نے معتدل ووٹروں کو زیادہ قوت دی۔ اس کے باوجود مجموعی رجحان یہی ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے اندر صدر ٹرمپ کے مخالفین کی سیاسی بقا مشکل ہوگئی ہے۔

بعض سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ صرف سیاست دان نہیں بلکہ عوامی تحریک کی علامت بن چکے ہیں۔ ان کے حامی انھیں واشنگٹن کے روایتی سیاسی نظام کے خلاف باغی رہنما سمجھتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی ری پبلکن رہنما ان پر تنقید کرتا ہے تو بہت سے ووٹر اسے اختلافِ رائے نہیں بلکہ تحریک سے غداری تصور کرتے ہیں۔

آج ری پبلکن امیدواروں کے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں رہا کہ وہ قدامت پسند پالیسیوں پر کہاں کھڑے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کا صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلق کیسا ہے۔ کئی امیدوار اپنی انتخابی مہم میں سب سے پہلے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ٹرمپ کے وفادار ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کی مخالفت کسی بھی ری پبلکن سیاست دان کا کریئر ختم کرسکتی ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Washington Post: The Trump paradox: What’s good for him is weighing down his party

Guardian: Trump critic Thomas Massie defeated in Kentucky Republican House primary