راسپوتین، روس کا بدعنوان نبی

وہ لوگوں کو یقین دلاتا تھا کہ گناہ کے ذریعے بھی پاکیزگی حاصل کی جاسکتی ہے، اس نظریے کی وجہ سے خاص قسم کے پیروکار اس کے گرد جمع ہوئے

راسپوتین، روس کا بدعنوان نبی

راسپوتین ایک ایسا عجیب و غریب شخص تھا جس کی موت کو ایک صدی گزر چکی ہے لیکن اس کا پراسرار کردار بھلایا نہیں جاسکا۔ روس کے اس بدعنوان "نبی" نے اپنی ذات کے گرد عقیدت، خوف اور نفرت، تینوں کو اکٹھا کرلیا تھا۔ گزشتہ ماہ برطانوی اسکالر سر انٹونی بیور کی کتاب راسپوتین اینڈ دا ڈاون فال آف  دا روموفس شائع ہوئی جس میں روسی سلطنت کے آخری ایام اور راسپوتین کی زندگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔

گریگری راسپوتین کا ایک غریب کسان خاندان میں پیدا ہوا۔ وہ دیہاتی، بے ترتیب اور کسی حد تک کھردرے مزاج کا آدمی تھا۔ اس کے لباس، چال ڈھال اور گفتگو میں شائستگی نہیں تھی۔ اس کے باوجود اس میں عجیب کشش تھی۔ اس کی آنکھوں کے بارے میں بار بار ذکر آتا ہے کہ وہ غیر معمولی حد تک گہری اور پراثر تھیں۔ لوگ محسوس کرتے تھے کہ وہ ان کے اندر تک دیکھ رہا ہے۔ اس کی گفتگو میں مذہب، گناہ، توبہ اور روحانیت کا ذکر ہوتا لیکن اس کی اپنی زندگی میں تضادات نمایاں تھے۔

اس کی شخصیت کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ وہ ایک ہی وقت میں روحانی پیشوا بھی نظر آتا تھا اور عیاش بھی۔ وہ لوگوں کو یقین دلاتا تھا کہ گناہ کے ذریعے بھی پاکیزگی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یعنی انسان پہلے گناہ کرے، پھر سچی توبہ کے ذریعے خدا کے قریب ہوجائے۔ اس نظریے کی وجہ سے خاص قسم کے پیروکار اس کے گرد جمع ہوئے۔ یعنی بظاہر وہ لوگ، جو روحانی تسکین کے متلاشی تھے۔

ان دنوں زار نکولس دوم اور ان کی ملکہ الیگزینڈرا ایک بڑی ذاتی پریشانی کا شکار تھے۔ ان کے بیٹے الیکسی کو ہیموفیلیا یعنی خون نہ جمنے کی بیماری تھی، جو اس وقت لاعلاج سمجھی جاتی تھی۔ راسپوتین نے کسی حد تک اس بیماری کو قابو میں رکھنے میں مدد کی، یا کم از کم ایسا محسوس ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ ملکہ الیگزینڈرا اس پر غیرمعمولی اعتماد کرنے لگی اور اسے خدا کا بھیجا ہوا شخص سمجھنے لگی۔

یوں راسپوتین کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔ وہ نہ صرف شاہی خاندان کے معاملات میں دخل دینے لگا بلکہ ریاستی امور پر بھی اثرانداز ہونا شروع ہوگیا۔ ملکہ کی اندھی عقیدت نے اسے دربار میں ایک غیر رسمی لیکن طاقتور حیثیت دے دی۔ وہ وزرا کی تقرریوں اور برطرفیوں میں مداخلت کرتا اور حکومتی فیصلوں کو متاثر کرتا۔

دوسری طرف روسی اشرافیہ، فوجی افسر اور عوام کی بڑی تعداد راسپوتین سے نفرت کرنے لگی۔ اس کی بدنامی کی بڑی وجہ اس کی ذاتی زندگی تھی، جس میں شراب نوشی، عورتوں سے تعلقات اور اخلاقی بدعنوانی کے قصے عام تھے۔ لوگوں کو یہ بات ناقابل برداشت لگتی تھی کہ ایک ایسا شخص، جس کی شہرت مشکوک ہے، سلطنت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

اسی دوران روس پہلی جنگ عظیم میں داخل ہوا جس نے روسی معیشت کو تباہ کردیا۔ فوجی شکستیں بڑھنے لگیں اور عوام میں بے چینی پھیلنے لگی۔ زار نکولس دوم نے خود فوج کی قیادت سنبھالنے کا فیصلہ کیا اور دارالحکومت سے دور ہوگیا۔ اس خلا کو ملکہ الیگزینڈرا اور راسپوتین نے پُر کیا، جس سے حالات مزید خراب ہو گئے۔

راسپوتین کی مداخلت اور ملکہ کے فیصلوں نے حکومت کو غیر مستحکم کردیا۔ وزرا بار بار تبدیل کیے جاتے، پالیسیاں غیر مستقل رہتیں۔ عوام کا اعتماد ختم ہوتا چلا گیا۔ اشرافیہ کے کئی افراد اس نتیجے پر پہنچے کہ راسپوتین کا خاتمہ کیے بغیر سلطنت کو بچانا ممکن نہیں۔

راسپوتین کی زندگی جتنی متنازع تھی، اس کی موت اس سے کہیں زیادہ ڈرامائی ثابت ہوئی۔ 1916 کی ایک سرد رات اسے ایک سازش کے تحت شہزادہ فیلکس یوسوپوف کے محل میں مدعو کیا گیا۔ بظاہر یہ ایک دوستانہ ملاقات تھی لیکن درحقیقت یہ اس کے قتل کا منصوبہ تھا۔ اسے پہلے زہر ملا کھانا اور شراب دی گئی۔ وہ زہر اتنا مہلک تھا کہ ایک عام انسان فوراً مر جاتا لیکن راسپوتین پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ واقعہ اس کے پراسرار کردار کو اور بھی گہرا کرتا ہے۔

جب زہر کارگر نہ ہوا تو یوسوپوف نے اسے قریب سے گولی مار دی۔ راسپوتین زمین پر گر پڑا اور کچھ دیر کے لیے سب نے سمجھا کہ وہ مر چکا ہے۔ مگر اچانک وہ دوبارہ اٹھ کھڑا ہوا اور باہر کی طرف بھاگا۔ سب لوگ گھبرا گئے اور اس پر مزید گولیاں چلائیں۔ اس بار وہ واقعی گر گیا۔ لیکن پھر بھی مکمل اطمینان کے لیے اس کے جسم کو باندھ کر برفیلے دریا میں پھینک دیا گیا۔ بعد میں جب اس کی لاش ملی تو بعض روایات کے مطابق اس کے پھیپھڑوں میں پانی پایا گیا۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید وہ دریا میں پھینکے جانے کے وقت تک زندہ تھا۔

راسپوتین کی موت کے باوجود حالات بہتر نہ ہوسکے۔ عوامی غصہ بڑھتا گیا اور چند ہی مہینوں بعد 1917 کا انقلاب برپا ہوگیا۔ زار نکولس دوم کو تخت چھوڑنا پڑا اور رومانوف خاندان کی صدیوں پرانی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ بعد ازاں زار اور ان کے خاندان کو قید میں رکھا گیا اور 1918 میں انھیں قتل کردیا گیا۔


 اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Financial Times: The corrupt prophet at the heart of a rotten Russian empire

New York Times: Russia’s Greatest Love Machine? Probably Not.