پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا معاہدہ آج طے پانے کا امکان

دونوں ممالک آبنائے ہرمز کھول دیں گے، جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی، سیزفائر کے دوران نقصانات کے ہرجانے اور ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے

پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا معاہدہ آج طے پانے کا امکان

پاکستان کی کوششوں سے ایران امریکا معاہدہ آج طے پانے کا امکان ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک آبنائے ہرمز کھول دیں گے، جنگ بندی میں 60 دن کی توسیع کی جائے گی، سیزفائر کے دوران نقصانات کے ہرجانے اور ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے تیل کی قیمتیں معمول پر آسکیں گی اور عالمی معیشت پر دباو کم ہوگا۔

اس سے پہلے امریکا اور ایران کی جانب سے سخت بیانات کا تبادلہ جاری تھا اور صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ گزشتہ منگل کو ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے والے تھے۔ لیکن پھر خلیجی ریاستوں کی درخواست اور پاکستان کے رابطوں پر انھوں نے امن کو ایک اور موقع دینے کا فیصلہ کیا۔ اس ماحول میں فیلڈ مارشل عاصم تہران پہنچنے اور دونوں ملکوں کے رہنماوں کے درمیان پل کا کردار ادا کیا۔

صدر ٹرمپ نے ہفتے کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے ہونے کے قریب ہے اور وہ جلد اس کا اعلان کریں گے۔ امریکی نیوز سائٹ ایگزیوس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت امریکا اور ایران ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے، جو ابتدائی طور پر ساٹھ دن کے لیے مؤثر ہوگی۔ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے گا، بارودی رکاوٹیں ہٹائے گا اور جہازرانی بحال کردے گا۔ اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں کی ناکا بندی ختم کردے گا اور بعض پابندیوں میں نرمی کرے گا تاکہ ایران دوبارہ اپنا تیل فروخت کرسکے۔ امریکی صدر کے مشیر سمجھتے ہیں کہ اگر معاہدہ کامیاب ہوجائے تو صدر ٹرمپ ایران کو عالمی معیشت میں دوبارہ جگہ دینے پر تیار ہیں۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق اس معاہدے میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے بارے میں مذاکرات بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ مطالبہ کررہے ہیں کہ ایران نہ صرف اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو بلکہ جوہری مراکز بھی ختم کرے۔ ایران کے لیے یہ مطالبات انتہائی حساس ہیں کیونکہ وہ مسلسل یہ مؤقف دوہرا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتا لیکن یورینیم افزودگی اس کا قانونی حق ہے۔ خلیجی ریاستیں، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات، اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کیے تو ایران ان ممالک کو نشانہ بناسکتا ہے اور عالمی توانائی بحران بدترین ہوسکتا ہے۔

اگرچہ معاہدہ جلد ہونے کا امکان ہے لیکن ایرانی قیادت کے سخت بیانات جاری ہیں۔ تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی قیادت نے عاصم منیر سے کہا کہ ایران ایسی طاقت پر اعتماد نہیں کرسکتا جس میں ذرہ برابر ایمانداری نہ ہو۔ ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے تجربات ایران کو انتہائی احتیاط پر مجبور کرتے ہیں۔ ایران کی فوجی قیادت بھی مسلسل خبردار کررہی ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ تہران ٹائمز کے مطابق ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ اس کی افواج نے ٹرگر پر انگلی رکھی ہوئی ہے اور کسی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Financial Times: Donald Trump says deal with Iran to reopen Strait of Hormuz ‘largely negotiated’

Axios: What's inside the Iran deal Trump is close to signing

Tehran Times: No compromise on national rights