قسمت کی کتاب
پری نوش صنیعی کا ناول محبت کا قصہ ہے، معصومہ اور سعید کی ملاقات کئی دہائیوں بعد ہوتی ہے، دونوں ایک دوسرے کے سامنے آ کر ماضی کی یادوں اور جذبات کو دوبارہ محسوس کرتے ہیں
پری نوش صنیعی کا یہ ناول معصومہ صادقی کی زندگی کی کہانی ہے۔ وہ ایران کے شہر قم میں ایک مذہبی اور روایت پسند گھرانے میں پیدا ہوئی۔ بعد میں اس کا خاندان تہران منتقل ہو جاتا ہے۔ کہانی معصومہ کی اپنی زبانی بیان ہوتی ہے اور اس کی زندگی کے ذریعے ایران کی کئی دہائیوں پر مشتمل سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی تصویر سامنے آتی ہے۔
معصومہ کا بچپن سخت پابندیوں اور گھریلو دباو کے ماحول میں گزرتا ہے۔ اس کا بڑا بھائی محمود نہایت سخت گیر اور مذہبی خیالات کا حامل ہے جو گھر کی عورتوں پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ اس کا چھوٹا بھائی احمد بالکل مختلف مزاج کا حامل ہے اور آوارہ گردی اور لاپرواہی کی زندگی گزارتا ہے۔ ان کے والد نسبتاً نرم دل ہیں لیکن گھر کے مجموعی ماحول پر بڑے بھائی کا اثر غالب رہتا ہے۔ معصومہ کی سب سے بڑی خواہش تعلیم حاصل کرنا تھی لیکن اس کے لیے اسے مسلسل مزاحمت اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جب خاندان تہران منتقل ہوتا ہے تو معصومہ کو اسکول جانے کا موقع ملتا ہے۔ یہ اس کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوا۔ اسکول میں اس کی دوستی پروانہ احمدی سے ہوتی ہے جو ایک آزاد خیال، خوش مزاج اور پراعتماد لڑکی ہے۔ پروانہ کی شخصیت معصومہ کے لیے ایک نئی دنیا کا دروازہ کھولتی ہے۔ دونوں کی دوستی وقت کے ساتھ مضبوط ہوتی جاتی ہے اور زندگی کے مشکل مراحل میں بھی قائم رہتی ہے۔اسی زمانے میں معصومہ کے دل میں ایک نوجوان فارماسسٹ، سعید کے لیے خاموش محبت جنم لیتی ہے۔ دونوں کے درمیان کبھی براہ راست بات نہیں ہوتی لیکن نگاہوں کے ملاپ اور خاموش احساسات کا یہ رشتہ معصومہ کے دل پر گہرا نقش چھوڑ دیتا ہے۔ یہ محبت ادھوری رہ جاتی ہے لیکن اس کی یاد پوری زندگی چلتی ہے۔
معصومہ کے گھر والے جلد اس کی شادی کے درپے ہوتے ہیں۔ کئی رشتے سامنے آتے ہیں جنہیں وہ ناپسند کرتی ہے۔ آخرکار ایک ہمسائی کے ذریعے حامد سلطانی کا رشتہ آتا ہے جو بظاہر تعلیم یافتہ اور مہذب نوجوان ہے اور ایک چھاپہ خانے کا مالک ہے۔ معصومہ کی شادی اس سے کردی جاتی ہے۔ شادی کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ حامد دراصل ایک سیاسی کارکن ہے اور خفیہ طور پر کمیونسٹ تحریک سے وابستہ ہے۔
ازدواجی زندگی کے آغاز ہی سے معصومہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حامد سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے اور طویل عرصے تک گھر سے غائب رہتا ہے۔ معصومہ تنہا گھر اور بچوں کی ذمے داری سنبھالتی ہے۔ اس کے دو بیٹے سیامک اور مسعود پیدا ہوتے ہیں جو مزاج کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سیامک جذباتی اور باغی طبیعت کا ہے جبکہ مسعود نرم دل اور ذمے دار ہے۔
