ماونٹ رشمور، امریکی فن تعمیر کا معجزہ
جنوبی ڈکوٹا میں پہاڑ کی چٹان پر امریکا کے چار صدور کے دیو قامت چہرے تراشے گئے، قومی یادگار کا منصوبہ مکمل ہونے میں 14 سال لگے، ہر سال لاکھوں سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں
امریکی ریاست جنوبی ڈکوٹا میں واقع ماونٹ رشمور نیشنل میموریل کا شمار ان یادگاروں میں ہوتا ہے جنھیں دیکھ کر انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ ایک پہاڑ کی چٹان پر امریکا کے چار صدور کے دیو قامت چہرے تراشے گئے ہیں۔ یہ چہرے اتنے بڑے ہیں کہ ہر ایک کی اونچائی تقریباً ساٹھ فٹ ہے۔ یہ مقام امریکا کی قومی شناخت، سیاسی علامتوں اور سیاحت میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ ہر سال بیس سے تیس لاکھ لوگ اسے دیکھنے آتے ہیں۔
ماونٹ رشمور کی تعمیر محض ایک یادگار کی کہانی نہیں بلکہ امریکی قوم پرستی، سیاست، فن تعمیر، سیاحت اور تاریخ کا امتزاج ہے۔
اس مقام پر یادگار کی تعمیر کا خیال سب سے پہلے جنوبی ڈکوٹا کے مورخ ڈوین رابنسن کو آیا۔ بیسویں صدی کے آغاز پر جنوبی ڈکوٹا امریکا کی نسبتاً کم معروف ریاست تھی۔ وہاں کے رہنما چاہتے تھے کہ کوئی ایسی چیز بنائی جائے جو سیاحوں کو اس دور دراز علاقے تک کھینچ لائے۔ ابتدا میں خیال تھا کہ مقامی ہیروز کی تصاویر پہاڑ پر بنائی جائیں لیکن بعد میں منصوبہ ایک قومی یادگار میں بدل گیا۔
ریاست کے حکام نے مشہور مجسمہ ساز گٹزون بورگلم کو اس منصوبے کے لیے بلایا گیا۔ بورگلم ایک غیرمعمولی فنکار تھے جنھیں دیوہیکل مجسمے بنانے کا شوق تھا۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ اگر واقعی پورے امریکا کی توجہ حاصل کرنی ہے تو مقامی شخصیات کے بجائے امریکی صدور کی شبیہیں بنائی جائیں۔ تب سوال پیدا ہوا کہ کون سے صدور منتخب کیے جائیں۔
آخرکار چار نام طے ہوئے جن میں جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، تھیوڈور روزویلٹ اور ابراہام لنکن شامل ہیں۔ ان چاروں کو امریکی تاریخ کے مختلف مراحل کی علامت سمجھا گیا۔ جارج واشنگٹن امریکا کے قیام اور آزادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تھامس جیفرسن نے آزادی کے نظریات کو مضبوط کیا اور فرانس سے لوزیانا کو خرید کر ملک کا رقبہ بڑھایا۔ تھیوڈور روزویلٹ صنعتی دور، معاشی طاقت اور جدید امریکا کی علامت سمجھے گئے، جبکہ ابراہم لنکن نے خانہ جنگی کے دوران امریکا کو متحد رکھا اور غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا۔
کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ صرف چار صدور ہی کیوں؟ اس کی بڑی وجہ مالی وسائل بھی تھے۔ اصل منصوبہ اس سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ بورگلم چاہتے تھے کہ صدور کے پورے جسم بھی تراشے جائیں، لیکن وقت، پیسے اور تکنیکی مشکلات کی وجہ سے صرف چہروں تک کام محدود کردیا گیا۔ 1927 میں اس منصوبے پر کام شروع ہوا اور تقریباً چودہ برس تک جاری رہا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنے خطرناک کام کے باوجود کوئی مزدور ہلاک نہیں ہوا۔
