روس اور چین نے جنگ میں ایران کو کتنی مدد فراہم کی؟
امریکا میڈیا کے مطابق روس نے ایران کو سیٹلائٹ معلومات اور ڈرون ٹیکنالوجی، چینی کمپنیوں نے ایرانی دفاعی صنعت کو پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کی، ماسکو اور بیجنگ کی تردید
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ جنگ میں خلیجی ریاستیں امریکا کے ساتھ کھڑی نظر آئیں لیکن دوسری جانب ایران کو روس اور چین کی حمایت حاصل رہی۔ اگرچہ ماسکو اور بیجنگ نے براہِ راست جنگ میں شمولیت اختیار نہیں کی، لیکن امریکی حکام، مغربی میڈیا اور تحقیقی رپورٹس میں بار بار یہ دعویٰ سامنے آیا کہ دونوں طاقتوں نے ایران کو سفارتی، تکنیکی، انٹیلی جنس اور معاشی مدد فراہم کی۔
جنگ شروع ہونے کے بعد امریکا اور اسرائیل کی توجہ صرف ایرانی میزائلوں اور ڈرونز پر نہیں رہی بلکہ اس یہ سوال بھی بار بار اٹھایا گیا کہ آخر ایران کو اتنی تکنیکی اور عسکری صلاحیت کہاں سے مل رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ روس نے ایران کو سیٹلائٹ معلومات، ڈرون ٹیکنالوجی اور بعض حساس عسکری معلومات فراہم کیں۔ اخبار کے مطابق امریکی حکام کو شبہ تھا کہ روس، یوکرین جنگ کے دوران ایران سے حاصل ہونے والی ڈرون مہارت کے بدلے تہران کو جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کررہا ہے۔ بعض امریکی حکام کے مطابق روس نے خلیج میں امریکی اہداف کی نگرانی سے متعلق معلومات بھی ایران تک پہنچائیں۔ اس خبر نے واشنگٹن میں تشویش پیدا کی۔
واشنگٹن پوسٹ نے بھی امریکی حکام کے حوالے سے لکھا کہ روس ایران کو ایسی معلومات فراہم کررہا ہے جن سے امریکی فوجی تنصیبات اور بحری سرگرمیوں کی نگرانی ممکن ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کو خدشہ تھا کہ روس اپنی جغرافیائی اور تکنیکی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کو خطے میں زیادہ مؤثر بنارہا ہے۔ اخبار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا روس اب ایران کو عام اتحادی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
دوسری طرف چین کا کردار نسبتاً خاموش لیکن نہایت اہم سمجھا گیا۔ نیوز ایجنسی رائٹرز نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ بعض چینی کمپنیاں ایران کے ڈرون پروگرام اور دفاعی صنعت کو پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کررہی تھیں۔ امریکی حکام کو شبہ تھا کہ بعض چینی ادارے ایران کو ایسے آلات فراہم کررہے ہیں جنہیں عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ امریکا نے انھیں الزامات کی بنیاد پر بعض کمپنیوں اور افراد پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے بعد میں ایک بیان میں کہا کہ ایران کے ہتھیاروں اور ڈرون پروگرام کی مدد کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ ان پابندیوں میں چند چینی اور دوسری کمپنیاں بھی شامل تھیں جن پر الزام تھا کہ وہ ایران کو حساس پرزے اور ٹیکنالوجی فراہم کررہی ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کی عسکری صلاحیت صرف مقامی پیداوار کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بین الاقوامی سپلائی نیٹ ورک موجود ہے۔
روس اور چین، دونوں نے ان الزامات کی تردید کی۔ کریملن نے وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کو فیک نیوز قرار دیا۔ ماسکو کا مؤقف تھا کہ روس ایران کے ساتھ جائز تعلقات رکھتا ہے لیکن جنگ کو بھڑکانے والی کسی سرگرمی میں شامل نہیں۔
چین نے بھی محتاط انداز اختیار کیا۔ بیجنگ نے براہِ راست عسکری تعاون کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں استحکام چاہتا ہے اور تمام فریقوں سے تحمل کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی اصل دلچسپی ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی اور توانائی کے تعلقات کو محفوظ رکھنے میں ہے۔ ایران، چین کے لیے سستا تیل فراہم کرنے والا اہم ملک ہے، جبکہ چین ایران کو امریکی پابندیوں کے باوجود عالمی معیشت سے جڑے رہنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں بھی روس اور چین کا رویہ ایران کے حق میں سمجھا گیا۔ جب امریکا نے ایران کے خلاف سخت قراردادوں یا نئی پابندیوں کی بات کی تو ماسکو اور بیجنگ نے مخالفانہ رویہ اختیار کیا۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ ایران کے خلاف ممکنہ قراردادوں کو روس اور چین ویٹو کرسکتے ہیں۔ اس صورتحال نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ دونوں طاقتیں سفارتی سطح پر ایران کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتیں۔
بعض مبصرین کے مطابق روس، چین اور ایران کسی نہ کسی شکل میں امریکا کے عالمی اثرورسوخ کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس تعاون کی حدود بھی ہیں۔ روس اور چین جانتے ہیں کہ اگر وہ ایران کی کھلی فوجی مدد کریں گے تو اس سے امریکا اور مغربی ممالک کے ساتھ ان کے تعلقات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ان کا تعاون سفارتی یا معاشی دائرے تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ وہ ایران کو مکمل تنہائی سے بچانا چاہتے ہیں لیکن س تصادم میں براہِ راست شامل ہونے سے بھی گریز کررہے ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
Wall Street Journal: Russia Secretly Sharing Location of U.S. Targets With Iran, U.S. Officials Say
Washington Post: Russia is providing Iran intelligence to target U.S. forces, officials say
Reuters: US imposes sanctions on companies it accuses of aiding Iran's weapons sector