عرب ریاستوں کے ابراہام اکارڈز میں شامل ہونے تک ایران سے معاہدہ شاید نہ کریں، صدر ٹرمپ

مڈٹرم انتخابات یا مہنگائی کی وجہ سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، امریکی صدر، ایرانی مذاکرات کاروں کو اپنے ملک میں سخت گیر حلقوں کی کڑی تنقید کا سامنا

عرب ریاستوں کے ابراہام اکارڈز میں شامل ہونے تک ایران سے معاہدہ شاید نہ کریں، صدر ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب، قطر اور دوسرے عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے والے ابراہیم اکارڈز میں شامل نہ ہوئے تو شاید ایران کے ساتھ معاہدہ بھی نہ ہو۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ مڈٹرم انتخابات یا مہنگائی کی وجہ سے وہ پیچھے نہیں پٹیں گے۔ دوسری طرف ایران کے اندر بھی شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں اور مذاکرات کاروں کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ سخت گیر حلقے حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز اور ایٹمی پروگرام پر کوئی نرمی نہ دکھائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کو صرف ایران تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اسے پورے مشرقِ وسطیٰ کی نئی ترتیب کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کابینہ اجلاس میں کہا کہ سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے چاہییں۔ ان کے بقول یہ تاریخی اقدام ہوگا اور امریکا اس کا حقدار ہے۔

عرب دنیا میں اس تجویز کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ خلیجی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور قطر فی الحال ابراہیم اکارڈز میں شامل ہونے کے لیے تیار نہیں۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی ایک بیان میں اس امکان کو مسترد کردیا تھا۔

امریکا کے اندر بھی یہ جنگ سیاسی مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما پریشان ہیں کہ جنگ کے باعث نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ووٹر ناراض ہوسکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی نے پہلے ہی عوامی بے چینی بڑھا دی ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ سیاسی دباؤ سے خوفزدہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت سمجھ رہی تھی کہ وہ انتخابات کی وجہ سے نرم پڑ جائیں گے، مجھے انھیں انتخابات کی کوئی پرواہ نہیں۔

پاکستان کی مدد سے جاری بالواسطہ مذاکرات کا مرکز یہ نکات ہیں ہے کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا اور ایران کے ایٹمی پروگرام کا مستقبل کیا ہوگا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نگرانی کریں گے، جبکہ امریکا اپنی ناکابندی ختم کردے گا۔ لیکن وائٹ ہاؤس نے فوراً اس رپورٹ کو من گھڑت قرار دے دیا۔ صدر ٹرمپ نے بھی سخت لہجے میں کہا کہ کوئی ایک ملک اس آبی گزرگاہ کو کنٹرول نہیں کرے گا۔ انھوں نے عمان کو بھی تنبیہہ کی ہے کہ ایسے کسی منصوبے سے دور رہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران کے یورینیم چھوڑنے کے بدلے بھی پابندیاں ختم کرنے پر تیار نہیں۔

دوسری طرف ایران کے اندر بھی شدید داخلی کشمکش جاری ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سخت گیر پایداری دھڑے کے رہنما مذاکرات کاروں پر سخت تنقید کررہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھے، امریکی پابندیوں کے مکمل خاتمے تک کوئی رعایت نہ دے اور ایٹمی پروگرام پر کوئی سمجھوتا نہ کرے۔ سخت گیر رہنما محمود نبویان نے تو یہاں تک کہا کہ جنگ نے ایران کو سوپر پاور بنادیا ہے، اس لیے اب تہران کو زیادہ سے زیادہ شرائط منوانی چاہییں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ دنوں میں اتحاد اور تعمیرِ نو کی بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل جنگ اب معیشت کی ہے۔ ایران کو احساس ہے کہ مسلسل کشیدگی اس کی معیشت کو مزید نقصان پہنچارہی ہے۔ ٹرمپ بھی یہی بات دہرا رہے ہیں ایران کا اقتصادی نظام تقریباً ٹوٹ چکا ہے۔ لیکن ایران کے سخت گیر حلقے مذاکرات میں کوئی بھی رعایت دینے کے حق میں نہیں۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Haaretz: Not Sure Iran Deal Possible Unless Saudis, Qatar Join Abraham Accords, Trump

Reuters: Trump says Iran and Oman will not control Strait of Hormuz, deal remains elusive

Wall Street Journal: Trump Says He Doesn’t Fear Political Fallout From Prolonged War With Iran

Financial Times: Iran’s ultra-hardliners lash out at negotiators over US talks