روزویلٹ ہوٹل، معاشی اور سفارتی اثاثہ
پاکستانی سفارت کاروں کا دوسرا گھر سمجھنے جانے والے اس ہوٹل میں خفیہ نوعیت کی ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں
نیویارک کے مصروف علاقے مین ہٹن میں واقع روزویلٹ ہوٹل بظاہر ایک پرانی عمارت ہے، لیکن درحقیقت یہ پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ اور پیچیدہ سفارتی و معاشی کہانی بن چکا ہے۔ کبھی یہ ہوٹل پاکستانی حکام اور سفارت کاروں کا دوسرا گھر سمجھا جاتا تھا، جہاں خفیہ نوعیت کی ملاقاتیں اور غیر رسمی رابطے ہوتے تھے۔ لیکن اب یہ عمارت شاید اپنا روپ بدلنے والی ہے۔
سنہ 2020 میں بند ہونے کے بعد سوال پیدا ہوا کہ اس ہوٹل کا کیا کیا جائے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان اسے مکمل طور پر فروخت کرنے پر غور کیا کیونکہ قومی معیشت دباؤ کا شکار تھی اور غیر فعال اثاثوں سے جان چھڑانے کی بات ہورہی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ حکمت عملی بدل گئی۔ اب بات فروخت کے بجائے ایسے منصوبے تک پہنچ چکی ہے جس میں شراکت، سرمایہ کاری اور طویل مدتی فائدہ شامل ہے۔
فروری 2026 میں اہم پیشرفت سامنے آئی جب پاکستان اور امریکا کے درمیان اس ہوٹل کی ری ڈیولپمنٹ کے لیے معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت عمارت کو گرا کر یا جدید بناکر فائدہ اٹھایا جائے گا۔ اس میں دونوں ممالک کی شراکت ہوگی، جس کا مقصد اس جائیداد کی اصل قدر کو سامنے لانا ہے۔
ماضی میں کئی بڑی امریکی کمپنیوں نے اس ہوٹل کو خریدنے میں دلچسپی دکھائی تھی۔ بعض رپورٹس کے مطابق ایک مرحلے پر ٹرمپ آرگنائزیشن سے بھی بات چیت ہوئی، لیکن کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا۔ حالیہ مہینوں میں جے پی مورگن کی پیشکش بھی مسترد کردی گئی کیونکہ پاکستان مکمل کنٹرول چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔
اب حکومت کی ترجیح ہے کہ زمین کی ملکیت برقرار رکھی جائے جبکہ بیرونی سرمایہ کار ترقیاتی منصوبے میں حصہ ڈالیں۔ اس مقصد کے لیے اس ماہ سٹی بینک کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو مالی مشیر مقرر کیا گیا ہے جو اس پورے عمل کو آگے بڑھائے گا۔
اس کہانی کا ایک غیر معمولی پہلو امریکا کی شمولیت ہے۔ عام طور پر کسی غیر ملکی ہوٹل کے منصوبے میں امریکی حکومت براہ راست شامل نہیں ہوتی لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ امریکی حکام اس منصوبے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس سے کچھ حلقوں میں سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ اس شراکت کی نوعیت کیا ہوگی اور کنٹرول کس کے پاس رہے گا۔
روزویلٹ ہوٹل کی قیمت اس کی عمارت میں نہیں بلکہ زمین میں ہے۔ یہ جگہ نیویارک کے انتہائی مہنگے علاقے میں واقع ہے، جہاں نئی تعمیرات کی بے پناہ گنجائش موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس عمارت کو گرا کر نیا منصوبہ بنایا جائے تو اس کی قیمت ایک ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان جلد بازی میں فروخت کرنے کے بجائے بہتر وقت اور مناسب معاہدے کا انتظار کررہا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Reuters: Pakistan, US sign pact to redevelop New York's Roosevelt Hotel
Intelligence Online: The Roosevelt Hotel, Pakistan's $1bn bargaining chip in Manhattan