نسل در نسل ایران کی کہانی
شیدا نازیار کا ناول شب ہائے آرام تہران چار مختلف ادوار اور چار کرداروں کی آوازوں میں بیان کیا گیا ہے، ہر باب ایران کی تاریخ کے ایک اہم مرحلے اور ایک خاندان کی بدلتی ہوئی زندگی کو دکھاتا ہے
شیدا نازیار کا ناول شب ہائے آرام تہران کا انگریزی ترجمہ دا نائٹس آر کوائٹ ان تہران کے نام سے ہوکر بکر انٹرنیشنل کے لیے نامزد ہوچکا ہے۔ یہ چار مختلف ادوار اور چار مرکزی کرداروں کی آوازوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ہر باب ایران کی تاریخ کے ایک اہم مرحلے اور ایک خاندان کی بدلتی ہوئی زندگی کو دکھاتا ہے۔
پہلا باب بہزاد کے نقطۂ نظر سے ہے۔ وہ 1979 کے انقلاب ایران کے زمانے کا نوجوان سوشلسٹ کارکن ہے۔ اس کے دوست شاہ کے خلاف تحریک میں حصہ لیتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ انقلاب کے بعد مساوات پر مبنی سوشلسٹ معاشرہ قائم ہوگا۔ بہزاد جلسوں، خفیہ میٹنگز، پمفلٹ تقسیم کرنے اور احتجاجی سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے۔ ابتدا میں بائیں بازو کے کارکن اور مذہبی انقلابی ایک مقصد کے لیے اکٹھے نظر آتے ہیں، لیکن جلد ہی بہزاد محسوس کرتا ہے کہ اصل طاقت آیت اللہ خمینی اور مذہبی قیادت کے ہاتھ میں جارہی ہے۔ اس کے ساتھی گرفتار ہونے لگتے ہیں، تنظیموں پر پابندیاں لگتی ہیں اور خوف دوبارہ معاشرے پر چھانے لگتا ہے۔ بہزاد کے خواب ٹوٹنے لگتے ہیں۔ وہ دیکھتا ہے کہ جس انقلاب کو وہ آزادی کی شروعات سمجھتا تھا، وہ ایک نئی آمریت میں تبدیل ہورہا ہے۔ اسی دوران اس کی ملاقات ناہید سے ہوتی ہے، جس سے بعد میں اس کی شادی ہوجاتی ہے۔
دوسرا باب ناہید بیان کرتی ہے۔ یہ حصہ 1989 کے زمانے میں شروع ہوتا ہے، جب وہ اور بہزاد ایران چھوڑ کر جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے ہیں۔ ناہید اپنے ماضی، ایران میں چھوٹ جانے والی زندگی اور نئی سرزمین میں اجنبیت کے احساس کو یاد کرتی ہے۔ جرمنی میں ان کی زندگی محفوظ تو ہے، لیکن اندر سے دونوں ٹوٹے ہوئے ہیں۔ بہزاد اب پہلے جیسا پُرجوش انقلابی نہیں رہا۔ وہ خاموش، تھکا ہوا اور ماضی میں کھویا رہتا ہے۔ ناہید گھر، بچوں اور روزمرہ زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ جلاوطنی صرف وطن سے دوری نہیں بلکہ شناخت کی شکست بھی ہے۔ جرمنی میں ایرانی مہاجرین کی نئی دنیا بنی ہوئی ہے، جہاں ہر شخص اپنے کھوئے ہوئے خوابوں اور پرانے زخموں کے ساتھ زندہ ہے۔ ناہید اپنی شادی، اپنی قربانیوں اور اس سوال کے بارے میں سوچتی رہتی ہے کہ کیا انقلاب واقعی کسی بہتر مستقبل کی طرف لے گیا تھا۔
تیسرا باب ان کی بیٹی لالہ کی آواز میں ہے۔ وہ جرمنی میں پلی بڑھی ہے اور خود کو مکمل طور پر ایرانی نہیں سمجھتی اور مکمل جرمن بھی نہیں۔ 1999 میں وہ پہلی بار ایران کا سفر کرتی ہے تاکہ اپنے والدین کے ماضی اور اپنی جڑوں کو سمجھ سکے۔ تہران پہنچ کر وہ ایک ایسے ملک کو دیکھتی ہے جو اس کے تصور سے مختلف ہے۔ نوجوان نسل موسیقی سنتی ہے، خفیہ پارٹیاں کرتی ہے، سیاست پر بات کرتی ہے اور مذہبی پابندیوں کے باوجود اپنی زندگی جینے کی کوشش کرتی ہے۔ لالہ کو محسوس ہوتا ہے کہ ایران صرف خوف اور انقلاب کی کہانی نہیں بلکہ ایک زندہ، پیچیدہ اور بدلتا ہوا معاشرہ بھی ہے۔ وہ اپنے والد کے ماضی کو نئے انداز میں سمجھنے لگتی ہے، لیکن ساتھ ہی اسے احساس ہوتا ہے کہ جلاوطنی نے اس کے خاندان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ جرمنی میں اس کی زندگی ایک طرح کی تھی اور ایران میں لوگ اسے ایک غیرملکی کی طرح دیکھتے ہیں۔
چوتھا باب بہزاد اور ناہید کا بیٹا اور لالہ کا بھائی مو بیان کرتا ہے۔ وہ جرمنی میں پلا بڑھا ہے اور 2009 کی گرین موومنٹ کے دوران ایران کے حالات کو دور بیٹھ کر دیکھتا ہے۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ پر احتجاجی مظاہرے، نوجوانوں کی گرفتاریاں اور حکومت کے خلاف نعرے اسے شدید جذباتی طور پر متاثر کرتے ہیں۔ اگرچہ وہ ایران میں نہیں رہتا، پھر بھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی شناخت اور اس کی تاریخ اس ملک سے جڑی ہے۔ مو اپنے والد کے ماضی کو نئے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ جس جدوجہد کو وہ صرف پرانی کہانیاں سمجھتا تھا، وہ اب نئی نسل دوبارہ لڑ رہی ہے۔ گرین موومنٹ کے مظاہرین میں اسے اپنے والد کی جوانی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ مو کے لیے یہ احساس اہم ہے کہ انقلاب ختم نہیں ہوا، بلکہ ہر نسل اسے اپنے طریقے سے دوبارہ جینے پر مجبور ہوتی ہے۔
ناول کے آخری صفحات ایک اور کردار کی آواز میں بیان ہوتے ہیں، جہاں پورے خاندان کی کہانی ایک وسیع تاریخی دائرے میں سمٹ آتی ہے۔ ماضی، جلاوطنی، محبت، ناکامی اور امید سب ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ آخر میں ناول یہ دکھاتا ہے کہ انقلاب صرف سیاسی واقعہ نہیں ہوتا بلکہ نسلوں کی زندگی بدل دیتا ہے۔ بہزاد اور اس کے ساتھی جس آزادی کا خواب دیکھتے تھے، وہ مکمل طور پر پورا نہیں ہوسکا، لیکن اس خواب کی بازگشت ان کے بچوں تک منتقل ہوگئی۔ یہ احساس ناول کو ایک اداس اختتامیہ دیتا ہے۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں: