موساد اور سی آئی اے کو مجتبیٰ خامنہ ای کی تلاش

انٹیلی جنس ادارے اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں کہ کیا ایرانی سپریم لیڈر واقعی زندہ ہیں، اگر ہیں تو کہاں موجود ہیں اور کیا حقیقتاً ایران کی قیادت انھیں کے ہاتھ میں ہے

موساد اور سی آئی اے کو مجتبیٰ خامنہ ای کی تلاش

آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران میں صرف اقتدار کا خلا ہی پیدا نہیں ہوا بلکہ ایک ایسا انٹیلی جنس معمہ بھی جنم لے چکا ہے جس کی مثال جدید تاریخ میں کم ملتی ہے۔ جب کسی ملک کا نیا سربراہ اقتدار سنبھالتا ہے تو وہ جلد یا بدیر قوم سے خطاب کرتا ہے، فوجی کمانڈروں سے ملاقات کرتا ہے یا کم از کم اس کی تازہ تصاویر سامنے آتی ہیں۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے معاملے میں کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سی آئی اے، اسرائیل کی موساد اور دوسرے مغربی انٹیلی جنس ادارے اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہیں کہ کیا وہ واقعی زندہ ہیں، اگر ہیں تو کہاں موجود ہیں اور کیا حقیقتاً ایران کی قیادت انھیں کے ہاتھ میں ہے۔

اس انٹیلی جنس مہم کی ابتدا مارچ میں اس وقت ہوئی جب نوروز کے موقع پر توقع تھی کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی روایت کے مطابق ویڈیو پیغام جاری کریں گے۔ امریکی اور اسرائیلی اداروں نے اس دن خاص طور پر نگرانی بڑھا دی تھی کیونکہ ان کے خیال میں یہی وہ موقع تھا جب نئے سپریم لیڈر کا وجود اور صحت کسی نہ کسی شکل میں سامنے آسکتی تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ صرف ایک تحریری پیغام جاری کیا گیا اور چند تصاویر شائع کی گئیں، جن سے اندازہ نہیں کیا جاسکا کہ وہ نئی ہیں یا پرانی۔

نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کے پاس کچھ ایسے شواہد ضرور موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں۔ مثلاً ایرانی حکام کی جانب سے ان سے ملاقاتوں کی کوششیں کی گئیں۔ لیکن ایک سینئر اسرائیلی اہلکار کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ اصل احکامات وہی جاری کر رہے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے اس صورتحال کو "غیر معمولی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت نے کسی مردہ شخص کو سپریم لیڈر منتخب کرنے کا ڈراما شاید نہ کیا ہو، لیکن اس کے باوجود ان کے عملی کردار کا کوئی واضح ثبوت بھی موجود نہیں۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق اس معمے نے موساد اور سی آئی اے کی روایتی انٹیلی جنس حکمت عملی کو بھی بدل دیا ہے۔ علی خامنہ ای پر نظر رکھنے کے لیے سائبر نگرانی، موبائل فون، کمپیوٹر، ٹریفک کیمروں اور الیکٹرانک مواصلات سے فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کے مطابق ان ذرائع نے سابق سپریم لیڈر اور ان کے قریبی فوجی ساتھیوں کی نقل و حرکت کا سراغ دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ نہ فون استعمال کررہے ہیں، نہ کمپیوٹر اور نہ ہی کسی قسم کا ڈیجیٹل رابطہ رکھتے ہیں۔

اب توجہ الیکٹرانک نگرانی کے بجائے ہیومن انٹیلی جنس پر منتقل ہوچکی ہے۔ سابق موساد افسر رامی ایگرا کے مطابق اگر مجتبیٰ خامنہ ای تک پہنچنے کا کوئی راستہ ہے تو وہ انسانوں کے ذریعے ہے۔ ان کے بقول غزہ میں یرغمالیوں کی تلاش نے بھی یہ سبق دیا کہ جدید ترین الیکٹرانک نگرانی ہر مسئلہ حل نہیں کرتی۔ آخری کامیابی انسانی ذرائع ہی سے ملتی ہے۔

دی ٹائمز کے مطابق موساد کو شبہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کئی تہوں پر مشتمل قاصدوں کے ایک ایسے نظام کے ذریعے پیغامات وصول کرتے ہیں جس میں ہر قاصد صرف اگلے فرد تک پیغام پہنچاتا ہے اور اسے اس زنجیر کی تمام کڑیوں کا علم نہیں ہوتا۔ اگر کسی ایک شخص کو گرفتار بھی کرلیا جائے تو پورا نیٹ ورک بے نقاب نہیں ہوتا۔ سابق موساد حکام کا کہنا ہے کہ اگر کبھی مجتبیٰ خامنہ ای تک رسائی حاصل ہوئی تو اس کا سبب کوئی الیکٹرانک آلہ نہیں بلکہ یہی انسانی سلسلہ ہوگا۔

یروشلم پوسٹ نے امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای تک پہنچنے کے لیے "قاصدوں کی بھول بھلیاں" استعمال کی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایرانی حکومت کے بہت سے اعلیٰ عہدیدار بھی ان کے مقام سے بے خبر ہیں اور ان سے براہ راست رابطہ نہیں کرسکتے۔ اسی وجہ سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں بھی تاخیر ہوتی ہے کیونکہ ہر پیغام کئی مرحلوں سے گزر کر ان تک پہنچتا ہے اور جواب واپس آنے میں وقت لگتا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت کا بڑا حصہ بھی زیرزمین مضبوط بنکروں میں رہ رہا ہے تاکہ اسرائیلی یا امریکی حملوں سے محفوظ رہ سکے۔ ایک اہلکار نے طنزاً کہا کہ انھیں آپس میں رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے دیکھنا کسی مزاحیہ ڈرامے سے کم نہیں کیونکہ ہر پیغام میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے۔

دی ٹائمز نے ایک دلچسپ دعویٰ بھی نقل کیا ہے۔ سابق موساد افسر ایونر ابراہام کے مطابق ایرانی نظام ممکنہ طور پر صدام حسین کی طرح "ڈبلز" استعمال کر رہا ہے۔ ان کے خیال میں مختلف مقامات پر ایسے افراد رکھے جاسکتے ہیں جو مجتبیٰ خامنہ ای سے مشابہت رکھتے ہوں تاکہ اگر کسی جگہ نگرانی ہو تو اصل مقام پوشیدہ رہے۔ اگرچہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں، لیکن یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موساد اب روایتی جاسوسی کے ساتھ نفسیاتی اور فریبی حربوں کے امکان پر بھی غور کررہی ہے۔

مغربی انٹیلی جنس اداروں کے سامنے اب صرف یہ سوال نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کہاں ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ایران میں حقیقی اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے۔ ایگزیوس کے مطابق امریکی حکام نے کانگریس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نظام شدید کمانڈ اینڈ کنٹرول بحران سے گزر رہا ہے، جبکہ بعض اسرائیلی ذرائع کا خیال ہے کہ عملی اختیارات بڑی حد تک پاسدارانِ انقلاب کے ہاتھ میں جاچکے ہیں۔ اس صورت میں مجتبیٰ خامنہ ای کی تلاش محض ایک فرد کی تلاش نہیں بلکہ ایران کے طاقت کے اصل مرکز کو سمجھنے کی کوشش بھی ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

The Times: The hunt for Khamenei: how CIA and Mossad are trying to trace Mojtaba

Axios: The Mojtaba mystery_CIA searches for signs of Iran's new leader

Times of Israel: CIA, Mossad said seeking signs of Mojtaba Khamenei, Iran’s unseen leader

Jerusalem Post: Iran's Khamenei hidden behind 'labyrinth' of couriers, US intelligence reveals - report