مصری خواتین کے زخم دکھانے والا ناول

دراما کوین چھ خواتین کی الگ الگ کہانیوں پر مشتمل ہے جن کی زندگیاں ایک پول ڈانس اسٹوڈیو میں آ کر جڑ جاتی ہیں، جہاں وہ اپنے زخموں کو سامنے لاتی ہیں اور ان سے نجات کی کوشش کرتی ہیں

مصری خواتین کے زخم دکھانے والا ناول

دراما کوین نوجوان مصری ادیبہ نہلہ کرم کا نیا ناول ہے، جو چند ہفتے پہلے ہی شائع ہوا ہے۔ وہ جدید عربی ادب کی ان نمایاں آوازوں میں شمار ہوتی ہیں جو خاص طور پر عورت کی داخلی دنیا کو نہایت گہرائی اور جرات کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ اس سے پہلے ان کی چھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں ناول اور افسانوں کے مجموعے شامل ہیں۔

دراما كوين چھ خواتین، غادہ، شيما، لیلى، ريم، ہالہ اور فريدہ کی الگ الگ کہانیوں پر مشتمل ہے۔ ان کی زندگیاں ایک پول ڈانس اسٹوڈیو میں آ کر جڑ جاتی ہیں۔ یہ اسٹوڈیو محض رقص کی جگہ نہیں بلکہ ایک علامتی مقام ہے جہاں یہ خواتین اپنے زخموں کو سامنے لاتی ہیں، ان کا سامنا کرتی ہیں اور آہستہ آہستہ ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ناول کے ابواب بھی پول پر کی جانے والی مختلف حرکات کے نام پر رکھے گئے ہیں، جو ہر کردار کی زندگی کے ایک مرحلے اور اس کی داخلی کیفیت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ناول کا آغاز غادہ سے ہوتا ہے جو ایک الجھی ہوئی اور اندر سے زخمی شخصیت ہے۔ وہ اپنی تکلیف میں دوسروں سے مماثلت تلاش کرتی ہے، چاہے وہ ایک پرانا زخم ہو یا کوئی عارضی چوٹ۔ اس کی زندگی میں زخم کبھی عارضی نہیں رہے۔ بیماری، غربت اور خاندانی مسائل نے اسے اندر سے توڑ دیا ہے۔ وہ امید کی تلاش میں ہے۔

شيما کا کردار اس سے مختلف لیکن اتنا ہی دردناک ہے۔ وہ خود اعتمادی کی تلاش میں ہے کیونکہ زندگی میں آنے والے تقریباً ہر شخص نے اسے مایوس کیا ہے۔ وہ خود کو نظرانداز محسوس کرتی ہے گویا اس کا وجود کسی کے لیے اہم نہیں۔ اس کا خواب ایک تتلی بننا ہے، ہلکی، آزاد اور خوبصورت لیکن اس کا جسم اور سماجی رویے اسے اس خواب سے دور رکھتے ہیں۔ اس کی کہانی سروائیول کی علامت ہے۔ ایک ایسی بقا کی کہانی جو صرف جسمانی نہیں، بلکہ نفسیاتی بھی ہے۔

لیلى ایک کھوئی ہوئی روح ہے جو زندگی کے معنی تلاش کررہی ہے۔ اس کی زندگی مردوں کے گرد گھومتی رہی لیکن وہ اس دائرے سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ وہ خود کو ایک وکٹم کے کردار سے آزاد کر کے اپنی شناخت بنانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑی خواہش خوشی ہے۔ ایسی خوشی جو دوسروں پر منحصر نہ ہو بلکہ اس کے اپنے اندر سے پیدا ہو۔

ريم کا کردار ابتدا میں مکمل طور پر سرنڈر کی حالت میں نظر آتا ہے۔ اس نے محرومی کے ہر رنگ کو جھیلا ہے۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی خوبصورتی کو بھی دکھ کے ساتھ قبول کیا۔ لیکن اس کی کہانی تبدیلی کی کہانی ہے۔ وہ اپنے حالات کا سامنا کرتی ہے، خود کو بدلتی ہے اور آخرکار ایک نئی آزادی حاصل کرتی ہے۔ اس کے لیے ماضی سے اور خوف سے آزادی زندگی کا اہم موڑ بن جاتی ہے۔

ہالہ ایک حساس اور خواہشات سے بھری شخصیت ہے جو نسوانی توانائی کی تلاش میں ہے۔ وہ ہر وہ چیز چاہتی ہے جو اسے نہیں ملی۔ لیکن مگر جب اسے ایک بظاہر مکمل زندگی ملتی ہے تو وہ دراصل نامکمل ثابت ہوتی ہے۔ وہ بار بار تکلیف اور پچھتاوے کے دائرے میں پھنس جاتی ہے لیکن آخرکار وہ خود پر توجہ دینا اور اپنے آپ سے صلح کرنا سیکھ جاتی ہے۔

فريدہ ایک منفرد کردار ہے جو دوسروں کے درد کو محسوس کرتی ہے لیکن اپنے درد سے بے خبر رہتی ہے۔ وہ دوسروں کی نجات کا ذریعہ بننا چاہتی ہے۔ لیکن خود اپنے جذبات یعی خوف اور غصے کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا سفر گویا نجات کا سفر ہے جہاں وہ اپنے بوجھ کو کم کرتی ہے اور اپنی ذات کو پہچانتی ہے۔

یہ تمام کہانیاں پول ڈانس اسٹوڈیو میں آ کر مل جاتی ہیں۔ یہاں یہ عورتیں درد اور امید کے رقص کرتی ہیں۔ ان کا رقص محض جسمانی حرکت نہیں بلکہ اپنے زخموں کو باہر نکالنے اور اپنی امیدوں کو پورا کرنے کا اظہار ہے ۔ یہ جگہ ان کے لیے ایک محفوظ دائرہ بن جاتی ہے، جہاں وہ خود کو بغیر کسی خوف کے دیکھ سکتی ہیں۔

ناول میں راوی کی آواز بھی نہایت اہم ہے۔ یہ آواز کبھی ایک مبصر کی طرح نظر آتی ہے اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود بھی ان کہانیوں کا حصہ ہے۔ وہ ہر کردار کے درد کو محسوس کرتی ہے، اور قاری کو بھی اس درد میں شریک کر دیتی ہے۔ اس طرح قاری صرف کہانی پڑھتا نہیں بلکہ اسے جیتا ہے۔

دراما كوين محض چھ عورتوں کی کہانی نہیں بلکہ ایک اجتماعی تجربہ ہے۔ ایسا تجربہ جو دکھاتا ہے کہ عورتوں کے زخم انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہیں۔ اگر وہ خود کو قبول کرنا سیکھ لیں تو ان کی شفا ممکن ہے۔


اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:

القدس العربی: دراما كوين والخروج من بين الجدران

مکتبہ المصریہ اللبنانیہ: دراما کوین