عربوں/اربوں کا خزانہ خالی ہوسکتا ہے

جنگ کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہورہے ہیں، سیاحت متاثر ہورہی ہے اور بعض بڑے منصوبے سست یا منسوخ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں

عربوں/اربوں کا خزانہ خالی ہوسکتا ہے

خلیجی ریاستیں ان دنوں بحران کا شکار نظر آتی ہیں۔ انھیں صرف جنگ سے نہیں بلکہ اس کے معاشی نتائج سے بھی سنگین خطرات لاحق ہے۔ خلیجی ریاستیں برسوں سے تیل کی دولت کو مستقبل کی معیشت میں بدلنے کی کوشش کررہی تھیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین کے خودمختار سرمایہ کاری فنڈ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی، رئیل اسٹیٹ، انفرااسٹرکچر، کھیلوں اور توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ لگا رہے تھے۔ لیکن جنگ نے ان منصوبوں کو اچانک غیر یقینی بنادیا ہے۔

اکانومسٹ کے مضمون War will drain the Gulf’s $6trn treasure chest میں صورتحال کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق تیل اور گیس کے ڈھانچے کو نقصان، دفاعی اخراجات میں اضافہ، میزائل شکن نظام کی ضرورت اور آبنائے ہرمز کے متبادل راستوں پر ممکنہ سرمایہ کاری خلیجی خزانے پر غیر معمولی دباو ڈال سکتی ہے۔

یہ خطرہ اس لیے بھی سنگین ہے کہ خلیجی دولت کا بڑا حصہ ایسے منصوبوں میں پھنسا ہوا ہے جنھیں فوری طور پر نقد رقم میں تبدیل کرنا آسان نہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، رئیل اسٹیٹ، بندرگاہیں، ایئرلائنز، سیاحت اور بڑے تعمیراتی منصوبے طویل مدت کے لیے کیے گئے تھے۔ جنگ کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار محتاط ہورہے ہیں، سیاحت متاثر ہورہی ہے اور بعض بڑے منصوبے سست یا منسوخ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اکانومسٹ کے مطابق جنگ کی وجہ سے خلیجی فنڈز کو مستقبل کی نئی معیشت بنانے کے بجائے پرانی معیشت کی مرمت پر زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔

لیکن معاشی خطرہ اس کہانی کا صرف ایک حصہ ہے۔ دوسرا حصہ سیاسی اور نفسیاتی ہے۔ فارن افیئرز میگزین کے مضمون America Has Lost the Arab World کے مطابق غزہ، ایران اور خطے کی دوسری جنگوں نے عرب عوام میں امریکا کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ عرب بیرومیٹر کے عوامی جائزوں کے مطابق بہت سے عرب شہری اب امریکا کو غیر جانبدار طاقت کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے اسرائیل کا حامی سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے چین، روس اور کسی حد تک ایران کے بارے میں رائے نسبتاً بہتر ہوئی ہے۔ البتہ عرب عوام میں ایران کے اثر و رسوخ اور جوہری پروگرام پر بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

اس بدلتی ہوئی عوامی رائے کے اثرات حکومتوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ عرب حکمران اگرچہ عوامی رائے کے مکمل پابند نہیں لیکن وہ سڑکوں پر غصے اور احتجاج کے امکان کو نظرانداز بھی نہیں کرسکتے۔ جب عوام امریکا کو جانبدار اور عالمی قانون کو کمزور سمجھنے لگیں تو حکومتوں کے لیے واشنگٹن کے ساتھ کھل کر کھڑے ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ فارن افیئرز کے مطابق اگر امریکم غپ غزہ اور ایران کے مسئلے پر اپنا رویہ نہ بدلا تو وہ عرب دنیا میں اپنا اثر و رسوخ مستقل طور پر کھوسکتا ہے۔

یوں خلیجی ریاستیں دو طرفہ دباو میں ہے۔ ایک طرف جنگ خلیجی دولت کو کھا رہی ہے اور دوسری طرف عوامی سطح پر مغرب سے اعتماد اٹھ رہا ہے۔ اگر خلیجی ریاستوں کو اپنی دولت دفاع، تعمیر نو اور نقصان پورا کرنے پر خرچ کرنا پڑی تو ان کے ترقیاتی خواب متاثر ہوں گے۔ اور اگر عوامی غصہ بڑھتا گیا تو عرب حکومتیں اپنی خارجہ پالیسی میں چین، روس یا دوسرے متبادل مراکز کی طرف زیادہ جھک سکتی ہیں۔