میں اب برطانیہ میں نہیں رہنا چاہتی
مجھے امیگریشن پالیسی پر شدید تشویش ہے، نرسریوں کی فیسیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، گزشتہ سال میرے مارگیج کی قسط دگنی ہوگئی، سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کررہے ہیں
اینابیل فینوک ایلیٹ
مجھے یہ کہتے ہوئے خاصی اداسی ہوتی ہے کہ برطانیہ وہ ملک نہیں رہا جہاں ہم نے مستقل رہنے کا فیصلہ کیا۔ مجھے اپنے ملک کی بہت سی چیزیں پسند ہیں۔ یہاں کا مزاح۔ پب۔ تاریخ۔ لوگ۔ کم از کم کچھ لوگ۔
لیکن قوم کا مزاج اب پہلے جیسا نہیں رہا۔ ہم مجموعی طور پر زیادہ خوف زدہ اور کمزور ہوگئے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ ہم نے برطانیہ چھوڑنے کے متبادل کی تلاش اُس وقت شروع کی جب کووڈ کے دوران ملک کا ردِعمل حد سے زیادہ جذباتی اور خوف زدہ تھا۔ یہ اس پرانے نعرے "پرسکون رہو اور آگے بڑھو" کے بالکل برعکس تھا، جس پر ہم مشکل وقت میں بھروسا کیا کرتے تھے۔ وبا کے بعد سے حالات مزید خراب ہوئے ہیں۔
تو پھر امریکا کیوں؟بحرِ اوقیانوس کے اُس پار موجود اس عظیم ملک پر میری نظر ہمیشہ سے رہی ہے۔ جیسے صدیوں پہلے ہمارے بہت سے ہم وطن جہازوں میں بھر کر وہاں گئے تھے، ویسے ہی مجھے بھی واقعی یقین ہے کہ وہاں بہتر زندگی کے لیے زرخیز زمین موجود ہے۔ میں اپنی نوجوانی میں وہاں رہ چکی ہوں، اس لیے کچھ اعتماد کے ساتھ یہ بات کہہ سکتی ہوں۔
امریکا بڑا، جرات مند اور بلاشبہ خوبصورت ملک ہے۔ جیسا کہ میں نے یوٹاہ میں دیکھا، جہاں کے لوگ میری زندگی کے سب سے خوش مزاج لوگوں میں شامل ہیں۔ نیش وِل، جو بے حد پرلطف ہے۔ لاس اینجلس، جسے ناپسند کرنا تقریباً ناممکن ہے، بشرطیکہ آپ اسے بہت سنجیدگی سے نہ لیں۔ اور ٹیکساس، جو دیہی کشش اور بڑھتی ہوئی جدید توانائی سے بھرپور ہے۔ وہاں مواقع کی کوئی حد نہیں، اگر آپ محنت کرنے کو تیار ہوں۔ وہاں ایک حد تک غیر حقیقی لگنے والی امید پسندی پائی جاتی ہے، جو کامیابی کو جنم دیتی ہے۔
جی ہاں، اب بھی۔ جی ہاں، ٹرمپ کے دور میں بھی۔یقیناً ہمارے اکثر واقف سمجھتے ہیں کہ ہم اس مخصوص دور میں امریکا جانے کا فیصلہ کرکے پاگل پن کررہے ہیں، لیکن میں ان کی باتوں سے متاثر ہونے والی نہیں۔ جن تمام جگہوں پر میں رہی ہوں، ان میں امریکا میری زیادہ تر ضروریات پوری کرتا ہے۔
سیاسی طور پر میرا جھکاؤ دائیں جانب ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ٹرمپ کی ہر بات غلط ہے۔ میں کیئر اسٹارمر کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتی، کیونکہ ان کی تقریباً ہر پالیسی محنت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور نہ کرنے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔
مجھے برطانیہ کی موجودہ امیگریشن پالیسی کے اثرات پر شدید تشویش ہے۔ میری ایک دوست مغربی لندن میں رہتی ہے اور اس کے علاقے کے سرکاری اسکول میں 80 فیصد سے زیادہ طلبہ مسلمان ہیں۔ میں ملحد ہوں اور اسلامی عقیدے کے بعض پہلوؤں کے بارے میں سنجیدہ خدشات رکھتی ہوں۔ میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ میرے بچے ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کریں۔
ایک اور فوری مسئلہ برطانیہ میں نرسریوں کی آسمان سے باتیں کرتی فیسیں ہیں۔ حیرت انگیز طور پر، اور بڑھتی ہوئی شرحِ سود کے باوجود، اب ملک کے کئی حصوں میں بچوں کو نرسری بھیجنے کی اوسط ماہانہ لاگت، اوسط مارگیج قسط سے بھی زیادہ ہوچکی ہے۔ مائیں اپنے بچوں کی پرورش کے لیے گھر پر نہیں رہ سکتیں، اور نہ ہی بچوں کو نرسری بھیجنے کی استطاعت رکھتی ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک قومی المیہ ہے اور اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔
مارگیج کی بات کریں تو گزشتہ سال میری قسط دگنی ہوگئی، چنانچہ مجھے اپنا لندن والا فلیٹ بڑے نقصان پر فروخت کرنا پڑا۔ مجھے اپنی کرائے دار کو نکالنے میں گیارہ ماہ لگے۔ اس کی ملازمت ختم ہوگئی تھی، اس نے کرایہ دینا بند کردیا تھا اور وہ مکان چھوڑنے یا اسٹیٹ ایجنٹس کو گھر دکھانے کی اجازت دینے سے انکار کررہی تھی۔ مقامی کونسل نے اسے مشورہ دیا کہ وہ وہیں رہے کیونکہ ان کے پاس اسے رکھنے کی جگہ نہیں تھی۔ انھوں نے اسے یہ بھی بتایا کہ برطانوی قانون کرایہ نہ دینے والے کرائے داروں کو نکالنا مکان مالکان کے لیے انتہائی مشکل بناتا ہے، اس لیے اس کے لیے رضاکارانہ طور پر جانا بے وقوفی ہوگی۔
اسٹارمر مزید ایسے قوانین لارہے ہیں جو مکان مالکان کے لیے حالات کو اور خراب کردیں گے۔ اسی لیے لوگ جائیدادیں فروخت کررہے ہیں، پراپرٹی مارکیٹ تباہی کا شکار ہے، اور دیگر پالیسیوں سے بددل ہوکر سرمایہ کار اپنا سرمایہ ملک سے باہر منتقل کررہے ہیں۔ یہ کبھی اچھی علامت نہیں ہوتی۔
میرے لیے ذاتی طور پر ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم اب برطانیہ میں رہنا بھی چاہیں تو میرے جرمن شوہر کے لیے ویزا حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ آپ شاید سمجھیں کہ چونکہ ہزاروں تارکینِ وطن اب بھی ہوٹلوں میں رہ رہے ہیں اور ان کا خرچ برطانوی ٹیکس دہندگان اٹھا رہے ہیں، اس لیے جولیس جیسے شخص کے لیے رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا آسان ہوگا۔ لیکن اگر آپ قانونی راستہ اختیار کریں تو ایسا نہیں ہے۔اس حقیقت کے باوجود کہ اس نے ایک برطانوی شہری سے شادی ک ہے اور اس کے دو بچے انگلینڈ میں پیدا ہوئے ہیں، وہ شریکِ حیات کے ویزے کا اہل نہیں کیونکہ میں، بطور درخواست گزار، مطلوبہ آمدنی نہیں رکھتی۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ، جو ایک پائلٹ ہے، گھر کا اصل کفیل ہے، اور میں بچوں کی پیدائش اور میٹرنٹی چھٹیوں کی وجہ سے کم کام کررہی تھی۔
اسٹارمر حکومت اس بات کو ترجیح دے گی کہ میں یہاں تنہا ماں کے طور پر سرکاری امداد پر زندہ رہوں، بجائے اس کے کہ میرے اعلیٰ تعلیم یافتہ یورپی شوہر کو ہمارے ساتھ رہنے، خاندان کی کفالت کرنے اور برطانیہ میں ٹیکس ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ یہ مضحکہ خیز بات ہے۔ میں نے دو امیگریشن وکلا سے قانونی مشورہ لیا، اور دونوں کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس واحد راستہ یہ ہے کہ ہم ہوم آفس میں "انسانی حقوق" کی درخواست جمع کرائیں۔ لیکن وہ مہنگا راستہ ہے اور اس میں کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں۔
دوسری طرف امریکا غیر قانونی تارکینِ وطن کو نکالنے کے حق میں ہے۔ وہ انھیں ہوٹلوں کے بجائے حراستی مراکز میں رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے جو معیشت میں حصہ ڈال سکتے ہوں۔ ہم وہاں ای ٹو ویزے پر جارہے ہیں، جس کے تحت ہمیں کسی امریکی کاروبار میں کم از کم پچاس ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ لندن والا فلیٹ فروخت ہونے سے جو رقم ملی، اسے ہم دونوں اپنی جمع پونجی کے ساتھ ملا کر نیویارک کے بالائی علاقے میں ایک کاروبار میں لگارہے ہیں۔
میں اس علاقے، یعنی کیٹس کِل ماونٹینز کو کافی اچھی طرح جانتی ہوں۔ ہم میری خالہ کی اٹھارہ ایکڑ زمین پر رہیں گے۔ وہاں سال کے چار واضح موسم ہوتے ہیں۔ پہاڑ، جنگلات، چراگاہیں اور آبشاریں مل کر ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ مقامی لوگ خوش مزاج ہیں، جیسا کہ اکثر امریکی ہوتے ہیں۔
ہم مستقبل میں ایک آر وی خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ پورے ملک کی سیر کرسکیں۔ یہ اتنا متنوع ملک ہے کہ آپ اسکیئنگ، سرفنگ، خزاں کے پتوں کی سیر، اور شہری تعطیلات جیسی ہر قسم کی چھٹیاں بغیر پاسپورٹ نکالے گزار سکتے ہیں۔
اس دوران میں لکھوں گی، اپنے بچوں کے ساتھ جانور پالوں گی اور کاروبار سنبھالوں گی۔ میرے شوہر کی پائلٹ کی تنخواہ یورپ کے مقابلے میں دگنی ہوگی۔ یقیناً ہمیں اس اضافی آمدنی کی ضرورت بھی پڑے گی، کیونکہ امریکا میں ہیلتھ انشورنس مہنگی ہے۔ جی ہاں، میں جانتی ہوں کہ امریکا بالکل مثالی نہیں اور یقیناً اسکولوں میں فائرنگ کے خوف کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ لیکن دنیا میں کوئی جگہ خامیوں سے خالی نہیں۔
انگلینڈ کی بہت سی چیزیں مجھے یاد آئیں گی اور امید ہے کہ میں اکثر یہاں آتی رہوں گی۔ شاید کسی دن واپس بھی آجاؤں۔ لیکن خاص طور پر بچوں کی خاطر یہ ضروری ہوگا کہ ملک کی سمت موجودہ حالت سے کہیں بہتر ہو۔
اینابیل فینوک ایلیٹ کی انگریزی تحریر پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں:
The Telegraph: I’ve given up on living in Britain. Here’s why I think America is the answer