امیروں کا ورلڈکپ؟ مہنگے ٹکٹوں پر فیفا کے خلاف تحقیقات

ٹکٹوں کی قیمتیں مصنوعی طریقے سے بڑھانے کا الزام، نیوجرسی اسٹیڈیم تک پہنچنے کے لیے بھی شائقین کو 100 ڈالر خرچ کرنا پڑیں گے، بلند فضائی کرایوں کی وجہ سے غیرملکی شائقین میں کمی کا امکان

امیروں کا ورلڈکپ؟ مہنگے ٹکٹوں پر فیفا کے خلاف تحقیقات

فٹبال ورلڈکپ شروع ہونے میں صرف دو ہفتے باقی ہیں لیکن اس سے پہلے ہی فیفا کو مالی اسکینڈل کا سامنا ہے۔ نیویارک اور نیوجرسی کے اٹارنی جنرلز نے اس الزام پر تحقیقات شروع کردی ہیں کہ فیفا نے ٹکٹوں کی قیمتیں مصنوعی طریقے سے بڑھائیں، شائقین کو نشستوں کے بارے میں غلط معلومات دیں، اور مصنوعی قلت پیدا کرکے لوگوں کو مہنگے ٹکٹ خریدنے پر مجبور کیا۔

یہ تحقیقات خاص طور پر نیوجرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم سے متعلق ہیں، جہاں ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق بہت سے شائقین نے کیٹگری ون ٹکٹ خریدے لیکن بعد میں انھیں نسبتاً خراب نشستیں ملیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فیفا نے اسٹیڈیم کی سیٹنگ تبدیل کی، جس کے باعث ابتدائی خریدار نقصان میں چلے گئے۔

اس پورے تنازعے کی جڑ ڈائنامک پرائسنگ کا نظام ہے، جسے فیفا نے پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے۔ اس نظام میں ٹکٹوں کی قیمتیں طلب کے مطابق اوپر نیچے ہوتی رہتی ہیں، جیسے ایئرلائنز یا ہوٹل بکنگ میں ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بعض گروپ میچوں کے ٹکٹ دو ہزار ڈالر سے بھی زیادہ ہوگئے۔ فائنل کے بعض ٹکٹوں کی قیمتیں دس ہزار سے تیس ہزار ڈالر تک پہنچ گئیں۔

فیفا پر الزام یہ بھی لگایا جارہا ہے کہ اس نے شائقین میں خوف پیدا کیا کہ اگر انھوں نے فوراً ٹکٹ نہ خریدے تو وہ بعد میں دستیاب نہیں ہوں گے۔ امریکی میڈیا میں اسے ورلڈکپ آف پرائس شاک اور ورلڈکپ آف گریڈ جیسے نام دیے جارہے ہیں یعنی منتظمین کو لالچی اور منافع خور کہا جارہا ہے۔ بہت سے شائقین کا کہنا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا ایونٹ اب عام لوگوں کے بجائے امیر طبقے، کارپوریٹ مہمانوں اور وی آئی پی پیکجز کے لیے مخصوص ہوتا جارہا ہے۔

لیکن تنازعہ صرف اسٹیڈیم کے اندر تک محدود نہیں۔ امریکا میں ورلڈکپ میچ کے لیے اسٹیڈیم پہنچنا بھی مہنگا تجربہ بن رہا ہے۔ سب سے زیادہ غصہ نیویارک اور نیوجرسی کی ٹرانسپورٹ پالیسی پر سامنے آیا۔ میٹ لائف اسٹیڈیم تک جانے والی ٹرین کا عام دنوں میں راؤنڈ ٹرپ کرایہ تقریباً 12 ڈالر 90 سینٹ کا ہوتا ہے۔ لیکن ورلڈکپ کے دوران یہی کرایہ 150 ڈالر مقرر کیا گیا۔ شدید عوامی ردعمل کے بعد اسے کم کرکے 98 سے 105 ڈالر تک لایا گیا، لیکن یہ اب بھی عام کرائے سے کئی گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح خصوصی شٹل بسوں کے کرائے بھی 80 سے 95 ڈالر تک رکھے گئے۔ بعض پارکنگ مقامات کے نرخ 300 ڈالر تک جاپہنچے۔ بہت سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر طنز کیا کہ میچ دیکھنے سے پہلے آدھا بجٹ سفر میں ختم ہوجائے گا۔

ماضی میں کئی ورلڈکپس میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔ روس میں 2018 ورلڈکپ میں میزبان شہروں کے درمیان ٹرینیں مفت چلائی گئی تھیں۔ قطر میں 2022 ورلڈکپ میں میٹرو سروس تقریباً مفت رکھی گئی تاکہ شائقین آسانی سے مختلف اسٹیڈیموں تک جاسکیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اضافی کرائے مجبوری ہیں۔ ان کے مطابق فیفا نے مقامی ٹرانسپورٹ اخراجات میں خاطر خواہ حصہ نہیں ڈالا، جبکہ سیکیورٹی، کراوڈ کنٹرول اور خصوصی سروسز پر کروڑوں ڈالر خرچ ہورہے ہیں۔ نیوجرسی کے حکام کے مطابق صرف ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی پر تقریباً 48 ملین ڈالر خرچ ہورہے ہیں، اس لیے اضافی آمدنی کے بغیر یہ نظام چلانا ممکن نہیں تھا۔

ناقدین سوال اٹھارہے ہیں کہ عام شائقین پر یہ بوجھ کیوں ڈال دیا گیا۔ فیفا اس ورلڈکپ سے تقریباً 13 ارب ڈالر کمائے گا اور صرف ٹکٹنگ اور میزبانی سے تین ارب ڈالر کی آمدنی متوقع ہے، تو پھر شائقین سے اتنی بھاری رقم کیوں وصول کی جارہی ہے؟

اس تنقید کے بعد نیویارک سٹی نے محدود تعداد میں 50 ڈالر والے خصوصی ٹکٹ جاری کرنے کا اعلان کیا تاکہ کم آمدنی والے لوگ بھی میچ دیکھ سکیں۔ لیکن ناقدین کہتے ہیں کہ یہ محض علامتی اقدام ہے کیونکہ اصل مارکیٹ اب بھی انتہائی مہنگی ہے۔

یہ صورتحال ورلڈکپ کی تیاریوں پر بھی اثرانداز ہورہی ہے۔ ابتدا میں اندازہ تھا کہ دنیا بھر سے بارہ سے پندرہ لاکھ غیرملکی سیاح امریکا آئیں گے اور اس ایونٹ سے امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ ہوگا۔ ہوٹل، ایئرلائنز، ریسٹورنٹس اور ٹورزم کمپنیاں اسے تاریخی معاشی موقع قرار دے رہی تھیں۔

لیکن حالیہ رپورٹس بتارہی ہیں کہ بکنگز توقع سے کم ہیں۔ بعض شہروں میں ہوٹل مالکان نے شکایت کی ہے کہ مہنگے ٹکٹ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات، بلند فضائی کرایوں اور امریکی ویزا و امیگریشن پالیسیوں نے غیرملکی شائقین کو محتاط بنادیا ہے۔

اس سب کے باوجود امریکی حکام پُرامید ہیں کہ جیسے ہی میچ شروع ہوں گے، ماحول بدل جائے گا۔ دنیا بھر سے آنے والے شائقین، لاطینی امریکی موسیقی، افریقی ڈھول، عرب فین کلچر اور امریکی شہروں میں ہونے والے بڑے فین فیسٹولز اس تنقید کو پس منظر میں دھکیل دیں گے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

AP: New York and New Jersey are investigating FIFA’s ticket practices as World Cup prices soar

New York Post: NJ Transit lowers World Cup train ticket prices and it’s still an 800% markup

Forbes: What Fans Are Paying To Attend The 2026 World Cup