مانٹ رشمور کو منتخب کرنے کی کئی وجوہ تھیں۔ یہ گرینائٹ کی مضبوط چٹان ہے جو مجسمہ سازی کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔ دوسرے، اس کا رخ سورج کی طرف تھا جس سے روشنی چہروں پر بہتر انداز میں پڑتی تھی۔ تیسری وجہ یہ تھی کہ یہ مقام بلیک ہلز کے خوبصورت علاقے میں ہے، جہاں قدرتی مناظر پہلے ہی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتے تھے۔
لیکن یہ صرف امریکی فخر کی کہانی نہیں۔ مقامی امریکی قبائل، خصوصاً لاکوٹا سیو قوم، اس علاقے کو مقدس سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک بلیک ہلز ان کی تاریخی اور روحانی سرزمین تھی۔ بعد میں جب امریکی حکومت نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور یہاں یہ یادگار تعمیر ہوئی تو بعض مقامی باشندوں نے اسے اپنی تاریخ کے زخم کے طور پر دیکھا۔ اسی لیے ماونٹ رشمور کے ساتھ مقامی قبائل کی تاریخ اور تنازعات کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔
مجسموں کی تعمیر خود ایک انجینئرنگ معجزہ تھی۔ پہاڑ کے بڑے حصے کو پہلے ڈائنامائٹ سے اڑایا گیا۔ اندازہ ہے کہ تقریباً نوّے فیصد چٹان دھماکوں کے ذریعے صاف کی گئی۔ اس کے بعد مزدور رسیوں کے سہارے لٹک کر باریک تراش خراش کرتے رہے۔ اس دور میں نہ جدید کمپیوٹر تھے، نہ لیزر مشینیں، لیکن پھر بھی چہرے حیرت انگیز حد تک درست بنائے گئے۔
یہ منصوبہ 1930 اور 1940 کی دہائیوں میں امریکی قومی فخر کی علامت بنتا گیا۔ لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آنے لگے۔ آج یہ امریکا کے سب سے مشہور سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہر سال بیس لاکھ سے زیادہ سیاح یہاں آتے ہیں۔ گرمیوں میں یہاں خاصی رونق ہوتی ہے۔ لوگ نہ صرف مجسمے دیکھتے ہیں بلکہ میوزیم، تاریخی نمائشیں، رات کی روشنیوں کا شو اور بلیک ہلز کے قدرتی مناظر سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔
امریکی سیاست میں بھی ماونٹ رشمور کی علامتی حیثیت بہت اہم ہے۔ کئی صدور یہاں تقریبات کرچکے ہیں۔ 2020 میں صدر ٹرمپ نے یومِ آزادی پر یہاں بڑی تقریب سے خطاب کیا تھا۔ امریکی میڈیا میں یہ خبریں بھی گردش کرتی رہیں کہ صدر ٹرمپ اپنا چہرہ بھی ماونٹ رشمور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے کچھ حامیوں نے اس خیال کی حمایت کی لیکن ناقدین نے اسے مذاق قرار دیا۔ سرکاری طور پر ایسا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب مزید چہرے شامل کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ پہاڑ پر مناسب جگہ محدود ہے۔ اس کے علاوہ یہ یادگار اب تاریخی حیثیت اختیار کرچکی ہے، اس لیے اس میں بڑی تبدیلی آسان نہیں۔
ماونٹ رشمور ہالی ووڈ کی فلموں، ڈاکومنٹریز اور پاپ کلچر میں بھی بار بار نظر آتا ہے۔ کئی ہالی ووڈ فلموں میں اسے پس منظر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ دنیا بھر کے لوگوں کے ذہن میں امریکا کی جو چند تصویری علامتیں فوراً ابھرتی ہیں، ان میں مجسمۂ آزادی، وائٹ ہاؤس اور ماونٹ رشمور شامل ہیں۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
National Part Service: American History, Alive in Stone...
National Geographic: Mount Rushmore’s heartbreaking, controversial history