جلد حامد کو شاہ کی خفیہ پولیس ساواک گرفتار کرلیتی ہے اور اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس دوران معصومہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اکیلے بچوں کی پرورش کرتی ہے، مالی تنگی برداشت کرتی ہے اور شوہر کی رہائی کے لیے جیلوں کے چکر لگاتی ہے۔ اس سب کے باوجود وہ ہمت نہیں ہارتی اور اپنی تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی زندگی جدوجہد، صبر اور استقامت کی مثال بن جاتی ہے۔
کچھ عرصے بعد حامد رہا ہوکر واپس آتا ہے لیکن اس کی سیاست سے وابستگی کم نہیں ہوتی۔ وہ دوبارہ سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہوجاتا ہے۔ اسی دوران ان کے ہاں ایک بیٹی شیریں پیدا ہوتی ہے۔ ملک میں سیاسی حالات تیزی سے بدل رہے ہوتے ہیں اور بالآخر اسلامی انقلاب برپا ہوجاتا ہے۔ معصومہ ابتدا میں انقلاب کی حمایت کرتی ہے لیکن حامد نئی حکومت سے اختلاف کرتا ہے اور مزاحمت کی راہ اختیار کرتا ہے۔
انقلاب کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ حکومت مخالف عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ حامد کو دوبارہ گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اس بار اسے پھانسی دے دی جاتی ہے۔ یہ واقعہ معصومہ کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ ثابت ہوتا ہے۔ وہ بیوہ ہوجاتی ہے اور تین بچوں کی مکمل ذمے داری اس کے کندھوں پر آجاتی ہے۔
اس کے بعد کے سال معصومہ کی مسلسل جدوجہد میں گزرتے ہیں۔ وہ ملازمت کرتی ہے، بچوں کی تعلیم کا بندوبست کرتی ہے اور اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ سیاسی حالات بار بار اس کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس کے بچے بڑے ہوکر اپنی اپنی راہیں اختیار کرتے ہیں۔ مسعود تعلیم حاصل کر کے پیشہ ور زندگی اختیار کرتا ہے اور شادی کرلیتا ہے۔ سیامک سیاسی سرگرمیوں کے باعث ملک چھوڑ کر جرمنی چلا جاتا ہے۔ شیریں تعلیم مکمل کرکے بیرون ملک چلی جاتی ہے۔
زندگی کے آخری حصے میں معصومہ تنہائی اور بڑھاپے کے احساس سے دوچار ہوتی ہے۔ اسی دوران اس کی پرانی سہیلی پروانہ دوبارہ اس کی زندگی میں واپس آتی ہے۔ پروانہ اسے بتاتی ہے کہ اس نے سعید کو تلاش کرلیا ہے۔ وہی شخص جس سے معصومہ نے اپنی جوانی میں خاموش محبت کی تھی۔ سعید اب بیرون ملک سے واپس آتا ہے اور اکیلا زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔
معصومہ اور سعید کی ملاقات ہوتی ہے۔ کئی دہائیوں بعد بھی ان کے جذبات مدھم نہیں ہوتے۔ دونوں ایک دوسرے کے سامنے آ کر ماضی کی یادوں اور جذبات کو دوبارہ محسوس کرتے ہیں۔ اس ملاقات سے معصومہ کی زندگی میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے اندر ایک نئی تازگی محسوس کرتی ہے۔
کہانی اس مقام پر پہنچ کر ایک امید افزا نوٹ پر ختم ہوتی ہے۔ معصومہ نے اپنی پوری زندگی میں بے شمار مشکلات، صدمات اور تبدیلیاں دیکھی ہوتی ہیں لیکن وہ ہر مرحلے پر ثابت قدم رہتی ہے۔ آخرکار اسے احساس ہوتا ہے کہ وقت گزر جانے کے باوجود محبت اور امید باقی رہتی ہے اور انسان کی زندگی میں ایک نیا آغاز ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں: