مصنوعی ذہانت تدریس کو بدل رہی ہے
ماہرین کو خدشہ ہے کہ یونیورسٹیاں تعلیمی فائدے کی وجہ سے نہیں بلکہ پیچھے رہ جانے کے خوف کی وجہ سے اے آئی کو اپنا رہی ہیں
مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی تجربہ گاہوں تک محدود نہیں رہی بلکہ تیزی سے کلاس رومز، یونیورسٹیوں اور طلبہ کی تعلیمی زندگی کا حصہ بنتی جارہی ہے۔ چند برس پہلے تک اساتذہ اور تعلیمی ادارے چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کو نقل، سستی اور تعلیمی دیانت کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، لیکن اب صورتحال بدل رہی ہے۔ امریکا کی بڑی یونیورسٹیاں اور آن لائن تعلیمی پلیٹ فارمز اے آئی کو نہ صرف قبول کررہے ہیں بلکہ اسے تدریس کا مرکزی ستون بنانے کی تیاری بھی کررہے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق خان اکیڈمی کے بانی سلمان خان نے ابتدا میں اوپن اے آئی کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا تھا کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ مصنوعی ذہانت غلط معلومات، تعصبات اور ناقص تعلیم کو فروغ دے سکتی ہے۔ لیکن جب انھیں جی پی ٹی 4 کا ابتدائی ورژن دکھایا گیا تو وہ حیران رہ گئے۔ یہ سسٹم نہ صرف سوالوں کے جواب دے رہا تھا بلکہ یہ بھی سمجھا رہا تھا کہ جواب تک کیسے پہنچا گیا۔ سلمان خان کو احساس ہوا کہ اگر تعلیم نے اس ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کیا تو روایتی تعلیمی ماڈل پیچھے رہ جائے گا۔
اسی سوچ کے تحت "خانمیگو" وجود میں آیا، جو ایک اے آئی ٹیوٹر ہے۔ اس کا مقصد صرف جواب دینا نہیں بلکہ طلبہ کو سوچنے، سوال کرنے اور مرحلہ وار مسئلہ حل کرنے کی طرف لے جانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق خان اکیڈمی کی ٹیم نے کوشش کی کہ اے آئی استاد کی طرح برتاؤ کرے، یعنی فوراً جواب نہ دے بلکہ طالب علم کو رہنمائی فراہم کرے۔ اس مقصد کے لیے پرامپٹنگ اور کانٹیکسٹ اسٹفنگ جیسی نئی تکنیکیں استعمال کی گئیں تاکہ چیٹ بوٹ ہر طالب علم کے تعلیمی پس منظر اور کمزوریوں کو سمجھ کر بات کرسکے۔
بلومبرگ کے مطابق امریکی جامعات بھی تیزی سے چیٹ جی پی ٹی کو اختیار کررہی ہیں۔ اوپن اے آئی 35 سرکاری جامعات کو سات لاکھ سے زیادہ چیٹ جی پی ٹی لائسنس فروخت کرچکی ہے۔ صرف ستمبر 2025 میں طلبہ اور اساتذہ نے چیٹ جی پی ٹی کو 14 ملین سے زیادہ بار استعمال کیا۔ یہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ اے آئی اب تعلیمی نظام کے کنارے پر نہیں بلکہ اس کے مرکز میں داخل ہوچکی ہے۔
کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی سسٹم نے اوپن اے آئی کو سالانہ ڈیھ کروڑ ڈالر ادا کرکے پانچ لاکھ طلبہ اور ملازمین کے لیے چیٹ جی پی ٹی کو فراہم کیا۔ یونیورسٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ادارے طلبہ کو اے آئی سے دور رکھنے کی کوشش کریں گے تو وہ خفیہ طور پر اسے استعمال کرتے رہیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اسے باضابطہ طور پر تعلیم کا حصہ بنایا جائے اور اس کے استعمال کے اصول مقرر کیے جائیں۔
ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی کی نائب صدر این جونز کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی سے الگ رہنے کا کوئی آپشن نہیں ہوگا۔ آج کے آجر ایسے افراد چاہتے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنا جانتے ہوں۔ اس سوچ نے تعلیمی اداروں کو مجبور کردیا ہے کہ وہ طلبہ کو صرف روایتی مضامین نہ پڑھائیں بلکہ اے آئی کے ساتھ کام کرنا بھی سکھائیں۔
اس دوڑ میں ایک خوف بھی شامل ہے۔ بلومبرگ کے مطابق بعض ماہرین کو خدشہ ہے کہ یونیورسٹیاں تعلیمی فائدے کی وجہ سے نہیں بلکہ پیچھے رہ جانے کے خوف کی وجہ سے اے آئی کو اپنا رہی ہیں۔ بوڈوئن کالج کے پروفیسر ایرک چاؤن کے مطابق ابھی تک اس بات کے واضح ثبوت موجود نہیں کہ اے آئی واقعی طلبہ کو بہتر انداز میں سکھا رہی ہے۔ ان کے خیال میں یہ انتظامی کام آسان بناسکتی ہے، لیکن حقیقی تدریس میں اس کی افادیت ابھی ثابت نہیں۔
بہرحال آنے والے برسوں میں کلاس روم مکمل طور پر بدلتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ہر طالب علم کے پاس ذاتی اے آئی معاون ہو جو اس کی رفتار، دلچسپی اور کمزوریوں کے مطابق اسے پڑھائے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود رہے گا کہ طلبہ خود سوچنے کے بجائے مشین پر زیادہ انحصار نہ کرنے لگیں۔ اسی لیے اصل سوال یہ نہیں کہ اے آئی تعلیم کو کس قدر بدلے گی، بلکہ یہ ہے کہ انسان اسے کس حد تک قابو میں رکھ پائے گا۔
اس بارے میں مزید جاننے کے لیے ان لنکس پر کلک کریں:
New York Times: OpenAI and Khan Academy Made a Chatbot. What Can We Learn?
Bloomberg: OpenAI Inks Deals With Colleges, Seizing Early Lead in Education Market