نینڈرتھل 59 ہزار سال پہلے دانتوں کا علاج کرتے تھے

روس کے غار سے ملنے والی نینڈرتھل کی داڑھ میں ایسے نشانات ہیں جیسے کسی نوکیلے پتھر کے آلے سے دانت کو کھرچا گیا ہو، ٹوتھ پک کے استعمال کا بھی نشان ہے

نینڈرتھل 59 ہزار سال پہلے دانتوں کا علاج کرتے تھے

دسیوں ہزار سال پہلے کے انسانوں کے بارے میں عام خیال ہے کہ وہ غاروں میں رہتے تھے، پیٹ بھرنے کو جانور شکار کرتے تھے اور ان کی زندگی بہت سادہ تھی۔ لیکن نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ نینڈرتھل 59 ہزار سال پہلے غالبا دانتوں کا علاج کرنا جانتے تھے۔ یہ رپورٹ تحقیقی جریدے پلوس ون میں شائع ہوئی ہے۔ یہ دریافت اس لیے اہم سمجھی جارہی ہے کہ اس سے پہلے دانتوں کے علاج کے سب سے پرانے شواہد جدید انسانوں یعنی ہومو سیپینز سے وابستہ تھے۔

اس تحقیق کی بنیاد روس کے چاگیرسکایا غار سے ملنے والی ایک نینڈرتھل کی داڑھ ہے جس میں ایک گہرا سوراخ موجود ہے۔ سائنس دانوں نے مائیکروسکوپ، سی ٹی اسکین اور مختلف تجربات کی مدد سے اس کا جائزہ لیا۔ انھیں دانت کے اندر ایسے نشانات ملے جو عام ٹوٹ پھوٹ یا قدرتی خرابی سے مختلف تھے۔ محققین کے مطابق یہ نشانات ایسے لگتے ہیں جیسے کسی نوکیلے پتھر کے آلے سے دانت کو گھمایا یا کھرچا گیا ہو تاکہ اندر موجود سڑا ہوا حصہ نکالا جاسکے۔

سائنٹیفک امریکن کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بارے میں تحقیق کرنے والی لیڈیا زوٹکینا اور ان کی ٹیم نے اس نظریے کو جانچنے کے لیے جدید انسانی دانتوں پر تجربات کیے۔ انھوں نے ایک پتھر کے نوکیلے ٹکڑوں سے دانتوں میں سوراخ کرنے کی کوشش کی، کیونکہ اسی قسم کے اوزار غار میں ملے تھے۔ تجربے کے دوران بننے والے نشانات حیرت انگیز طور پر قدیم نینڈرتھل دانت سے ملتے جلتے تھے۔

تحقیق کے مطابق نینڈرتھل کے دانت میں صرف ایک نہیں بلکہ تین آپس میں جڑے ہوئے گہرے سوراخ تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی اتفاق یا حادثہ نہیں بلکہ سوچے سمجھے عمل کا حصہ تھا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کے لیے انگلیوں کا درست استعمال، صبر اور مقصد کا شعور ضروری تھا۔

اب تک نینڈرتھل انسانوں کو نسبتاً کم ذہین سمجھا جاتا تھا، لیکن نئے شواہد سے پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے بیمار ساتھیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے، دواؤں کے طور پر پودوں کا استعمال جانتے تھے اور شاید درد کم کرنے کے لیے ابتدائی طبی طریقے بھی اپناتے تھے۔

سائنٹیفک امریکن نے ایک فرانسیسی ڈینٹسٹ لیون پاریانتے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ اگر واقعی نینڈرتھل نے دانت میں سوراخ کیا تھا تو یہ بہت غیرمعمولی بات ہے۔ شدید درد والے دانت میں سوراخ کرکے اندر کا دباؤ کم کرنا ایک پیچیدہ خیال ہے، اور جدید سائنسی لٹریچر میں بھی اس قسم کے علاج کا ذکر بہت بعد میں ملتا ہے۔

البتہ تمام ماہرین اس نتیجے سے متفق نہیں۔ بعض سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ سوراخ کسی چوٹ یا پتھر چبانے کی وجہ سے بھی بن سکتا تھا۔ بعد میں دانت خراب ہوتا گیا اور اس میں گہرا خلا پیدا ہوگیا۔  کچھ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے، نینڈرتھل دانتوں میں پھنسے ہوئے کھانے کو نکالنے کے لیے کسی قسم کی ٹو تھ پک استعمال کرتے ہوں، اور یہی نشانات بعد میں غلط فہمی کا سبب بنے ہوں۔ تحقیق میں دانت کے کناروں پر واقعی ایسے نشان بھی ملے جو بار بار ٹوتھ پک استعمال کرنے سے بنتے ہیں۔ یعنی نینڈرتھل اپنے دانت صاف کرنے یا درد کم کرنے کے لیے مختلف طریقے آزماتے تھے۔

ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ دانت کے اندر موجود کچھ حصے بعد میں گھس گئے تھے۔ یعنی سوراخ بننے کے بعد بھی یہ دانت استعمال ہوتا رہا۔ اگر یہ واقعی ایک قسم کی سرجری تھی تو اس کا مطلب ہے کہ علاج کامیاب رہا اور مریض کچھ عرصہ مزید زندہ رہا۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

Scientific American: Were the first dentists Neanderthals?

PLOS One: Earliest evidence for invasive mitigation of dental caries by Neanderthals