پاتال کے قیدی

جیلر رات کے وقت قیدیوں کو آزادی کا موقع دے کر جنگل میں بھاگنے دیتا ہے اور پھر بندوق سے ان کا شکار کرتا ہے

پاتال کے قیدی

ناول On Earth as It Is Beneath کی کہانی ایک ویران اور پراسرار قید خانے کی ہے، جہاں قیدی اور دو افسر، میلقیادس اور تبوردا ایک ایسی جگہ میں پھنسے ہوئے ہیں جو دنیا سے کٹ چکی ہے۔

کہانی کا آغاز اس ماحول میں ہوتا ہے جہاں خوراک کم ہورہی ہے، پانی ختم ہونے کو ہے اور باہر سے رابطہ ٹوٹ چکا ہے۔ قیدی ایک سرکاری افسر کے انتظار میں ہیں جو انھیں یہاں سے منتقل کرے گا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود وہ نہیں آیا۔ اس غیر یقینی صورتحال میں خوف اور بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔

مرکزی کرداروں میں والڈینیو ایک بوڑھا اور تھکا ہوا قیدی ہے جو باورچی کا کام کرتا ہے۔ برونکو گل ایک طاقتور مگر خاموش قاتل ہے۔ پابلو ایک نوجوان قیدی ہے جو فرار کے خواب دیکھتا ہے۔ کالونی کا انچارج میلقیادس ایک ظالم اور ذہنی طور پر بگڑا ہوا افسر ہے جو قیدیوں کو سزا دینے کے لیے غیر انسانی طریقے اختیار کرتا ہے۔

کہانی آگے بڑھتی ہے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ کالونی دراصل ایک جیل نہیں بلکہ موت کا میدان ہے۔ یہاں قیدیوں کو آہستہ آہستہ ختم کیا جاتا ہے۔ میلقیادس ایک بیمار ذہنیت کے تحت قیدیوں کو شکار بناتا ہے۔ وہ انھیں رات کے وقت آزادی کا موقع دے کر جنگل میں بھاگنے دیتا ہے اور پھر بندوق سے ان کا شکار کرتا ہے۔

برونکو گل کا ماضی بھی کہانی میں شامل ہے۔ وہ ایک کرائے کا قاتل تھا جس نے پیسے کے لیے قتل کیے۔ اس کا پہلا قتل اسے بدل دیتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ ایک ایسے شخص میں ڈھل جاتا ہے جو زندگی اور موت کے درمیان بے حس ہوچکا ہے۔

کالونی کی تاریخ بھی تاریک ہے۔ یہ جگہ پہلے غلاموں کی اذیت گاہ تھی۔ پھر ویران رہی۔ آخرکار ایک جیل میں تبدیل کردی گئی جہاں سے کوئی کبھی واپس نہیں گیا۔ وقت کے ساتھ یہ جگہ ظلم، قتل اور خاموشی کی علامت بن گئی۔

قیدیوں کو جلد احساس ہوجاتا ہے کہ وہ یہاں سزا پوری کرنے کے لیے نہیں بلکہ مرنے کے لیے لائے گئے ہیں۔ باہر کی دنیا نے انھیں بھلا دیا ہے۔ والڈینیو جیسے قیدی اس حقیقت کو قبول کر چکے ہیں لیکن پابلو اور برونکو اب بھی کسی موقع کی تلاش میں ہیں۔

کہانی میں ایک اہم موڑ اس وقت آتا ہے جب کچھ قیدیوں کو آزادی دے کر چھوڑا جاتا ہے اور میلقیادس انھیں شکار کرتا ہے۔ یہ عمل بار بار ہوتا ہے۔ باقی قیدی خوف میں زندہ رہتے ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ اگلی باری ان کی بھی ہوسکتی ہے۔

آہستہ آہستہ حالات مزید خراب ہوتے جاتے ہیں۔ خوراک کم ہوجاتی ہے۔ قیدخانہ ایک بند جہنم میں بدل جاتا ہے۔ تبوردا ایک محافظ ہے اور اندرونی طور پر اس ظلم سے پریشان ہے مگر حکم ماننے پر مجبور ہے۔

آخرکار قیدیوں کو احساس ہوجاتا ہے کہ بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ قیدخانے کی دیواریں، برقی نظام اور اردگرد کا سنسان علاقہ فرار کو ناممکن بنادیتے ہیں۔ برونکو گل جیسے مضبوط آدمی کے لیے بھی اس جگہ سے نکلنا تقریباً ناممکن ہے۔

کہانی کے آخری حصوں میں خوف اور تنہائی اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ قتل، لاشوں کو دفنانا اور روزمرہ کی بقا معمول بن جاتی ہے۔ قیدی ایک ایک کر کے ختم ہوتے جاتے ہیں۔

ناول کا اختتام ایک واضح انجام کے بجائے ایک خوفناک احساس کے ساتھ ہوتا ہے کہ یہ جگہ انسانوں کو ختم کرنے کے لیے بنی ہے اور یہاں موجود ہر شخص، چاہے وہ قیدی ہو یا محافظ، اسی نظام کا شکار ہے۔ کوئی حقیقی نجات نہیں۔ صرف انتظار، خوف اور موت۔