پراسرار طاقتوں والی جادوگرنی

بیٹیاں بارہ سال کی عمر کو پہنچتی ہیں تو وہ انھیں تہہ خانے میں لے جاکر اس خفیہ علم کی تربیت دیتی ہے

پراسرار طاقتوں والی جادوگرنی

میری این ڈیائے کا شمار صرف فرانس نہیں بلکہ یورپ کی نمایاں اور انتہائی معتبر ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ انھوں نے پہلا ناول اس وقت لکھا جب ان کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ تب سے اب تک وہ کئی ناول، ڈرامے اور اسکرین پلے لکھ چکی ہیں اور متعدد ادبی انعامات کی حق دار قرار پائی ہیں۔ ان کا ناول لا سورسیئر 1996 میں چھپا لیکن دا وچ یا جادوگرنی کے عنوان سے اس کا انگریزی ترجمہ چند دن پہلے شائع ہوا ہے۔ لیکن اس سے پہلے ہی اسے بکر انٹرنیشنل انعام کے لیے نامزد کردیا گیا تھا۔

یہ ناول ایک خاتون لوسی کی آپ بیتی ہے جو خود کو ایک خاص موروثی طاقت کی حامل سمجھتی ہے۔ وہ اپنی بیٹیوں، ماود اور لیز کو اس جادوئی طاقت سے روشناس کراتی ہے۔ جب اس کی بیٹیاں بارہ سال کی عمر کو پہنچتی ہیں تو وہ انھیں تہہ خانے میں لے جا کر اس خفیہ علم کی تربیت دیتی ہے۔ یہ طاقت دراصل ایک طرح کی بصیرت ہے جس کے ذریعے ماضی اور مستقبل کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ لیکن یہ عمل تکلیف دہ بھی ہے اور اس میں خون کے آنسو بہانا شامل ہے۔ بیٹیاں ابتدا میں اس تربیت کو سنجیدگی سے لیتی ہیں لیکن جلد ہی ان میں اس کے لیے دلچسپی کم ہوجاتی ہے۔

لوسی کو احساس ہوتا ہے کہ اس کی اپنی طاقت بہت محدود ہے۔ وہ صرف غیر اہم تفصیلات دیکھ پاتی ہے۔ جیسے کسی کے کپڑوں کا رنگ یا ماحول کی معمولی باتیں۔ اس کے برعکس اس کی اپنی ماں کے پاس یہ طاقت زیادہ تھی لیکن اس نے اسے ہمیشہ ناپسند کیا اور استعمال سے گریز کیا۔ اس طرح یہ طاقت نسل در نسل منتقل تو ہوتی رہی لیکن ہر نسل میں اس کے ساتھ ایک طرح کی بے دلی بھی موجود رہی۔

ماود اور لیز جڑواں بہنیں ہیں۔ وہ اس روایت کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اسے ایک بوجھ سمجھتی ہیں۔ وہ عملی اور خودمختار مزاج رکھتی ہیں اور مستقبل میں اس طاقت کو آگے منتقل کرنے کے بارے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتیں۔ لوسی کو خوف لاحق رہتا ہے کہ شاید اس کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔

لوسی کا شوہر پیئرو بیوی کی ان طاقتوں کو ناپسند کرتا ہے اور ان سے ایک طرح کی نفرت محسوس کرتا ہے، اگرچہ وہ اسے کھل کر ظاہر نہیں کرتا۔ گھر کا ماحول ایک غیر محسوس کشیدگی سے بھرا رہتا ہے، جہاں لوسی اپنی ذمے داریوں اور شناخت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

کہانی میں ایک اہم کردار پڑوسن ازابیل ہے جو ایک خودغرض عورت ہے۔ وہ محض اپنے فائدے کے لیے لوسی کی طاقتوں میں دلچسپی لیتی ہے۔ اس کا بیٹا اسٹیو بھی کہانی میں شامل ہے۔ ازابیل بار بار اس کا مستقبل جاننے کی کوشش کرتی ہے۔ لوسی اپنی محدود بصیرت کے باوجود اسے کچھ مبہم جھلکیاں بتاتی ہے لیکن حقیقت میں وہ خود بھی اپنی طاقت کی کمزوری سے واقف ہے۔

ازابیل کا رویہ سخت اور بے رحم ہے، خاص طور پر اپنے بیٹے کے ساتھ۔ اسٹیو ایک خوفزدہ بچہ دکھائی دیتا ہے جو اپنی ماں کے دباو میں رہتا ہے۔ دوسری جانب ماود اور لیز آزاد اور بے خوف ہیں۔ وہ اپنے والدین کی کمزوریوں سے متاثر ہوئے بغیر اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہیں۔

کہانی کے دوران لوسی بار بار اپنے ماضی، اپنی ماں اور اپنی بیٹیوں کے مستقبل کے بارے میں سوچتی ہے۔ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی طاقت نہ تو اسے مکمل طور پر فائدہ دیتی ہے اور نہ ہی اس کی زندگی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ ایک بوجھ کی طرح ہے جو اسے اپنے خاندان سے جوڑے رکھتی ہے لیکن اسے تنہا بھی کردیتی ہے۔

آخر میں واضح ہوتا ہے کہ یہ طاقت محض ایک روایت ہے، جسے ہر نسل اپنی مرضی سے قبول یا مسترد کرسکتی ہے۔ لوسی کی خواہش کے باوجود بیٹیاں اس سے دور ہوتی نظر آتی ہیں۔ یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا یا ختم ہو جائے گا۔